حدیث نمبر: 18704
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيُّ: أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أَنْ أُحَدِّثُكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، أَنَّهُ حَمِدَ اللهَ، وَأثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدُ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ " فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِهَذَا مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ، إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا، وَلَا فَارًّا بِدَمٍ، وفَارًّا بِخَرْبَةٍ
ترجمہ

سیدنا ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے، جو مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا، کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپ کو وہ بات سناؤں جو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمائی تھی، اسے میرے کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد رکھا، اور میری آنکھوں نے اسے دیکھا جب آپ ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”بے شک مکہ کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے، لوگوں نے اسے حرام نہیں کیا، اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ یہاں خون بہائے، اور نہ یہاں کا کوئی درخت کاٹے۔ پس اگر کوئی رسول اللہ ﷺ کے (یہاں) لڑنے کو جواز بنائے تو اس سے کہو: اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی، تمہیں اجازت نہیں دی، اور مجھے بھی صرف دن کی ایک گھڑی کے لیے اجازت دی گئی تھی، اور آج اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی ہے جیسے کل تھی۔ لہٰذا حاضر شخص غائب کو یہ بات پہنچا دے۔“ پھر ابوشریح رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: عمرو نے آپ کو کیا جواب دیا؟ انہوں نے کہا: اس نے کہا: اے ابوشریح! میں اس بارے میں تم سے زیادہ جانتا ہوں، حرم نہ کسی نافرمان کو پناہ دیتا ہے، نہ کسی خون کے مجرم بھگوڑے کو، اور نہ کسی چوری کے مجرم بھگوڑے کو۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الهاء / حدیث: 18704
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 185، حدیث 484