المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن فضالة الأنصاري ثم الظفري باب: سیدنا محمد بن فضالہ انصاری پھر ظفری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: ثنا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَالَةَ الظَّفَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ: وَكَانَ مِمَّنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُمْ فِي مَسْجِدِ بَنِي ظُفُرٍ فَجَلَسَ عَلَى الصَّخْرَةِ الَّتِي فِي مَسْجِدِ بَنِي ظُفُرٍ الْيَوْمَ، وَمَعَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِئًا، فَقَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} [النساء: ٤١] ، فَبَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى اضْطَرَبَ لَحْيَاهُ، فَقَالَ: «أَيْ رَبُّ شَهِدْتُ عَلَى مَنْ أَنَا بَيْنَ ظَهْرَيْهِ فَكَيْفَ بِمَنْ لَمْ أَرَ؟»یونس بن محمد بن فضالہ ظفری اپنے والد محمد بن فضالہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں - جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے - کہ رسول اللہ ﷺ بنو ظفر کی مسجد میں ان کے پاس تشریف لائے اور اس چٹان پر بیٹھے جو آج بھی بنو ظفر کی مسجد میں موجود ہے۔ آپ ﷺ کے ساتھ عبداللہ بن مسعود، معاذ بن جبل اور آپ ﷺ کے کچھ اور صحابہ بھی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک قاری کو (تلاوت کا) حکم دیا، تو اس نے تلاوت شروع کی یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچا: ”پھر کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے“ [سورۃ النساء: 41]، تو رسول اللہ ﷺ رو پڑے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دونوں جبڑے کانپنے لگے، اور فرمایا: ”اے میرے رب! میں تو ان لوگوں پر گواہی دیتا ہوں جن کے درمیان میں رہا، تو ان لوگوں کا کیا ہو گا جنہیں میں نے دیکھا ہی نہیں؟“