المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 16797–16805) باب: (احادیث 16797 تا 16805)
حدیث نمبر: 16801
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَخْطُبُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ، وَإِنِّي صَائِمٌ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ»ترجمہ
عبدالرحمن بن اسحاق رحمہ اللہ امام زہری رحمہ اللہ کے واسطے سے حمید بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو عاشوراء کے دن خطبہ دیتے سنا، تو انہوں نے کہا: اے اہلِ مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یہ عاشوراء کا دن ہے، اس کا روزہ تم پر فرض نہیں کیا گیا، اور میں روزہ دار ہوں، پس جو اس کا روزہ رکھنا چاہے رکھے، اور جو افطار کرنا چاہے کرے۔“