❮
❯
حدیث نمبر: 19260
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَ: وَكَانَتْ رُقْيَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، فَفَارَقَهَا فَتَزَوَّجَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رُقْيَةَ بِمَكَّةَ، وَهَاجَرَتْ مَعَهُ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ فَوَلَدَتْ لَهُ عَبْدَ اللهِ بِهِ كَانَ يُكَنَّى، وَقَدِمَتْ مَعَهُ الْمَدِينَةَ، وَتَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ عَلَيْهَا بِإِذْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ سُهْمَانِ أَهْلِ بَدْرٍ، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «وَأَجْرُكَ»
ترجمہ

زبیر بن بکار رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدہ رقیہ بنت رسول اللہ ﷺ عتبہ بن ابی لہب کے نکاح میں تھیں، تو اس نے انہیں چھوڑ دیا، پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مکہ میں سیدہ رقیہ سے نکاح کیا، اور وہ ان کے ساتھ حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کر گئیں، تو ان کے ہاں عبداللہ پیدا ہوئے جن کی نسبت سے وہ کنیت پاتے تھے، اور وہ ان کے ساتھ مدینہ آئیں، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی اجازت سے ان کی تیمارداری کے لیے بدر میں شریک نہ ہو سکے، مگر رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بھی اہلِ بدر کے حصوں میں سے حصہ مقرر فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا: اور مجھے بھی اجر ملے گا، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، تمہیں بھی اجر ملے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19260
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 434، حدیث 1057