حدیث نمبر: 18655
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ السَّمَيْدَعِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمٍ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنْبَتَدِئُ الْأَعْمَالَ أَوْ قَدْ قُضِيَ الْقَضَاءُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ أَخَذَ ذُرِّيَّةَ آدَمَ مِنْ ظَهْرِهِ، ثُمَّ أَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى، ثُمَّ أَفَاضَ فِي كِفَّةٍ فَقَالَ: هَؤُلَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَهَؤُلَاءِ فِي النَّارِ، أَمَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَمُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَمُيَسَّرُونَ لِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ "
ترجمہ

سیدنا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم نئے سرے سے عمل کرتے ہیں یا تقدیر پہلے ہی لکھی جا چکی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا، پھر انہیں اپنے آپ پر گواہ بناتے ہوئے فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ پھر انہیں پلڑے میں ڈال دیا اور فرمایا: یہ جنت میں ہیں اور یہ جہنم میں۔ چنانچہ جنتیوں کے لیے جنتیوں کے عمل آسان کر دیے گئے، اور جہنمیوں کے لیے جہنمیوں کے عمل آسان کر دیے گئے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الهاء / حدیث: 18655
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 169، حدیث 435