❮
❯
حدیث نمبر: 17163
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ الرُّصَافِيُّ، ثنا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ - وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ رَضِي اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا - أَنَّ عَائِشَةَ، حُدِّثَتْ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَايَا أَعْطَتْهَا عَائِشَةُ: وَاللهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَهُوَ قَالَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَتْ: هُوَ لِلَّهِ عَلِيَّ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَلِمَةً أَبَدًا، فَاسْتَشْفَعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْهَا النَّاسَ حِينَ أَطَالَتْ هِجْرَتَهُ، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَا أُشَفِّعُ فِيهِ أَحَدًا، وَلَا أَحْنَثُ فِي نَذْرِي أَبَدًا، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ - وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ - فَقَالَ لَهُمَا: أَنْشُدُكُمَا اللهَ إِلَّا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ، وإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ قَطِيعَتِي، فَأَقْبَلَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ مُشْتَمِلَيْنِ عَلَيْهِ بِأَرْدِيَتِهِمَا حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَا: السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، أَنَدْخُلُ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: ادْخُلُوا، قَالُوا: كُلُّنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ فَادْخُلُوا كُلُّكُمْ - وَلَا تَشْعُرُ عَائِشَةُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ - فَلَمَّا دَخَلُوا دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ، فَاعْتَنَقَ عَائِشَةَ فَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ بِاللهِ أَنْ كَلِّمِيهِ وَقَبِلَتِ مِنْهُ، وَيَقُولَانِ لَهَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنِ الْهِجْرَةِ كَمَا عَلِمْتِ وَقَالَ: «لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ» ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَى عَائِشَةَ مِنَ التَّذْكِرَةِ وَالتَّحْرِيجِ طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمْ، وَتَبْكِي وَتَقُولُ: إِنِّي قَدْ نَذَرْتُ، وَالنَّذْرُ شَأْنُهُ شَدِيدٌ، فَلَمْ يَزَالَا بِهَا حَتَّى كَلَّمْتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ ثُمَّ أَعْتَقَتْ فِي نَذْرِهَا أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، ثُمَّ كَانَتْ تَذْكُرُ نَذْرَهَا ذَلِكَ بَعْدَمَا أَعْتَقَتْ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً ثُمَّ تَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا
ترجمہ

عوف بن حارث بن طفیل رحمہ اللہ، جو نبی ﷺ کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مادری بھتیجے تھے، بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا گیا کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ایک خرید و فروخت یا عطیوں کے بارے میں، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیے تھے، کہا: اللہ کی قسم! عائشہ ضرور باز آ جائیں گی، ورنہ میں ان پر پابندی لگا دوں گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا اس نے ایسا کہا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ تو انہوں نے کہا: میرے ذمے اللہ کے لیے نذر ہے کہ میں ابن زبیر سے کبھی کوئی بات نہیں کروں گی۔ ابن زبیر نے لوگوں کو واسطہ بنا کر ان سے سفارش کرانی چاہی جب ان کا یہ بائیکاٹ طویل ہو گیا، مگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کے بارے میں کسی کی سفارش قبول نہیں کروں گی، اور نہ اپنی نذر کبھی توڑوں گی۔ جب یہ معاملہ ابن زبیر پر طویل ہو گیا تو انہوں نے سیدنا مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہما سے بات کی - اور یہ دونوں بنو زہرہ سے تھے - اور ان سے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے چلو، اور یہ کہ ان کے لیے میرا بائیکاٹ کرنے کی نذر ماننا جائز نہیں۔ چنانچہ سیدنا مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن اسود بن عبد یغوث، ابن زبیر کو اپنی چادروں میں لپیٹ کر لے چلے، یہاں تک کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت مانگی اور کہا: نبی ﷺ پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، کیا ہم اندر آ سکتے ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آ جاؤ۔ انہوں نے کہا: اے ام المؤمنین! کیا ہم سب؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہاں، تم سب اندر آ جاؤ - جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے ساتھ ابن زبیر بھی ہیں۔ جب وہ لوگ داخل ہوئے تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما پردے میں داخل ہوئے، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے لپٹ گئے، اور ان سے التجا کرنے اور رونے لگے، اور سیدنا مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن اسود رضی اللہ عنہما اللہ کا واسطہ دے کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے التجا کرنے لگے کہ آپ ان سے بات کر لیں اور انہیں معاف کر دیں، اور ان سے کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے ہجر سے منع فرمایا ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، اور فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔“ جب انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بار بار یاد دلایا اور خوف دلایا تو وہ بھی انہیں یاد دلانے اور رونے لگیں اور کہنے لگیں: میں نے نذر مانی تھی، اور نذر کا معاملہ سخت ہے، تو وہ دونوں برابر ان سے اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی، پھر اپنی نذر میں چالیس غلام آزاد کیے، پھر وہ چالیس غلام آزاد کرنے کے بعد بھی اپنی اس نذر کو یاد کرتیں پھر روتیں یہاں تک کہ ان کے آنسو ان کی اوڑھنی کو بھگو دیتے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 17163
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 23، حدیث 27