کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: حمزہ بن ابی اسید کی اپنے والد سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ النَّبَّالِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَبِي عَمْرِو بْنِ حِمَاسٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ خَارِجٌ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاخْتَلَطَ الرِّجَالُ مَعَ النِّسَاءِ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَأْخِرْنَ، فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكُنَّ أَنْ تَحْقُقْنَ الطَّرِيقَ، عَلَيْكُنَّ بِحَافَّاتِ الطَّرِيقِ» ، وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تَلْصَقُ بِالْجِدَارِ حَتَّى إِنَّ ثَوْبَهَا لَيَتَعَلَّقُ بِالشَّيْءِ مِنَ الْجِدَارِ مِنْ لُصُوقِهَا
ترجمہ
سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا جبکہ آپ ﷺ مسجد سے نکل رہے تھے اور راستے میں مرد اور عورتیں مل جل گئے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پیچھے ہو جاؤ، تمہارے لیے مناسب نہیں کہ راستے کے بیچوں بیچ چلو، تم راستے کے کناروں سے چلا کرو۔“ چنانچہ عورت دیوار سے اس طرح چمٹ جاتی کہ اس کا کپڑا چمٹنے کی وجہ سے دیوار کی کسی چیز میں الجھ جاتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ حِينَ صَفَفَنَا لِلْقِتَالِ: «إِنْ أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ»
ترجمہ
سیدنا حمزہ بن ابی اسید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن، جب ہم نے جنگ کے لیے صف بندی کی تو فرمایا: ”اگر وہ تمہارے قریب آ جائیں تو انہیں تیروں سے نشانہ بناؤ۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَحَمْزَةُ بْنُ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ»
ترجمہ
سیدنا حمزہ بن ابی اسید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ تمہارے قریب آ جائیں تو انہیں تیروں سے نشانہ بناؤ۔“
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ، وَحَمْزَةُ بْنُ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابٌ لَهُ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ الشَّوْطُ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ فَجَلَسْنَا بَيْنَهُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسُوا هَهُنَا» ، وَقَدْ أُتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ فَعُزِلَتْ فِي بَيْتِ أُمَيْمَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ شَرَاحِيلَ وَمَعَهَا دَايَةٌ لَهَا، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «هَبِي إِلَيَّ نَفْسَكِ» ، قَالَتْ: وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ؟، فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَيْهَا لِيَضَعَهَا عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، قَالَ: «لَقَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ» ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: «يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا»
ترجمہ
…اور ان کے کچھ ساتھی، ہم آپ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ایک باغ پر پہنچے جسے الشوط کہا جاتا تھا، پھر ہم دو باغوں کے درمیان پہنچے تو ہم ان کے درمیان بیٹھ گئے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہیں بیٹھو۔“ اور جونیہ عورت کو لایا گیا تھا، اسے حارث بن شراحیل کی بیٹی امیمہ کے گھر میں الگ ٹھہرایا گیا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ایک دایہ تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ اندر داخل ہوئے تو فرمایا: ”اپنی جان مجھے ہبہ کر دو۔“ اس نے کہا: کیا کوئی ملکہ اپنی جان عام آدمی کو ہبہ کرتی ہے؟ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا کہ اس پر رکھیں تو اس نے کہا: میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے پناہ دینے والی ذات کی پناہ مانگ لی۔“ پھر آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے ابواسید! اسے دو باریک چادریں پہنا دو اور اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو أُمِّي مَالِكُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: «يَا أَبَا الْفَضْلِ لَا تَرِمْ مَنْزِلَكَ أَنْتَ وَبَنُوكَ غَدًا حَتَّى آتِيَكُمْ» ، فَانْتَظَرُوهُ حَتَّى جَاءَ بَعْدَمَا أَضْحَى، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ، قَالَ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، قَالَ: «كَيْفَ أَصْبَحْتُمْ؟» ، قَالَ: بِخَيْرٍ، أَحْمَدُ اللهَ، فَقَالَ: «تَقَارَبُوا تَقَارَبُوا تَقَارَبُوا، يَزْحَفُ بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ» ، حَتَّى إِذَا أَمْكَنُوهُ اشْتَمَلَ عَلَيْهِمْ بِمُلَاءَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: «يَا رَبُّ هَذَا عَمِّي وَصِنْوُ أَبِي، وَهَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، فَاسْتُرْهُمْ مِنَ النَّارِ كَسَتْرِي إِيَّاهُمْ بِمُلَاءَتِي هَذِهِ» ، قَالَ: فَأَمَّنَتْ أُسْكُفَّةُ الْبَابِ وَحَوَائِطُ الْبَيْتِ، فَقَالَتْ: آمِينَ آمِينَ آمِينَ
ترجمہ
…میرے نانا، میری ماں کے والد، مالک بن حمزہ بن ابی اسید الساعدی، اپنے والد سے، وہ اپنے دادا ابواسید الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس بن عبدالمطلب سے فرمایا: ”اے ابوالفضل! تم اور تمہارے بیٹے کل اپنے گھر سے مت نکلنا جب تک میں تمہارے پاس نہ آ جاؤں۔“ چنانچہ وہ آپ ﷺ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ چاشت کے بعد تشریف لائے، ان کے پاس اندر گئے اور فرمایا: ”السلام علیکم۔“ انہوں نے کہا: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے صبح کیسے کی؟“ انہوں نے کہا: بخیر، اللہ کا شکر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ، قریب ہو جاؤ، قریب ہو جاؤ،“ ایک دوسرے کے قریب سرکتے رہو، یہاں تک کہ جب وہ اس قابل ہو گئے تو آپ ﷺ نے انہیں اپنی چادر میں لپیٹ لیا، پھر فرمایا: ”اے میرے رب! یہ میرے چچا اور میرے والد کے (سگے) بھائی ہیں، اور یہ میرے اہل بیت ہیں، انہیں آگ سے اسی طرح بچا لے جیسے میں نے انہیں اپنی اس چادر سے ڈھانپا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو دروازے کی چوکھٹ اور گھر کی دیواروں نے آمین کہی، وہ کہنے لگیں: آمین، آمین، آمین۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ أَبِي أُمِّي مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ الْخَزْرَجِيِّ قَالَ: وَلَهُ بِئْرٌ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهَا بِئْرُ بُضَاعَةَ قَدْ بَصَقَ فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ يُبْشِرُ بِهَا وَيَتَيَمَّنُ بِهَا، قَالَ: فَلَمَّا قَطَعَ أَبُو أُسَيْدٍ ثَمَرَةَ حَائِطِهِ جَعَلَهَا فِي غُرْفَةٍ لَهُ، فَكَانَتِ الْغُولُ تُخَالِفُهُ إِلَى مَشْرُبَتِهِ فَتَسْرِقُ تَمْرَهُ وَتُفْسِدُهُ عَلَيْهِ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " تِلْكَ الْغُولُ يَا أَبَا أُسَيْدٍ فَاسْتَمِعْ عَلَيْهَا، فَإِذَا سَمِعْتَ اقْتِحَامَهَا، يَعْنِي وَجْبَتَهَا، فَقُلْ: بِسْمِ اللهِ، حَبَسَنِي رَسُولُ اللهِ "، فَقَالَتِ الْغُولُ: يَا أَبَا أُسَيْدٍ اعْفِنِي أَنْ تُكَلِّفَنِي أَذْهِبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُعْطِيكَ مَوْثِقًا مِنَ اللهِ أَنْ لَا أُخَالِفَكَ إِلَى بَيْتِكَ وَلَا أَسْرِقَ تَمْرَكَ، فَأَدُلَّكَ عَلَى آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ فَتَقْرَأَ بِهَا عَلَى بَيْتِكَ فَلَا تُخَالَفْ إِلَى أَهْلِكَ، وَتَقْرَأَ بِهَا عَلَى إِنَائِكَ وَلَا نَكْشِفَ غِطَاءَهُ، فَأَعْطَتْهُ الْمَوْثِقَ الَّذِي رَضِيَ بِهِ مِنْهَا، فَقَالَتِ: الْآيَةُ الَّتِي أَدُلُّكَ عَلَيْهَا هِيَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ، ثُمَّ حَكَّتِ اسْتَهَا تَضْرَطُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ حَيْثُ وَلَّتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَتْ وَهِيَ كَذُوبٌ»
ترجمہ
…پھر اس نے اپنی سرین کھجائی جبکہ وہ ہوا خارج کر رہی تھی، پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ کو وہ واقعہ سنایا جہاں سے وہ پھری تھی، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا، حالانکہ وہ جھوٹی ہے۔“