❮
❯
حدیث نمبر: 16634
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ أَبِي أُمِّي مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ الْخَزْرَجِيِّ قَالَ: وَلَهُ بِئْرٌ بِالْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهَا بِئْرُ بُضَاعَةَ قَدْ بَصَقَ فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ يُبْشِرُ بِهَا وَيَتَيَمَّنُ بِهَا، قَالَ: فَلَمَّا قَطَعَ أَبُو أُسَيْدٍ ثَمَرَةَ حَائِطِهِ جَعَلَهَا فِي غُرْفَةٍ لَهُ، فَكَانَتِ الْغُولُ تُخَالِفُهُ إِلَى مَشْرُبَتِهِ فَتَسْرِقُ تَمْرَهُ وَتُفْسِدُهُ عَلَيْهِ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " تِلْكَ الْغُولُ يَا أَبَا أُسَيْدٍ فَاسْتَمِعْ عَلَيْهَا، فَإِذَا سَمِعْتَ اقْتِحَامَهَا، يَعْنِي وَجْبَتَهَا، فَقُلْ: بِسْمِ اللهِ، حَبَسَنِي رَسُولُ اللهِ "، فَقَالَتِ الْغُولُ: يَا أَبَا أُسَيْدٍ اعْفِنِي أَنْ تُكَلِّفَنِي أَذْهِبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُعْطِيكَ مَوْثِقًا مِنَ اللهِ أَنْ لَا أُخَالِفَكَ إِلَى بَيْتِكَ وَلَا أَسْرِقَ تَمْرَكَ، فَأَدُلَّكَ عَلَى آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ فَتَقْرَأَ بِهَا عَلَى بَيْتِكَ فَلَا تُخَالَفْ إِلَى أَهْلِكَ، وَتَقْرَأَ بِهَا عَلَى إِنَائِكَ وَلَا نَكْشِفَ غِطَاءَهُ، فَأَعْطَتْهُ الْمَوْثِقَ الَّذِي رَضِيَ بِهِ مِنْهَا، فَقَالَتِ: الْآيَةُ الَّتِي أَدُلُّكَ عَلَيْهَا هِيَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ، ثُمَّ حَكَّتِ اسْتَهَا تَضْرَطُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ حَيْثُ وَلَّتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَتْ وَهِيَ كَذُوبٌ»
ترجمہ

مالک بن حمزہ رحمہ اللہ، اپنے والد سے، وہ اپنے دادا ابواسید ساعدی خزرجی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ان کا مدینہ میں ایک کنواں تھا جسے بئرِ بضاعہ کہا جاتا تھا، نبی کریم ﷺ نے اس میں اپنا لعاب ڈالا تھا، تو وہ اس سے خوشخبری اور برکت حاصل کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: جب ابواسید نے اپنے باغ کا پھل کاٹا تو اسے اپنے ایک بالاخانے میں رکھ دیا، تو ایک غول (جن) خفیہ طور پر ان کے بالاخانے میں آتی اور ان کی کھجوریں چراتی اور خراب کر دیتی۔ انہوں نے اس کی شکایت نبی کریم ﷺ سے کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابواسید! وہ غول ہے، تو اس کی گھات لگاؤ، جب اس کے داخل ہونے کی آواز سنو - یعنی اس کی دھمک - تو کہو: بسم اللہ، مجھے رسول اللہ ﷺ نے روکا ہے۔“ تو غول نے کہا: اے ابواسید! مجھے معاف کر دو کہ تم مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے پر مجبور نہ کرو، اور میں تمہیں اللہ کا عہد دیتی ہوں کہ نہ تمہارے گھر آؤں گی اور نہ تمہاری کھجوریں چراؤں گی، اور میں تمہیں اللہ کی کتاب کی ایک آیت بتاتی ہوں جسے تم اپنے گھر پر پڑھ لیا کرو تو کوئی اس کے خلاف تمہارے گھر والوں تک نہیں آئے گا، اور اسے اپنے برتن پر بھی پڑھ لیا کرو تو ہم اس کا ڈھکن نہیں کھولیں گے۔ چنانچہ اس نے وہ عہد دیا جس پر وہ راضی ہو گئے، پھر کہا: جس آیت کی طرف میں تمہاری رہنمائی کر رہی ہوں وہ آیت الکرسی ہے۔ پھر وہ اپنی سرین رگڑتی اور ہوا خارج کرتی ہوئی چلی گئی، تو جب وہ پیٹھ پھیر کر چلی گئی تو ابواسید رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو سارا واقعہ سنایا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا، حالانکہ وہ جھوٹی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 16634
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 263، حدیث 585