❮
❯
حدیث نمبر: 18656
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلَ هِشَامُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَلَى عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ بِالشَّامِ، وَكَانَ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَوَجَدَ عِنْدَهُ نَاسًا مِنَ النَّبَطِ مُشَمَّسِينَ، فَقَالَ: مَا بَالُ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: حَبَسَتْهُمْ فِي الْجِزْيَةِ. فَقَالَ هِشَامٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ الَّذِي يُعَذَّبُ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا يُعَذِّبُهُ اللهُ فِي الْآخِرَةِ» ، فَخَلَّى عَنْهُمْ عُمَيْرٌ وَتَرَكَهُمْ
ترجمہ

عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ شام میں سیدنا عمیر بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اور وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ عامل تھے، تو دیکھا کہ ان کے پاس نبط قوم کے کچھ لوگ دھوپ میں کھڑے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: ان کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: میں نے انہیں جزیہ کی ادائیگی کے لیے روک رکھا ہے۔ ہشام نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتا ہے، اللہ اسے آخرت میں عذاب دے گا۔“ تو عمیر نے انہیں چھوڑ دیا اور آزاد کر دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الهاء / حدیث: 18656
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 170، حدیث 436