کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: نفیع بن حارث، ابوداؤد، کی سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ الْبَاهِلِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ، عَنْ نُفَيْعٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَأَبِي بَرْزَةَ أَنَّهُمَا قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَرَأَى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدِيَتَهُمْ يَمْشُونَ فِي خَمْصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ - أَوْ بِصُنْعٍ - تَأْخُذُونَ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ» . فَأَخَذُوا أَرْدِيَتَهُمْ وَلَمْ يَعُودُوا إِلَى ذَلِكَ
ترجمہ
… اور سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ، دونوں فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے، تو آپ ﷺ نے کچھ لوگوں کو دیکھا جنہوں نے اپنی چادریں اتار رکھی تھیں اور وہ تیز تیز چل رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جاہلیت کا کام - یا طریقہ - اپنا رہے ہو؟ میں نے تو ارادہ کر لیا تھا کہ تمہارے خلاف ایسی بددعا کروں کہ تم اپنی صورتوں کے سوا کسی اور صورت میں لوٹ جاؤ۔“ چنانچہ انہوں نے اپنی چادریں پہن لیں اور دوبارہ کبھی ایسا نہ کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ قَاضٍ مِنْ قُضَاةِ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا مَعَهُ مَلَكَانِ يُسَدِّدَانِهِ إِلَى الْحَقِّ مَا لَمْ يَرِدْ غَيْرَهُ، فَإِذَا أَرَادَ غَيْرَهُ وَجَارَ مُتَعَمِّدًا تَبَرَّأَ مِنْهُ الْمَلَكَانِ، وَوَكَلَاهُ إِلَى نَفْسِهِ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بھی مسلمان قاضی ایسا نہیں جس کے ساتھ دو فرشتے نہ ہوں جو اسے حق کی طرف رہنمائی کرتے رہتے ہیں جب تک وہ حق کے سوا کچھ اور نہ چاہے، پھر جب وہ حق کے سوا کچھ اور چاہے اور جان بوجھ کر ظلم کرے، تو دونوں فرشتے اس سے بری ہو جاتے ہیں اور اسے اس کے اپنے نفس کے سپرد کر دیتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَأَخَّرَهُ إِلَى أَجَلِهِ كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ، فَإِنْ أَخَّرَهُ بَعْدَ أَجَلِهِ كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کسی آدمی کا کسی دوسرے آدمی پر کوئی حق ہو اور وہ اسے اس کی مقررہ مدت تک مؤخر کر دے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور اگر وہ اسے اس کی مدت کے بعد بھی مؤخر کرے تو ہر دن کے بدلے اس کے لیے صدقہ ہے۔“