کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا، رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی، آپ ﷺ کی زندگی ہی میں وفات پا گئیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَعْيَنَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَادِ ثنا زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَبْسِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ قَالَ: " كَانَتْ رُقْيَةُ عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: " {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ} [المسد: ١] سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُتْبَةَ طَلَاقَ رُقْيَةَ، وَسَأَلَتْهُ رُقْيَةُ ذَلِكَ فَطَلَّقَهَا فَتَزَوَّجَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رُقْيَةَ وَتُوُفِّيَتْ عِنْدَهُ "
ترجمہ
قتادہ بن دعامہ بیان کرتے ہیں: سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا عتبہ بن ابی لہب کے نکاح میں تھیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے“ [سورۃ المسد: 1] تو نبی کریم ﷺ نے عتبہ سے سیدہ رقیہ کو طلاق دینے کا مطالبہ کیا، اور سیدہ رقیہ نے بھی خود اس کا مطالبہ کیا، چنانچہ اس نے انہیں طلاق دے دی۔ پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سیدہ رقیہ سے نکاح کیا اور وہ انہی کے نکاح میں وفات پا گئیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَ: وَكَانَتْ رُقْيَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، فَفَارَقَهَا فَتَزَوَّجَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رُقْيَةَ بِمَكَّةَ، وَهَاجَرَتْ مَعَهُ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ فَوَلَدَتْ لَهُ عَبْدَ اللهِ بِهِ كَانَ يُكَنَّى، وَقَدِمَتْ مَعَهُ الْمَدِينَةَ، وَتَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ عَلَيْهَا بِإِذْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ سُهْمَانِ أَهْلِ بَدْرٍ، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «وَأَجْرُكَ»
ترجمہ
…اور وہ (عثمان رضی اللہ عنہ) رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے ان (رقیہ) کی تیمارداری کے لیے بدر میں شریک نہ ہو سکے، مگر رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بھی اہلِ بدر کے حصوں میں سے حصہ مقرر فرمایا۔ (راوی کہتے ہیں) انہوں نے عرض کیا: اور مجھے بھی اجر ملے گا، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، تمہیں بھی اجر ملے گا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، ثنا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: «تُوُفِّيَتْ رُقْيَةُ يَوْمَ جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُشْرَى بَدْرٍ» ،
ترجمہ
زہری بیان کرتے ہیں: سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال اسی دن ہوا جس دن رسول اللہ ﷺ کے غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بدر کی خوشخبری لے کر آئے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: «تَخَلَّفَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ بَدْرٍ، عَلَى امْرَأَتِهِ رُقْيَةَ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ هَكَذَا فِي كِتَابِهِ»
ترجمہ
ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا (کی تیمارداری) کی وجہ سے بدر میں شریک نہ ہو سکے۔ پھر (راوی نے) یہی واقعہ اپنی کتاب میں اسی طرح ذکر کیا۔