کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: جن کا نام ہشام ہے — سیدنا ہشام بن حکیم بن حزام بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک رضی اللہ عنہ، اجنادین (ملکِ شام) میں شہید ہوئے
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَبْتَدِئُ الْأَعْمَالَ أَمْ قَدْ قُضِيَ الْقَضَاءُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ أَخَذَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ مِنْ ظَهْرِهِ، ثُمَّ أَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمِ، ثُمَّ أَفَاضَ بِهِمْ فِي كِفَّةٍ، فَقَالَ: هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ، فَأَهَلُّ الْجَنَّةِ مُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ مُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ "
ترجمہ
سیدنا ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم نئے سرے سے عمل کرتے ہیں یا تقدیر پہلے ہی لکھی جا چکی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا، پھر انہیں اپنے آپ پر گواہ بنایا، پھر انہیں دو پلڑوں میں ڈال دیا اور فرمایا: یہ جنت میں ہیں اور یہ جہنم میں۔ چنانچہ جنتیوں کے لیے جنتیوں کے عمل آسان کر دیے گئے، اور جہنمیوں کے لیے جہنمیوں کے عمل آسان کر دیے گئے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ السَّمَيْدَعِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمٍ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنْبَتَدِئُ الْأَعْمَالَ أَوْ قَدْ قُضِيَ الْقَضَاءُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ أَخَذَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ مِنْ ظَهْرِهِ، ثُمَّ أَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى، ثُمَّ أَفَاضَ فِي كِفَّةٍ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ، أَمَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَمُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَمُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ "
ترجمہ
سیدنا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم نئے سرے سے عمل کرتے ہیں یا تقدیر پہلے ہی لکھی جا چکی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا، پھر انہیں اپنے آپ پر گواہ بناتے ہوئے فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ پھر انہیں پلڑے میں ڈال دیا اور فرمایا: یہ جنت میں ہیں اور یہ جہنم میں۔ چنانچہ جنتیوں کے لیے جنتیوں کے عمل آسان کر دیے گئے، اور جہنمیوں کے لیے جہنمیوں کے عمل آسان کر دیے گئے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلَ هِشَامُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَلَى عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ بِالشَّامِ، وَكَانَ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَوَجَدَ عِنْدَهُ نَاسًا مِنَ النَّبَطِ مُشَمَّسِينَ، فَقَالَ: مَا بَالُ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: حَبَسَتْهُمْ فِي الْجِزْيَةِ. فَقَالَ هِشَامٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ الَّذِي يُعَذَّبُ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا يُعَذِّبُهُ اللهُ فِي الْآخِرَةِ» ، فَخَلَّى عَنْهُمْ عُمَيْرٌ وَتَرَكَهُمْ
ترجمہ
…ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ایک عامل کے پاس گئے تو دیکھا کہ اس کے پاس نبط قوم کے کچھ لوگ دھوپ میں کھڑے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: ان کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: میں نے انہیں جزیہ کی ادائیگی کے لیے روک رکھا ہے۔ ہشام نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتا ہے، اللہ اسے آخرت میں عذاب دے گا۔“ تو عمیر نے انہیں چھوڑ دیا اور آزاد کر دیا۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ يُعَذَّبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا»
ترجمہ
سیدنا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدَةَ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَنَّ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ، وهِشَامُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، مَرَّا بِعَامِلِ حِمْصَ وَقَدْ شَمَّسَ أَنْبَاطًا فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْعَامِلِ: مَا هَذَا يَا فُلَانُ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ يُعَذَّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا»
ترجمہ
…اور ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ، حمص کے عامل کے پاس سے گزرے جس نے نبطی لوگوں کو دھوپ میں کھڑا کر رکھا تھا، تو ان میں سے ایک نے عامل سے کہا: اے فلاں! یہ کیا ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، وَجَدَ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ وَهُوَ عَلَى حِمْصَ شَمَّسَ نَاسًا مِنَ النَّبَطِ فِي أَدَاءِ الْجِزْيَةِ فَقَالَ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ: مَا هَذَا يَا عِيَاضُ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ يُعَذَّبُ الَّذِينَ يُعَذَّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا»
ترجمہ
سیدنا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ، جو حمص کے حاکم تھے، نے جزیہ کی ادائیگی کے سلسلے میں نبطی لوگوں کو دھوپ میں کھڑا کر رکھا ہے، تو ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عیاض! یہ کیا ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔“