حدیث نمبر: 16802
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ يَخْطُبُ لِلنَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ، وَإِنِّي صَائِمٌ» ، وَهُوَ يَقُولُ ذَلِكَ: «فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ»
ترجمہ

…انہوں نے انہیں بتایا کہ انہوں نے معاویہ کو عاشوراء کے دن لوگوں کو خطبہ دیتے سنا، وہ کہہ رہے تھے: اے اہلِ مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یہ عاشوراء کا دن ہے، اس کا روزہ تم پر فرض نہیں کیا گیا، اور میں روزہ دار ہوں،“ اور وہ یہ بھی فرما رہے تھے: ”پس تم میں سے جو اس کا روزہ رکھنا چاہے رکھے، اور جو افطار کرنا چاہے کرے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16802
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 328، حدیث 753