کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ام کلثوم بنت ام سلمہ کی اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَحَدَّثَنَا الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ، قَالُوا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: لَمَّا دَخَلَ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ لِلنَّجَاشِيِّ مِسْكًا وَحُلَّةً وَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ مَاتَ، وَلَا أَرَى هَدِيَّتِي إِلَّا سَتُرَدُّ إِلَيَّ» ، قَالَتْ: وَكَانَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَاهُ نِسَاءَهُ أُوقِيَّةً، وَأَعْطَانِي سَائِرَ الْمِسْكِ وَالْحُلَّةَ
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے رخصت کر کے اپنے گھر لایا تو فرمایا: ”اے ام سلمہ! میں نے نجاشی کو مشک اور ایک جوڑا کپڑوں کا بطور ہدیہ بھیجا تھا، اور میرا خیال ہے کہ وہ فوت ہو چکے ہیں، اور میرا خیال ہے کہ میرا ہدیہ مجھے واپس مل جائے گا۔“ فرماتی ہیں: اور ایسا ہی ہوا جیسا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا، تو آپ ﷺ نے اپنی ازواج میں سے ہر ایک کو ایک اوقیہ مشک دیا، اور مجھے باقی مشک اور وہ جوڑا عطا فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ قُمْتُ أُرِيدُ الْبُكَاءَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَاعِلَةٌ مَاذَا؟» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَبْكِي عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَفْعَلِي فَإِنَّ لِأَهْلِ الْمَيِّتِ عِنْدَ مَوْتِ مَيِّتِهِمْ مَا دَعَوْا بِهِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس موجود تھے، تو میں ان پر رونے کے لیے کھڑی ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا کرنے لگی ہو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ابوسلمہ پر رو رہی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، کیونکہ میت کے گھر والے جو بھی دعا کرتے ہیں وہ انہیں اس وقت مل جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَبْكِي عَلَى أَبِي سَلَمَةَ؟ فَقَالَ: «لَا تَفْعَلِي، فَإِنَّ لِأَهْلِ الْمَيِّتِ عِنْدَ مَيِّتِهِمْ مَا دَعَوْا بِهِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: (میں نے عرض کیا:) یا رسول اللہ! کیا میں ابوسلمہ پر روؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، کیونکہ میت کے گھر والے جو بھی دعا کرتے ہیں وہ انہیں مل جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْأَسَدِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ تَهَيَّأْتُ أَنْ أَبْكِيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَاعِلَةٌ مَاذَا؟» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَبُو سَلَمَةَ أَبْكِي عَلَيْهِ، فَقَالَ: «لَا تَفْعَلِي، فَإِنَّ لِأَهْلِ الْمَيِّتِ عِنْدَ مَيِّتِهِمْ مَا دَعَوْا بِهِ»
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: جب سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے رونے کی تیاری کی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا کرنے لگی ہو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوسلمہ پر رو رہی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، کیونکہ میت کے گھر والے جو بھی دعا کرتے ہیں وہ انہیں مل جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّ جَدَّتَهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَتْ إِلَيْهَا مِخْضَبًا مِنْ صُفْرٍ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ فِيهِ» . قَالَ طَلْحَةُ: وَكَانَ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ أَوْ أَقَلَّ "
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی پوتی بیان کرتی ہیں کہ ان کی دادی، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں پیتل کا ایک برتن دیا اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ اسی میں غسل فرماتے تھے۔“ راوی طلحہ کہتے ہیں: وہ تقریباً ایک صاع یا اس سے کچھ کم کا تھا۔