المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عاصم مولى بني جمح، عن زينب، عن أم سلمة باب: عاصم، بنو جمح کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے واسطے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا جُنَادَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَاصِمٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَوْ عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَدْعُوَ وَنَقُولَ: «اللهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَا شَيْءَ قَبْلَكَ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَا شَيْءَ بَعْدَكَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ، وَعَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الْغِنَى وَفِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ، اللهُمَّ نَقِّ قَلْبِي مِنَ الْمَأْثَمِ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطِيئَتِي كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ»سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم یہ دعا مانگیں: ”اے اللہ! تو اول ہے، تجھ سے پہلے کچھ نہیں، اور تو آخر ہے، تیرے بعد کچھ نہیں، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر اس چلنے والی مخلوق کے شر سے جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور سستی سے، آگ کے عذاب، قبر کے عذاب، مالداری کے فتنے اور محتاجی کے فتنے سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض سے۔ اے اللہ! میرے دل کو گناہ سے اس طرح صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے، اور میرے اور میری خطا کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان کی ہے۔“