المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمران أبو أبي جمرة له صحبة باب: سیدنا عمران رضی اللہ عنہ، جو ابوجمرہ کے والد تھے، صحابی تھے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ، ثنا أَبُو نُصَيْرَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ، وَإِذَا هُوَ يَسْنُو فِيهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَجْعَلُ لِي إِذَا رَوَيْتُ حَائِطَكَ هَذَا؟» قَالَ: أَنِّي أَجْهَدُ أَنْ أَرْوِيَهُ فَمَا أُطِيقُ ذَلِكَ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَجْعَلُ لِي مِائَةَ تَمْرَةٍ اخْتَارُهَا مِنْ تَمْرِكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَرْبَ فَمَا لَبِثَ أَنْ رَوَاهُ حَتَّى قَالَ الرَّجُلُ: غَرِقَتْ عَلَيَّ حَائِطِي، فَاخْتَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَمْرِهِ مِائَةَ تَمْرَةٍ فَأَكَلَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ مِائَةَ تَمْرَةٍ كَمَا أَخَذَهَا مِنْهُابورجاء عطاردی بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نکلے یہاں تک کہ انصار میں سے کسی کے باغ میں داخل ہوئے، وہاں وہ (کنویں سے ڈول کھینچ کر) پانی دے رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اگر میں تمہارا یہ باغ سیراب کر دوں تو تم میرے لیے کیا رکھو گے؟“ اس نے کہا: میں اسے سیراب کرنے کی کوشش کرتا ہوں مگر اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا تم اپنی کھجوروں میں سے سو کھجوریں میرے لیے مقرر کرو گے، جو میں چن لوں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ڈول پکڑا اور تھوڑی ہی دیر میں اسے سیراب کر دیا، یہاں تک کہ اس آدمی نے کہا: میرا باغ ڈوب گیا (پانی سے بھر گیا)۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کی کھجوروں میں سے سو کھجوریں چن لیں، پھر آپ اور آپ کے ساتھیوں نے انہیں کھایا یہاں تک کہ سیر ہو گئے، پھر آپ نے وہ سو کھجوریں اسے واپس کر دیں، جیسے اس سے لی تھیں۔