المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حمزة بن أبي أسيد، عن أبيه باب: حمزہ بن ابی اسید کی اپنے والد سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو أُمِّي مَالِكُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: «يَا أَبَا الْفَضْلِ لَا تَرِمْ مَنْزِلَكَ أَنْتَ وَبَنُوكَ غَدًا حَتَّى آتِيَكُمْ» ، فَانْتَظَرُوهُ حَتَّى جَاءَ بَعْدَمَا أَضْحَى، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ، قَالَ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، قَالَ: «كَيْفَ أَصْبَحْتُمْ؟» ، قَالَ: بِخَيْرٍ، أَحْمَدُ اللهَ، فَقَالَ: «تَقَارَبُوا تَقَارَبُوا تَقَارَبُوا، يَزْحَفُ بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ» ، حَتَّى إِذَا أَمْكَنُوهُ اشْتَمَلَ عَلَيْهِمْ بِمُلَاءَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: «يَا رَبُّ هَذَا عَمِّي وَصِنْوُ أَبِي، وَهَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، فَاسْتُرْهُمْ مِنَ النَّارِ كَسَتْرِي إِيَّاهُمْ بِمُلَاءَتِي هَذِهِ» ، قَالَ: فَأَمَّنَتْ أُسْكُفَّةُ الْبَابِ وَحَوَائِطُ الْبَيْتِ، فَقَالَتْ: آمِينَ آمِينَ آمِينَ…میرے نانا، میری ماں کے والد، مالک بن حمزہ بن ابی اسید الساعدی، اپنے والد سے، وہ اپنے دادا ابواسید الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس بن عبدالمطلب سے فرمایا: ”اے ابوالفضل! تم اور تمہارے بیٹے کل اپنے گھر سے مت نکلنا جب تک میں تمہارے پاس نہ آ جاؤں۔“ چنانچہ وہ آپ ﷺ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ چاشت کے بعد تشریف لائے، ان کے پاس اندر گئے اور فرمایا: ”السلام علیکم۔“ انہوں نے کہا: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے صبح کیسے کی؟“ انہوں نے کہا: بخیر، اللہ کا شکر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب ہو جاؤ، قریب ہو جاؤ، قریب ہو جاؤ،“ ایک دوسرے کے قریب سرکتے رہو، یہاں تک کہ جب وہ اس قابل ہو گئے تو آپ ﷺ نے انہیں اپنی چادر میں لپیٹ لیا، پھر فرمایا: ”اے میرے رب! یہ میرے چچا اور میرے والد کے (سگے) بھائی ہیں، اور یہ میرے اہل بیت ہیں، انہیں آگ سے اسی طرح بچا لے جیسے میں نے انہیں اپنی اس چادر سے ڈھانپا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو دروازے کی چوکھٹ اور گھر کی دیواروں نے آمین کہی، وہ کہنے لگیں: آمین، آمین، آمین۔