حدیث نمبر: 16801
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَخْطُبُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ، وَإِنِّي صَائِمٌ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ»
ترجمہ

…انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان کو عاشوراء کے دن خطبہ دیتے سنا، تو انہوں نے کہا: اے اہلِ مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یہ عاشوراء کا دن ہے، اس کا روزہ تم پر فرض نہیں کیا گیا، اور میں روزہ دار ہوں، پس جو اس کا روزہ رکھنا چاہے رکھے، اور جو افطار کرنا چاہے کرے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16801
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 328، حدیث 752