المعجم الكبير للطبراني
باب الهاء— حرف ہا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو سعيد هو سعيد بن أبي سعيد المقبري باب: ابوسعید، یہی سعید بن ابی سعید مقبری ہیں
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ لِمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ لَا يَسْفِكُ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدُ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنِ ارْتَخَصَ بِهَا أَحَدٌ، فَقَالَ: أُحِلَّتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ اللهَ أَحَلَّهَا لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَلَمْ يُحِلِّهَا لِأَحَدٍ غَيْرِي، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، يَا خُزَاعَةُ: إِنَّكُمْ قَتَلْتُمْ هَذَا الْقَتِيلَ مِنْ هُذَيْلٍ وَأَنَا وَاللهِ عَاقِلُهُ فَمَنْ قَتَلَ بِهَا قَتِيلًا بَعْدَ هَذَا فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ: إِنْ أَحَبُّوا قَتَلُوا، وَإِنْ أَحَبُّوا أَخَذُوا الدِّيَةَ "سیدنا ابو شریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے مکہ کو حرام قرار دیا ہے، لوگوں نے اسے حرام نہیں کیا، پس جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ یہاں خون بہائے اور نہ یہاں کا کوئی درخت کاٹے۔ پس اگر کوئی اسے جائز سمجھے اور کہے کہ نبی ﷺ کے لیے حلال کی گئی تھی، تو (جان لو کہ) اللہ نے اسے صرف دن کی ایک گھڑی کے لیے میرے لیے حلال کیا، اور میرے سوا کسی کے لیے حلال نہیں کیا۔ پھر یہ پہلے کی طرح حرام ہے۔ اے خزاعہ! تم نے اس مقتول کو ہذیل میں سے قتل کیا ہے، اور اللہ کی قسم میں ہی اس کی دیت ادا کرنے والا ہوں۔ پس اس کے بعد جو کوئی یہاں کسی کو قتل کرے تو اس کے ورثاء دو باتوں میں سے کسی ایک کے مختار ہیں: اگر چاہیں تو قتل کریں، اور اگر چاہیں تو دیت لے لیں۔“