المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عوف بن الحارث بن الطفيل، عن المسور بن مخرمة باب: عوف بن حارث بن طفیل کی سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ طُفَيْلٍ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا -، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ عَائِشَةُ: وَاللهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: هُوَ قَالَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَهُوَ لِلَّهِ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَلِمَةً أَبَدًا، فَاسْتَشْفَعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْهَا حِينَ طَالَتْ هِجْرَتُهَا إِيَّاهُ، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَا أُشَفِّعُ فِيهِ أَحَدًا أَبَدًا، وَلَا أَحْنَثُ نَذْرِي الَّذِي نَذَرْتُ أَبَدًا، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ - وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ - فَقَالَ لَهُمَا: أَنْشُدُكُمَا اللهَ إِلَّا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ قَطِيعَتِي، فَأَقْبَلَ بِهِ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ مُشْتَمِلَيْنِ عَلَيْهِ بِأَرْدِيَتِهِمَا حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَا: السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللهِ، أَنَدْخُلُ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: ادْخُلُوا، قَالُوا: كُلُّنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَتْ: نَعَمِ ادْخُلُوا كُلُّكُمْ - وَلَا تَعْلَمُ عَائِشَةُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ - فَلَمَّا دَخَلُوا دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ فَاعْتَنَقَ عَائِشَةَ وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ إِلَّا مَا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ، وَيَقُولَانِ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهِجْرَةِ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ» ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَى عَائِشَةَ التَّذْكِرَةَ، وَالتَّحْرِيجِ طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمْ وَتَبْكِي وَتَقُولُ: إِنِّي قَدْ نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهَا حَتَّى كَلَّمْتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَأَعْتَقَتْ فِي نَذْرَهَا أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، ثُمَّ كَانَتْ تَذْكُرُ نَذْرَهَا ذَلِكَ بَعْدَمَا أَعْتَقَتْ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، وَتَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَاسیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … جب وہ داخل ہوئے تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما پردے میں داخل ہوئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے لپٹ گئے، اور ان سے التجا کرنے اور رونے لگے، اور سیدنا مسور اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہما بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے التجا کرنے لگے کہ آپ ان سے بات کر لیں اور انہیں معاف کر دیں، اور کہنے لگے: ”رسول اللہ ﷺ نے اس ہجر سے منع فرمایا ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، کیونکہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔“ جب انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بار بار یاد دلایا اور خوف دلایا تو وہ بھی انہیں یاد دلانے اور رونے لگیں اور کہنے لگیں: میں نے نذر مانی تھی، اور نذر بہت سخت چیز ہے، تو وہ برابر ان سے اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی اور اپنی نذر میں چالیس غلام آزاد کیے، پھر وہ چالیس غلام آزاد کرنے کے بعد بھی اپنی اس نذر کو یاد کرتیں اور روتیں یہاں تک کہ ان کے آنسو ان کی اوڑھنی کو بھگو دیتے۔