کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عوف بن حارث بن طفیل کی سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، - وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا - أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ: فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ: وَاللهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: أَوَ قَالَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: هُوَ عَلَيَّ لِلَّهِ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَلِمَةً أَبَدًا، فَاسْتَشْفَعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْهَا حِينَ طَالَتْ هِجْرَتُهَا إِيَّاهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَاللهِ لَا أُشَفِّعُ فِيهِ أَحَدًا، وَلَا أَحْنَثُ فِي نَذْرِي الَّذِي نَذَرْتُ أَبَدًا، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ - وَهُمَا مِنْ زُهْرَةَ - فَقَالَ لَهُمَا: أَنْشُدُكُمَا بِاللهِ إِلَّا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ قَطِيعَتِي، فَأَقْبَلَ الْمِسْوَرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بِابْنِ الزُّبَيْرِ مُشْتَمِلَيْنِ عَلَيْهِ بِأَرْدِيَتِهِمَا حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَا: السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللهِ، أَنَدْخُلُ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: ادْخُلُوا، قَالُوا: كُلُّنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَتِ: ادْخُلُوا كُلُّكُمْ، وَلَا تَعْلَمُ عَائِشَةُ أَنَّ مَعَهُمُ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَلَمَّا دَخَلُوا اقْتَحَمَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ فَاعْتَنَقَ عَائِشَةَ وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ إِلَّا مَا كَلَّمْتُهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ، وَيَقُولَانِ لَهَا: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهِجْرَةِ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ» ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَى عَائِشَةَ مِنَ التَّذْكِرَةِ، وَالتَّحَرُّجِ طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمْ، وَتَبْكِي وَتَقُولُ: إِنِّي قَدْ نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهَا حَتَّى كَلَّمَتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَأَعْتَقَتْ فِي نَذْرِهَا ذَلِكَ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، ثُمَّ كَانَتْ تَذْكُرُ نَذْرَهَا ذَلِكَ بَعْدَمَا أَعْتَقَتْ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، وَتَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا
ترجمہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … جب وہ لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما پردے میں گھس گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے لپٹ گئے، اور ان سے التجا کرنے اور رونے لگے، اور سیدنا مسور اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہما بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے التجا کرنے لگے کہ آپ ان سے بات کر لیں اور انہیں معاف کر دیں، اور ان سے کہنے لگے: ”رسول اللہ ﷺ نے اس ہجر سے منع فرمایا ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، کیونکہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔“ جب انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بار بار یاد دلایا اور خوف دلایا تو وہ بھی انہیں یاد دلانے اور رونے لگیں اور کہنے لگیں: میں نے نذر مانی تھی، اور نذر بہت سخت چیز ہے، تو وہ برابر ان سے اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی اور اپنی اس نذر میں چالیس غلام آزاد کیے، پھر وہ چالیس غلام آزاد کرنے کے بعد بھی اپنی اس نذر کو یاد کرتیں اور روتیں یہاں تک کہ ان کے آنسو ان کی اوڑھنی کو بھگو دیتے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17160
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 21، حدیث 24
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ طُفَيْلٍ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا -، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ عَائِشَةُ: وَاللهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: هُوَ قَالَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَهُوَ لِلَّهِ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَلِمَةً أَبَدًا، فَاسْتَشْفَعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْهَا حِينَ طَالَتْ هِجْرَتُهَا إِيَّاهُ، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَا أُشَفِّعُ فِيهِ أَحَدًا أَبَدًا، وَلَا أَحْنَثُ نَذْرِي الَّذِي نَذَرْتُ أَبَدًا، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ - وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ - فَقَالَ لَهُمَا: أَنْشُدُكُمَا اللهَ إِلَّا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ قَطِيعَتِي، فَأَقْبَلَ بِهِ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ مُشْتَمِلَيْنِ عَلَيْهِ بِأَرْدِيَتِهِمَا حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَا: السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللهِ، أَنَدْخُلُ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: ادْخُلُوا، قَالُوا: كُلُّنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَتْ: نَعَمِ ادْخُلُوا كُلُّكُمْ - وَلَا تَعْلَمُ عَائِشَةُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ - فَلَمَّا دَخَلُوا دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ فَاعْتَنَقَ عَائِشَةَ وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ إِلَّا مَا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ، وَيَقُولَانِ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهِجْرَةِ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ» ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَى عَائِشَةَ التَّذْكِرَةَ، وَالتَّحْرِيجِ طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمْ وَتَبْكِي وَتَقُولُ: إِنِّي قَدْ نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهَا حَتَّى كَلَّمْتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَأَعْتَقَتْ فِي نَذْرَهَا أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، ثُمَّ كَانَتْ تَذْكُرُ نَذْرَهَا ذَلِكَ بَعْدَمَا أَعْتَقَتْ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، وَتَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا
ترجمہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … جب وہ داخل ہوئے تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما پردے میں داخل ہوئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے لپٹ گئے، اور ان سے التجا کرنے اور رونے لگے، اور سیدنا مسور اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہما بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے التجا کرنے لگے کہ آپ ان سے بات کر لیں اور انہیں معاف کر دیں، اور کہنے لگے: ”رسول اللہ ﷺ نے اس ہجر سے منع فرمایا ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، کیونکہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔“ جب انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بار بار یاد دلایا اور خوف دلایا تو وہ بھی انہیں یاد دلانے اور رونے لگیں اور کہنے لگیں: میں نے نذر مانی تھی، اور نذر بہت سخت چیز ہے، تو وہ برابر ان سے اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی اور اپنی نذر میں چالیس غلام آزاد کیے، پھر وہ چالیس غلام آزاد کرنے کے بعد بھی اپنی اس نذر کو یاد کرتیں اور روتیں یہاں تک کہ ان کے آنسو ان کی اوڑھنی کو بھگو دیتے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17161
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 22، حدیث 25
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمَقْدِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الصَّنْعَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ قَالَا: ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ كَثِيرٍ الْقَارِيُّ، قَالَا: ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ الْأَزْدِيُّ - أَزْدُ شَنُوءَةَ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا - أَنَّ عَائِشَةَ، بَلَغَهَا أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي دَارٍ لَهَا باعَتْهَا فَسَخِطَ عَبْدُ اللهِ بَيْعَ تِلْكَ الدَّارِ، فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ عَنْ بَيْعِ رِبَاعِهَا أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَوَ قَالَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: قَدْ قَالَ ذَلِكَ، قَالَتْ: هُوَ لِلَّهِ عَلَيَّ أَنْ لَا أُكَلِّمَهُ حَتَّى يُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْمَوْتُ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ خبر پہنچی کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کے ایک گھر کے بارے میں، جو انہوں نے فروخت کر دیا تھا، اعتراض کرتے ہوئے کچھ کہا ہے، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس گھر کی فروخت کو ناپسند کیا اور کہا: اللہ کی قسم! عائشہ یا تو اپنی جائیدادیں بیچنے سے باز آ جائیں گی یا میں ان پر پابندی لگا دوں گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا انہوں نے یہ کہا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، انہوں نے یہ کہا ہے۔ انہوں نے فرمایا: میرے ذمے اللہ کا یہ عہد ہے کہ میں ان سے بات نہیں کروں گی یہاں تک کہ موت ہمارے درمیان جدائی ڈال دے۔
پھر راوی نے مکمل حدیث بیان کی جیسا کہ آگے مذکور ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17162
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 22، حدیث 26
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ الرُّصَافِيُّ، ثنا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ - وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ رَضِي اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا - أَنَّ عَائِشَةَ، حُدِّثَتْ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَايَا أَعْطَتْهَا عَائِشَةُ: وَاللهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَهُوَ قَالَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَتْ: هُوَ لِلَّهِ عَلِيَّ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَلِمَةً أَبَدًا، فَاسْتَشْفَعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْهَا النَّاسَ حِينَ أَطَالَتْ هِجْرَتَهُ، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَا أُشَفِّعُ فِيهِ أَحَدًا، وَلَا أَحْنَثُ فِي نَذْرِي أَبَدًا، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ - وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ - فَقَالَ لَهُمَا: أَنْشُدُكُمَا اللهَ إِلَّا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ، وإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ قَطِيعَتِي، فَأَقْبَلَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ مُشْتَمِلَيْنِ عَلَيْهِ بِأَرْدِيَتِهِمَا حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَا: السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، أَنَدْخُلُ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: ادْخُلُوا، قَالُوا: كُلُّنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ فَادْخُلُوا كُلُّكُمْ - وَلَا تَشْعُرُ عَائِشَةُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ - فَلَمَّا دَخَلُوا دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ، فَاعْتَنَقَ عَائِشَةَ فَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ بِاللهِ أَنْ كَلِّمِيهِ وَقَبِلَتِ مِنْهُ، وَيَقُولَانِ لَهَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنِ الْهِجْرَةِ كَمَا عَلِمْتِ وَقَالَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ» ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَى عَائِشَةَ مِنَ التَّذْكِرَةِ وَالتَّحْرِيجِ طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمْ، وَتَبْكِي وَتَقُولُ: إِنِّي قَدْ نَذَرْتُ، وَالنَّذْرُ شَأْنُهُ شَدِيدٌ، فَلَمْ يَزَالَا بِهَا حَتَّى كَلَّمْتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ ثُمَّ أَعْتَقَتْ فِي نَذْرِهَا أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، ثُمَّ كَانَتْ تَذْكُرُ نَذْرَهَا ذَلِكَ بَعْدَمَا أَعْتَقَتْ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً ثُمَّ تَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا
ترجمہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … اور عبدالرحمن بن اسود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کا واسطہ دے کر التجا کرنے لگے کہ آپ ان سے بات کر لیں اور انہیں معاف کر دیں، اور ان سے کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے ہجر سے منع فرمایا ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، اور فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔“ جب انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بار بار یاد دلایا اور خوف دلایا تو وہ بھی انہیں یاد دلانے اور رونے لگیں اور کہنے لگیں: میں نے نذر مانی تھی، اور نذر کا معاملہ سخت ہے، تو وہ دونوں برابر ان سے اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی، پھر اپنی نذر میں چالیس غلام آزاد کیے، پھر وہ چالیس غلام آزاد کرنے کے بعد بھی اپنی اس نذر کو یاد کرتیں پھر روتیں یہاں تک کہ ان کے آنسو ان کی اوڑھنی کو بھگو دیتے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17163
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 23، حدیث 27