المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن فضالة الأنصاري ثم الظفري باب: سیدنا محمد بن فضالہ انصاری پھر ظفری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 16596
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّازُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا إِدْرِيسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَنَسَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ أُسْبُوعَيْنِ، فَأُتِيَ بِي إِلَيْهِ فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي، وَقَالَ: «سَمُّوهُ بِاسْمِي، وَلَا تُكَنُّوهُ بِكُنْيَتِي» . وَحَجَّ بِي مَعَهُ حَجَّةَ الْوَدَاعِ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينٍ، قَالَ: فَلَقَدْ عُمِّرَ مُحَمَّدٌ حَتَّى شَابَ رَأْسُهُ، وَمَا شَابَ مَوْضِعُ يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَترجمہ
ادریس بن محمد اپنے دادا سے، وہ اپنے والد سیدنا محمد بن فضالہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو میں دو ہفتے کا تھا، تو مجھے آپ ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ”اسے میرے نام پر نام دو، لیکن اسے میری کنیت مت دینا۔“ اور حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ مجھے اپنے ساتھ حج پر لے گئے جبکہ میری عمر دس سال تھی۔ کہتے ہیں: محمد رضی اللہ عنہ نے اتنی لمبی عمر پائی کہ ان کا سر سفید ہو گیا، مگر جہاں نبی کریم ﷺ کا ہاتھ لگا تھا وہ جگہ سفید نہ ہوئی۔