حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، يَخْطُبُ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يُفْرَضْ عَلَيْنَا صِيَامُهُ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ فَإِنِّي صَائِمٌ» ، فَصَامَ النَّاسُ
ترجمہ
…حمید بن عبدالرحمن نے مجھے بتایا کہ انہوں نے معاویہ کو خطبہ دیتے سنا، وہ کہہ رہے تھے: اے اہلِ مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یہ عاشوراء کا دن ہے، اور اس کا روزہ ہم پر فرض نہیں کیا گیا، پس تم میں سے جو چاہے روزہ رکھے، کیونکہ میں روزہ دار ہوں۔“ چنانچہ لوگوں نے روزہ رکھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ» هَذَا الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ "
ترجمہ
…عاشوراء کے دن، حج کے سال، جب وہ منبر پر تھے، فرما رہے تھے: اے اہلِ مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یہ دن عاشوراء کا دن ہے، اس کا روزہ تم پر فرض نہیں کیا گیا، اور میں روزہ دار ہوں، پس جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطار کرے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ، فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي هَذَا الْيَوْمِ فَقَالَ: «إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ» ، يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ
ترجمہ
…زہری، حمید بن عبدالرحمن سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: معاویہ مدینہ آئے تو کہا: تمہارے علماء کہاں ہیں؟ رسول اللہ ﷺ اس دن میں تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں روزہ دار ہوں، پس جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطار کرے،“ یعنی عاشوراء کے دن۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " هَذَا اليَوْمُ يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ، وَأَنَا صَائِمٌ، فَمَنْ أَحَبَّ فَلْيَصُمْهُ، يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَاءَ
ترجمہ
…حمید بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ انہوں نے معاویہ کو سنا، وہ منبر پر اپنے خطبے میں کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یہ دن عاشوراء کا دن ہے، اس کا روزہ تم پر فرض نہیں کیا گیا، اور میں روزہ دار ہوں، پس جو چاہے اس کا روزہ رکھے،“ یعنی عاشوراء کے دن۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَخْطُبُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ، وَإِنِّي صَائِمٌ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ»
ترجمہ
…انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان کو عاشوراء کے دن خطبہ دیتے سنا، تو انہوں نے کہا: اے اہلِ مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یہ عاشوراء کا دن ہے، اس کا روزہ تم پر فرض نہیں کیا گیا، اور میں روزہ دار ہوں، پس جو اس کا روزہ رکھنا چاہے رکھے، اور جو افطار کرنا چاہے کرے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ يَخْطُبُ لِلنَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ، وَإِنِّي صَائِمٌ» ، وَهُوَ يَقُولُ ذَلِكَ: «فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ»
ترجمہ
…انہوں نے انہیں بتایا کہ انہوں نے معاویہ کو عاشوراء کے دن لوگوں کو خطبہ دیتے سنا، وہ کہہ رہے تھے: اے اہلِ مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یہ عاشوراء کا دن ہے، اس کا روزہ تم پر فرض نہیں کیا گیا، اور میں روزہ دار ہوں،“ اور وہ یہ بھی فرما رہے تھے: ”پس تم میں سے جو اس کا روزہ رکھنا چاہے رکھے، اور جو افطار کرنا چاہے کرے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ سَعْدٍ الْقَيْسِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ، وَأَنَا صَائِمٌ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ»
ترجمہ
…حمید بن عبدالرحمن نے معاویہ کو منبر پر یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یہ عاشوراء کا دن ہے، اس کا روزہ تم پر فرض نہیں کیا گیا، اور میں روزہ دار ہوں، پس جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطار کرے۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللهُ»
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مِنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَزَالُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ عَلَى أَمْرِ اللهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمَرُ اللهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى الْحَقِّ»
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مِنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَزَالُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ عَلَى أَمْرِ اللهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمَرُ اللهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى الْحَقِّ»
ترجمہ
…حمید بن عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں: میں نے معاویہ بن ابی سفیان کو یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں، اور دیتا اللہ ہے۔“
اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔“
اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اس امت میں سے ہمیشہ ایک گروہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گا، انہیں مخالفت کرنے والا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے اور وہ حق پر غالب ہوں۔“
اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔“
اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اس امت میں سے ہمیشہ ایک گروہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گا، انہیں مخالفت کرنے والا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے اور وہ حق پر غالب ہوں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»
ترجمہ
…حمید بن عبدالرحمن بن عوف، سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔“