المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن عمران بن حصين باب: سعید بن جبیر کی سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ يَعْنِي النَّضْرَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبَجَلِيَّ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالُوا: ثنا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا فَاطِمَةُ، قُومِي فَاشْهَدِي أُضْحِيَّتَكِ، فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِيهِ، وَقُولِي: إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَاي وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ". قَالَ عِمْرَانُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا لَكَ وَلِأَهْلِ بَيْتِكَ خَاصَّةً، فَأَهْلُ ذَاكَ أَنْتُمْ، أَوْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ قَالَ: «بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً»سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے فاطمہ! اٹھو اور اپنی قربانی کے پاس حاضر ہو جاؤ، کیونکہ اس کے خون کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی تمہارا ہر وہ گناہ بخش دیا جائے گا جو تم نے کیا ہے، اور یہ کہو: 'بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے، جس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔'“ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا یہ خاص طور پر آپ اور آپ کے اہلِ بیت کے لیے ہے - کہ آپ ہی اس کے اہل ہیں - یا عام مسلمانوں کے لیے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ عام مسلمانوں کے لیے ہے۔“