المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حمزة بن أبي أسيد، عن أبيه باب: حمزہ بن ابی اسید کی اپنے والد سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ، وَحَمْزَةُ بْنُ أَبِي أُسَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابٌ لَهُ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ الشَّوْطُ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ فَجَلَسْنَا بَيْنَهُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسُوا هَهُنَا» ، وَقَدْ أُتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ فَعُزِلَتْ فِي بَيْتِ أُمَيْمَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ شَرَاحِيلَ وَمَعَهَا دَايَةٌ لَهَا، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «هَبِي إِلَيَّ نَفْسَكِ» ، قَالَتْ: وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ؟، فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَيْهَا لِيَضَعَهَا عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، قَالَ: «لَقَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ» ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: «يَا أَبَا أُسَيْدٍ اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا»…اور ان کے کچھ ساتھی، ہم آپ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ایک باغ پر پہنچے جسے الشوط کہا جاتا تھا، پھر ہم دو باغوں کے درمیان پہنچے تو ہم ان کے درمیان بیٹھ گئے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہیں بیٹھو۔“ اور جونیہ عورت کو لایا گیا تھا، اسے حارث بن شراحیل کی بیٹی امیمہ کے گھر میں الگ ٹھہرایا گیا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ایک دایہ تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ اندر داخل ہوئے تو فرمایا: ”اپنی جان مجھے ہبہ کر دو۔“ اس نے کہا: کیا کوئی ملکہ اپنی جان عام آدمی کو ہبہ کرتی ہے؟ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا کہ اس پر رکھیں تو اس نے کہا: میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے پناہ دینے والی ذات کی پناہ مانگ لی۔“ پھر آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے ابواسید! اسے دو باریک چادریں پہنا دو اور اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو۔“