حدیث نمبر: 16797
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، يَخْطُبُ يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يُفْرَضْ عَلَيْنَا صِيَامُهُ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ فَإِنِّي صَائِمٌ» ، فَصَامَ النَّاسُ
ترجمہ

…حمید بن عبدالرحمن نے مجھے بتایا کہ انہوں نے معاویہ کو خطبہ دیتے سنا، وہ کہہ رہے تھے: اے اہلِ مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یہ عاشوراء کا دن ہے، اور اس کا روزہ ہم پر فرض نہیں کیا گیا، پس تم میں سے جو چاہے روزہ رکھے، کیونکہ میں روزہ دار ہوں۔“ چنانچہ لوگوں نے روزہ رکھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16797
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 327، حدیث 748