حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ حَبِيبٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ»
ترجمہ
سیدنا ابوشریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے، اور جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَعْدٍ: أَنَّ أَبَا شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ»
ترجمہ
سیدنا ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے، اور جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ»
ترجمہ
سیدنا ابوشریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“
حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ، ثنا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ قَالَ: ذَكَرَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ»
ترجمہ
سیدنا ابوشریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيُّ: أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أَنْ أُحَدِّثُكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، أَنَّهُ حَمِدَ اللهَ، وَأثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدُ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِهَذَا مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ، إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا، وَلَا فَارًّا بِدَمٍ، وفَارًّا بِخَرْبَةٍ
ترجمہ
سیدنا ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے، جو مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا، کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپ کو وہ بات سناؤں جو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمائی تھی، اسے میرے کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد رکھا، اور میری آنکھوں نے اسے دیکھا جب آپ ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”بے شک مکہ کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے، لوگوں نے اسے حرام نہیں کیا، اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ یہاں خون بہائے، اور نہ یہاں کا کوئی درخت کاٹے۔ پس اگر کوئی رسول اللہ ﷺ کے (یہاں) لڑنے کو جواز بنائے تو اس سے کہو: اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی، تمہیں اجازت نہیں دی، اور مجھے بھی صرف دن کی ایک گھڑی کے لیے اجازت دی گئی تھی، اور آج اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی ہے جیسے کل تھی۔ لہٰذا حاضر شخص غائب کو یہ بات پہنچا دے۔“ پھر ابوشریح رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: عمرو نے آپ کو کیا جواب دیا؟ انہوں نے کہا: اس نے کہا: اے ابوشریح! میں اس بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہوں، حرم نہ کسی نافرمان کو پناہ دیتا ہے، نہ کسی خون کے مجرم بھگوڑے کو، اور نہ کسی چوری کے مجرم بھگوڑے کو۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، بَعَثَهُ إِلَى مَكَّةَ، يَغْزُو ابْنَ الزُّبَيْرِ أَتَاهُ أَبُو شُرَيْحٍ فَكَلَّمَهُ فَأَخْبَرَهُ بِمَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى نَادِي قَوْمِهِ فَجَلَسَ فِيهِ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَ قَوْمَهُ كَمَا حَدَّثَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَبُو شُرَيْحٍ:: فَقُلْتُ: يَا هَذَا، إِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ مَكَّةَ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ عَدَتْ خُزَاعَةُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَقَتَلُوهُ وَهُوَ مُشْرِكٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ حَرَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهِيَ حَرَامٌ مِنْ حُرُمِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرًا لَمْ تُحَلَّلْ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَلَا تُحَلَّلْ لِأَحَدٍ يَكُونُ بَعْدِي، وَلَمْ تُحَلَّلْ لِي إِلَّا هَذِهِ السَّاعَةَ غَضَبًا عَلَى أَهْلِهَا إِلَّا، ثُمَّ رَجَعَتْ حُرْمَتُهَا كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ، فَمَنْ قَالَ لَكُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ بِهَا، فَقُولُوا: إِنَّ اللهَ أَحَلَّهَا لِرَسُولِهِ وَلَمْ يُحِلِّهَا لَكُمْ يَا مَعْشَرَ خُزَاعَةَ، فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ عَنِ الْقَتْلِ، فَقَدْ كَبِرَ أَنْ يَقَعَ، لَقَدْ قَتَلْتُمْ قَتِيلًا لَأَدِيَنَّهُ، فَمَنْ قَتَلَ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا فَأَهْلُهُ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شَاءُوا افْتَدَوْا بِقَاتِلِهِ، وَإِنْ شَاءُوا بِعَقْلِهِ " ثُمَّ أَدَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الرَّجُلِ الَّذِي قُتِلَ مِنْ هُذَيْلٍ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ النُّفَيْلِيِّ
ترجمہ
سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عمرو بن سعید بن العاص نے لشکر روانہ کیا اور اسے ابن زبیر سے لڑنے کے لیے مکہ بھیجا تو ابو شریح رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے اور اس سے بات کی، اور اسے وہ بات بتائی جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی۔ پھر وہ اپنی قوم کی مجلس کی طرف نکلے اور اس میں بیٹھ گئے، تو میں (راوی) بھی ان کے پاس اٹھ کر گیا اور ان کے ساتھ بیٹھ گیا، تو انہوں نے اپنی قوم کو بھی وہی بات بتائی جو عمرو بن سعید کو بتائی تھی۔ ابو شریح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے یہ شخص! ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے جب آپ ﷺ نے مکہ فتح کیا، تو فتح کے دوسرے دن قبیلہ خزاعہ نے قبیلہ ہذیل کے ایک آدمی پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا، حالانکہ وہ مشرک تھا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! اللہ نے مکہ کو اسی دن سے حرام قرار دیا ہے جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، پس یہ اللہ کی حرمتوں میں سے ایک حرمت ہے، قیامت کے دن تک۔ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ یہاں خون بہائے، اور نہ یہاں کا کوئی درخت کاٹے۔ یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کی گئی، اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال کی جائے گی، اور مجھے بھی صرف اسی گھڑی کے لیے حلال کی گئی، اس کے اہل پر غصے کی وجہ سے، پھر اس کی حرمت پھر لوٹ آئی جیسے کل تھی۔ لہٰذا تم میں سے حاضر شخص غائب کو یہ بات پہنچا دے۔ پس جو تم سے کہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں جنگ کی تھی، تو کہو: اللہ نے اسے اپنے رسول کے لیے حلال کیا تھا، تمہارے لیے حلال نہیں کیا، اے خزاعہ کی جماعت! اپنے ہاتھ قتل سے روک لو، یہ بہت بڑا معاملہ بن چکا ہے۔ تم نے ایک آدمی کو قتل کیا ہے، میں ضرور اس کی دیت ادا کروں گا۔ پس اس کے بعد جو کوئی قتل کرے تو اس کے ورثاء کو دو باتوں میں سے بہتر کا اختیار ہے: اگر چاہیں تو قاتل سے بدلہ لیں، اور اگر چاہیں تو دیت لے لیں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کی دیت ادا کی جو ہذیل سے قتل ہوا تھا۔ (یہ الفاظ نفیلی کی روایت کے ہیں۔)
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ لِمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ لَا يَسْفِكُ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدُ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنِ ارْتَخَصَ بِهَا أَحَدٌ، فَقَالَ: أُحِلَّتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ اللهَ أَحَلَّهَا لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَلَمْ يُحِلِّهَا لِأَحَدٍ غَيْرِي، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، يَا خُزَاعَةُ: إِنَّكُمْ قَتَلْتُمْ هَذَا الْقَتِيلَ مِنْ هُذَيْلٍ وَأَنَا وَاللهِ عَاقِلُهُ فَمَنْ قَتَلَ بِهَا قَتِيلًا بَعْدَ هَذَا فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ: إِنْ أَحَبُّوا قَتَلُوا، وَإِنْ أَحَبُّوا أَخَذُوا الدِّيَةَ "
ترجمہ
سیدنا ابو شریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے مکہ کو حرام قرار دیا ہے، لوگوں نے اسے حرام نہیں کیا، پس جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ یہاں خون بہائے اور نہ یہاں کا کوئی درخت کاٹے۔ پس اگر کوئی اسے جائز سمجھے اور کہے کہ نبی ﷺ کے لیے حلال کی گئی تھی، تو (جان لو کہ) اللہ نے اسے صرف دن کی ایک گھڑی کے لیے میرے لیے حلال کیا، اور میرے سوا کسی کے لیے حلال نہیں کیا۔ پھر یہ پہلے کی طرح حرام ہے۔ اے خزاعہ! تم نے اس مقتول کو ہذیل میں سے قتل کیا ہے، اور اللہ کی قسم میں ہی اس کی دیت ادا کرنے والا ہوں۔ پس اس کے بعد جو کوئی یہاں کسی کو قتل کرے تو اس کے ورثاء دو باتوں میں سے کسی ایک کے مختار ہیں: اگر چاہیں تو قتل کریں، اور اگر چاہیں تو دیت لے لیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالُوا: ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «وَاللهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللهِ لَا يُؤْمِنُ» قَالُوا: وَمَنْ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «الْجَارُ لَا يَأْمَنْ جَارَهُ بَوَائِقَهُ» قَالُوا: وَمَا بَوَائِقُهُ؟ قَالَ: «شَرُّهُ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ عَلِيٍّ
ترجمہ
سیدنا ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! وہ ایمان نہیں لایا، اللہ کی قسم! وہ ایمان نہیں لایا، اللہ کی قسم! وہ ایمان نہیں لایا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جس کا پڑوسی اس کی برائیوں سے محفوظ نہ ہو۔“ صحابہ نے عرض کیا: اس کی برائیاں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا شر۔“ (یہ الفاظ عاصم بن علی کی روایت کے ہیں۔)
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي شُرَيْحِ بْنِ عَمْرٍو الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الصُّعُدَاتِ، فَمَنْ جَلَسَ مِنْكُمُ الصُّعُدَ فَلْيُعْطِهَا حَقَّهَا» ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ: «غَضُّ الْبَصَرِ، وَرَدُّ التَّحِيَّةِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ»
ترجمہ
سیدنا ابو شریح بن عمرو خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”راستوں پر بیٹھنے سے بچو، پھر بھی اگر تم میں سے کوئی راستے پر بیٹھے تو اس کا حق ادا کرے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نگاہ نیچی رکھنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا، اور برائی سے روکنا۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابو شریح رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَيُّوبَ الْمَدِينِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْإِمَامُ جُنَّةٌ، فَإِنْ أَتَمَّ فَلَكُمْ، وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيْهِ النُّقْصَانُ، وَلَكُمُ التَّمَامُ»
ترجمہ
سیدنا ابو شریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”امام ڈھال ہے، اگر وہ نماز پوری کرے تو تمہارے لیے ہے، اور اگر وہ کمی کرے تو کمی کا وبال اسی پر ہے اور مکمل ہونا تمہارے لیے ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَبْشِرُوا، أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ؟» قَالُوا: بَلَى قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ سَبَبٌ طَرَفَهُ بِيَديِ اللهِ، وَطَرَفَهُ بِأَيْدِيكُمْ فَتَمَسَّكُوا بِهِ فَإِنَّكُمْ لَنْ تَضِلُّوا، وَلَنْ تَهْلَكُوا بَعْدَهُ أَبَدًا»
ترجمہ
سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”خوش ہو جاؤ! کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک یہ قرآن ایک رسی ہے جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے، سو اسے مضبوطی سے تھامے رکھو، تم اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے، اور کبھی ہلاک نہیں ہو گے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَسَوِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ أَبُو مُسْلِمٍ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَاذَا يَرْجُو الْجَارُ مِنْ جَارِهِ إِذَا لَمْ يَرْفَعْ لَهُ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پڑوسی اپنے پڑوسی سے کیا امید رکھے گا جب وہ اسے اپنی دیوار میں اپنی لکڑی رکھنے تک نہ دے؟“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ الْأَغَرِّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخُو فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ»
ترجمہ
سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے ظلماً زمین کا ایک بالشت بھی لیا، قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔“