کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا عمران رضی اللہ عنہ، جو ابوجمرہ کے والد تھے، صحابی تھے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ»
عِمْرَانُ بْنُ تَيْمٍ أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ مُخَضْرَمٌ
ترجمہ
ابوجمرہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے وقت آپ کی عمر تریسٹھ برس تھی۔
عمران بن تیم ابورجاء عطاردی رحمہ اللہ مخضرم تھے (یعنی زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں پائے، لیکن نبی ﷺ کی صحبت ثابت نہیں)۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15701
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 243، حدیث 610
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: «أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ عِمْرَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ» ،
ترجمہ
عبداللہ بن احمد بن حنبل بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ) کو یہ کہتے سنا: ابورجاء عطاردی کا نام عمران بن عبداللہ تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15702
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 244، حدیث 611
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يَقُولُ: «مَاتَ أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ سَنَةَ خَمْسٍ وَمِائَةٍ»
ترجمہ
محمد بن عثمان بن ابی شیبہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو یہ کہتے سنا: ابورجاء عطاردی کا انتقال ایک سو پانچ ہجری میں ہوا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15703
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 244، حدیث 612
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عُمَارَةُ الْمَغُولِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ يَقُولُ: «بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا خُمَاسِيُّ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ»
ترجمہ
ابورجاء عطاردی بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ (جنت کی طرف بلانے کے لیے) مبعوث ہوئے تو میں پانچ بالشت کا (یعنی ایک چھوٹا سا) لڑکا تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15704
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 244، حدیث 613
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ، ثنا أَبُو نُصَيْرَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ، وَإِذَا هُوَ يَسْنُو فِيهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَجْعَلُ لِي إِذَا رَوَيْتُ حَائِطَكَ هَذَا؟» قَالَ: أَنِّي أَجْهَدُ أَنْ أَرْوِيَهُ فَمَا أُطِيقُ ذَلِكَ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَجْعَلُ لِي مِائَةَ تَمْرَةٍ اخْتَارُهَا مِنْ تَمْرِكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَرْبَ فَمَا لَبِثَ أَنْ رَوَاهُ حَتَّى قَالَ الرَّجُلُ: غَرِقَتْ عَلَيَّ حَائِطِي، فَاخْتَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَمْرِهِ مِائَةَ تَمْرَةٍ فَأَكَلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ مِائَةَ تَمْرَةٍ كَمَا أَخَذَهَا مِنْهُ
ترجمہ
ابورجاء عطاردی بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نکلے یہاں تک کہ انصار میں سے کسی کے باغ میں داخل ہوئے، وہاں وہ (کنویں سے ڈول کھینچ کر) پانی دے رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اگر میں تمہارا یہ باغ سیراب کر دوں تو تم میرے لیے کیا رکھو گے؟“ اس نے کہا: میں اسے سیراب کرنے کی کوشش کرتا ہوں مگر اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم اپنی کھجوروں میں سے سو کھجوریں میرے لیے مقرر کرو گے، جو میں چن لوں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ڈول پکڑا اور تھوڑی ہی دیر میں اسے سیراب کر دیا، یہاں تک کہ اس آدمی نے کہا: میرا باغ ڈوب گیا (پانی سے بھر گیا)۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کی کھجوروں میں سے سو کھجوریں چن لیں، پھر آپ اور آپ کے ساتھیوں نے انہیں کھایا یہاں تک کہ سیر ہو گئے، پھر آپ نے وہ سو کھجوریں اسے واپس کر دیں، جیسے اس سے لی تھیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15705
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 244، حدیث 614