المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عروة بن الزبير، عن أم سلمة باب: عروہ بن زبیر کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: ذَكَرْتُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ لَيْلَةً فَلَمْ يَأْتِنِي النَّوْمُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «لَا تَفْعَلِي، فَإِنَّهُ إِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ يَكْفِكُمُ اللهُ بِي، وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدَ أَنْ أَمُوتَ يَكْفِكُمُوهُ بِالصَّالِحِينَ» ثُمَّ قَامَ، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: «مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ حَذَّرَهُ أُمَّتَهُ، وَأَنَا أُحَذِّرُكُمُوهُ، إِنَّهُ أَعْوَرُ، وَإِنَّ اللهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، أَلَا إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ»سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک رات میں نے مسیح دجال کا ذکر کیا تو مجھے نیند نہ آئی، پھر جب صبح ہوئی تو میں صبح سویرے رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی اور آپ ﷺ کو یہ بات بتائی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، اگر وہ میری موجودگی میں نکلا تو اللہ میرے ذریعے تمہاری کفایت فرمائے گا، اور اگر وہ میرے مرنے کے بعد نکلا تو اللہ نیک لوگوں کے ذریعے تمہاری کفایت فرمائے گا۔“ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور دجال کا ذکر کیا، فرمایا: ”کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو اس سے خبردار نہ کیا ہو، اور میں تمہیں اس سے خبردار کرتا ہوں، بے شک وہ کانا ہے، اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے، خبردار! مسیح دجال کی آنکھ گویا ابھری ہوئی انگور کے دانے کی طرح ہے۔“