المعجم الكبير للطبراني
باب الهاء— حرف ہا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو سعيد هو سعيد بن أبي سعيد المقبري باب: ابوسعید، یہی سعید بن ابی سعید مقبری ہیں
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، بَعَثَهُ إِلَى مَكَّةَ، يَغْزُو ابْنَ الزُّبَيْرِ أَتَاهُ أَبُو شُرَيْحٍ فَكَلَّمَهُ فَأَخْبَرَهُ بِمَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى نَادِي قَوْمِهِ فَجَلَسَ فِيهِ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَ قَوْمَهُ كَمَا حَدَّثَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَبُو شُرَيْحٍ:: فَقُلْتُ: يَا هَذَا، إِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ مَكَّةَ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ عَدَتْ خُزَاعَةُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَقَتَلُوهُ وَهُوَ مُشْرِكٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ حَرَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهِيَ حَرَامٌ مِنْ حُرُمِ اللهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرًا لَمْ تُحَلَّلْ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَلَا تُحَلَّلْ لِأَحَدٍ يَكُونُ بَعْدِي، وَلَمْ تُحَلَّلْ لِي إِلَّا هَذِهِ السَّاعَةَ غَضَبًا عَلَى أَهْلِهَا إِلَّا، ثُمَّ رَجَعَتْ حُرْمَتُهَا كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ، فَمَنْ قَالَ لَكُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ بِهَا، فَقُولُوا: إِنَّ اللهَ أَحَلَّهَا لِرَسُولِهِ وَلَمْ يُحِلِّهَا لَكُمْ يَا مَعْشَرَ خُزَاعَةَ، فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ عَنِ الْقَتْلِ، فَقَدْ كَبِرَ أَنْ يَقَعَ، لَقَدْ قَتَلْتُمْ قَتِيلًا لَأَدِيَنَّهُ، فَمَنْ قَتَلَ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا فَأَهْلُهُ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِنْ شَاءُوا افْتَدَوْا بِقَاتِلِهِ، وَإِنْ شَاءُوا بِعَقْلِهِ " ثُمَّ أَدَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الرَّجُلِ الَّذِي قُتِلَ مِنْ هُذَيْلٍ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ النُّفَيْلِيِّسیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عمرو بن سعید بن العاص نے لشکر روانہ کیا اور اسے ابن زبیر سے لڑنے کے لیے مکہ بھیجا تو ابو شریح رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے اور اس سے بات کی، اور اسے وہ بات بتائی جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی۔ پھر وہ اپنی قوم کی مجلس کی طرف نکلے اور اس میں بیٹھ گئے، تو میں (راوی) بھی ان کے پاس اٹھ کر گیا اور ان کے ساتھ بیٹھ گیا، تو انہوں نے اپنی قوم کو بھی وہی بات بتائی جو عمرو بن سعید کو بتائی تھی۔ ابو شریح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے یہ شخص! ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے جب آپ ﷺ نے مکہ فتح کیا، تو فتح کے دوسرے دن قبیلہ خزاعہ نے قبیلہ ہذیل کے ایک آدمی پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا، حالانکہ وہ مشرک تھا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! اللہ نے مکہ کو اسی دن سے حرام قرار دیا ہے جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، پس یہ اللہ کی حرمتوں میں سے ایک حرمت ہے، قیامت کے دن تک۔ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ یہاں خون بہائے، اور نہ یہاں کا کوئی درخت کاٹے۔ یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کی گئی، اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال کی جائے گی، اور مجھے بھی صرف اسی گھڑی کے لیے حلال کی گئی، اس کے اہل پر غصے کی وجہ سے، پھر اس کی حرمت پھر لوٹ آئی جیسے کل تھی۔ لہٰذا تم میں سے حاضر شخص غائب کو یہ بات پہنچا دے۔ پس جو تم سے کہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں جنگ کی تھی، تو کہو: اللہ نے اسے اپنے رسول کے لیے حلال کیا تھا، تمہارے لیے حلال نہیں کیا، اے خزاعہ کی جماعت! اپنے ہاتھ قتل سے روک لو، یہ بہت بڑا معاملہ بن چکا ہے۔ تم نے ایک آدمی کو قتل کیا ہے، میں ضرور اس کی دیت ادا کروں گا۔ پس اس کے بعد جو کوئی قتل کرے تو اس کے ورثاء کو دو باتوں میں سے بہتر کا اختیار ہے: اگر چاہیں تو قاتل سے بدلہ لیں، اور اگر چاہیں تو دیت لے لیں۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کی دیت ادا کی جو ہذیل سے قتل ہوا تھا۔ (یہ الفاظ نفیلی کی روایت کے ہیں۔)