کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ، جن کی کنیت ابونجیح تھی
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ، قَالَ: شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ وَأَعْطَى الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ حِمَارًا فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَالُ لَهُ الْعِرْبَاضُ بْنُ سَارِيَةَ فَقَالَ: «مَالَكَ أَنْ تَأْخُذَهُ، وَمَا لِمُعَاوِيَةَ أَنْ يُعْطِيَكَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِكَ، رَأْسُهُ أَسْفَلُهُ»
ترجمہ
ابوالفیض بیان کرتے ہیں: میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا، انہوں نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو ایک گدھا دیا، تو نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک صحابی، جنہیں عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے: ”نہ تمہیں یہ لینے کا حق ہے اور نہ معاویہ کو یہ دینے کا حق ہے، گویا میں قیامت کے دن تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم اسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے ہو، اس کا سر نیچے کی طرف ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15706
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 245، حدیث 615
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، أَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِقْلَاصٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يُقْبَضَ إِلَيْهِ كَانَ يَدْعُو: «اللهُمَّ كَبِرَتْ سِنِّي، وَوَهَنَ عَظْمِي، فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ» ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا يَوْمًا فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، إِذَا فَتًى شَابٌّ مِنْ أَجْمَلِ الرِّجَالِ، وَعَلَيْهِ دَوَّاحٌ أَخْضَرُ، فَقَالَ: مَا هَذَا الَّذِي تَدْعُو بِهِ؟ فَقُلْتُ: «كَيْفَ أَدْعُو يَا ابْنَ أَخِي؟» قَالَ: قُلْ: اللهُمَّ أَحْسِنِ الْعَمَلَ، وَبَلِّغِ الْأَجَلَ، قُلْتُ: «مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللهُ؟» قَالَ: أَنَا رِيبَائِيلُ الَّذِي يُسَلُّ الْحُزْنَ مِنْ قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ
ترجمہ
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک عمر رسیدہ بزرگ تھے، اور یہ پسند کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ انہیں (جلد) اپنے پاس بلا لے، چنانچہ یہ دعا کیا کرتے تھے: ”اے اللہ! میری عمر زیادہ ہو گئی اور میری ہڈیاں کمزور پڑ گئیں، سو مجھے اپنے پاس بلا لے۔“ سیدنا عرباض رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں دمشق کی مسجد میں تھا کہ ایک نہایت خوبصورت نوجوان سامنے آیا جس نے سبز رنگ کی چادر اوڑھ رکھی تھی، اس نے پوچھا: یہ کیا دعا ہے جو تم کر رہے ہو؟ میں نے کہا: بھتیجے! میں کیسے دعا کروں؟ اس نے کہا: کہو: ”اے اللہ! میرے عمل کو اچھا بنا دے اور (میری) موت کا وقت پہنچا دے۔“ میں نے پوچھا: تم کون ہو، اللہ تم پر رحم کرے؟ اس نے کہا: میں ریبائیل (نامی فرشتہ) ہوں، جو مومنوں کے دلوں سے غم دور کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15707
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 245، حدیث 616