کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: حسن بصری نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے جو روایت کی؛ قتادہ کی، حسن کے واسطے سے، سیدنا عمران رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو الْجَمَاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُّوخِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَرَأَيْتُمُ الزَّانِي وَالسَّارِقَ وَشَارِبَ الْخَمْرِ مَا تَقُولُونَ فِيهِمْ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «هُنَّ فَوَاحِشُ وَفِيهِنَّ عُقُوبَةٌ، أَلَا أُنَبِّئُكُمْ مَا أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ؟ الْإِشْرَاكُ بِاللهِ» ثُمَّ قَرَأَ: {وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا "} [النساء: ٤٨] ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: {اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ} [لقمان: ١٤] ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَاحْتَفَزَ فَقَالَ: «أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ» وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُلُّ مَا نَهَى الله عَنْهُ فَهُوَ كَبِيرَةٌ
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا زانی، چور اور شراب پینے والے کے بارے میں کیا خیال ہے، تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بےحیائیاں ہیں اور ان میں سزا ہے، کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے، اس نے یقیناً بہت بڑا گناہ گھڑا“ [النساء: 48]، اور والدین کی نافرمانی، پھر فرمایا: ”میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو، میری ہی طرف لوٹنا ہے“ [لقمان: 14]۔ آپ ﷺ ٹیک لگائے بیٹھے تھے، پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”خبردار! اور جھوٹی بات۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہر وہ چیز جس سے اللہ نے منع کیا ہے وہ کبیرہ گناہ ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15384
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 140، حدیث 293
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ قَالُوا: ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رجم کی سزا دی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15385
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 140، حدیث 294
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ؟ قَالَ: «لَكَ السُّدُسُ» فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ، فَقَالَ: «إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میرے پوتے کا انتقال ہو گیا ہے، اس کی میراث میں میرا کیا حصہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے چھٹا حصہ ہے۔“ جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”دوسرا چھٹا حصہ بھی تمہارے لیے عطیہ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15386
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 141، حدیث 295
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْقَزَّازُ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «نُهِينَا عَنِ الْكَيِّ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمیں داغ سے منع کیا گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15387
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 141، حدیث 296
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَيِّ فَأَبَيْنَا فَاكْتَوَيْنَا فَمَا أَفْلَحْنَا وَلَا أَنْجَحْنَا»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے داغ سے منع فرمایا، پھر ہم نے انکار کیا اور داغ لگوایا، تو نہ ہم کامیاب ہوئے نہ ہمیں فلاح ملی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15388
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 141، حدیث 297
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ الْبَجَلِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ: {وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللهِ شَدِيدٌ} [الحج: ٢] "
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ آیت پڑھا کرتے تھے: ”اور تم لوگوں کو نشے میں دیکھو گے حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے، لیکن اللہ کا عذاب سخت ہے“ [الحج: 2]۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15389
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 141، حدیث 298
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَرَّرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15390
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 142، حدیث 299
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قَتَادَةُ، وَيُونُسُ، وَحُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُشْهِدْ وَرَاجَعَهَا وَلَمْ يُشْهِدْ قَالَ: «إِنْ طَلَّقَ فِي غَيْرِ عِدَّةٍ، وَرَاجَعَ فِي غَيْرِ سُّنَّةٍ لِيُشْهِدَ الْآنَ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور گواہ نہ بنایا، اور رجوع کیا اور گواہ نہ بنایا، تو انہوں نے فرمایا: اگر اس نے غیر مناسب وقت میں طلاق دی، اور سنت کے خلاف رجوع کیا، تو اب گواہ بنا لے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15391
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 142، حدیث 300
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ عِنْدَ مَوْتِهِ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، «فَأَقْرَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت چھ غلام آزاد کر دیے، اس کے پاس ان کے سوا کوئی مال نہیں تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا، دو کو آزاد کیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15392
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 142، حدیث 301
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، وَقَتَادَةَ، وَحُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے چھ غلام آزاد کیے، یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی، تو آپ ﷺ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا، دو کو آزاد کیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15393
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 143، حدیث 302
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ عِمْرَانَ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ مَمْلُوكِينَ عِنْدَ مَوْتِهِ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ مِنْهُمُ اثْنَيْنِ وَرَدَّ بَقِيَّتَهُمْ فِي الرِّقِّ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت غلام آزاد کیے، اس کے پاس ان کے سوا کوئی مال نہیں تھا، یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی، تو آپ ﷺ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا، ان میں سے دو کو آزاد کیا اور باقیوں کو غلامی میں واپس کر دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15394
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 143، حدیث 303
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ الْبَيْرُونِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ رُءُوسًا سِتَّةً عِنْدَ مَوْتِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَدَعَا بِهِمْ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَصَابَ اثْنَيْنِ، وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِي الرِّقِّ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت چھ سر (غلام) آزاد کیے، اس کے پاس ان کے سوا کوئی مال نہیں تھا، یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی، تو آپ ﷺ نے انہیں بلایا اور ان کے درمیان قرعہ ڈالا، دو کو آزادی ملی اور چار کو غلامی میں واپس کر دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15395
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 143، حدیث 304
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبَيْرُوتِيُّ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ بْنِ مُجَاشِعٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابن حصین رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15396
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 143، حدیث 305
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ وَقَدْ تَقَارَبَ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَرَفَعَ صَوْتَهُ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: {" يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبُّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ، وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللهِ شَدِيدٌ} [الحج: ٢] ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَثُّوا الْمَطِيَّ وَعَرَفُوا أَنَّهُ عِنْدَ قَوْلٍ يَقُولُهُ، قَالَ: «أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَاكُمْ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " ذَاكَ يَوْمٌ يُنَادَى آدَمُ فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ فَيَقُولُ: يَا آدَمُ ابْعَثْ بَعَثَ النَّارِ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مِنْ كَمْ؟ قَالَ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُمِائةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعِينَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ " فَأَبْلَسَ الْقَوْمُ حَتَّى مَا ضَحِكُوا بِضَاحِكَةٍ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بِأَصْحَابِهِ، قَالَ: «اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّكُمْ لَمَعَ خِلْقَتِينِ مَا كَانَتَا فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَكْثَرَتَاهُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَمَنْ هَلَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ» ، فَسُرِّي عَنِ الْقَوْمِ بَعْضُ الَّذِي يَجِدُونَ ثُمَّ قَالَ: «اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ»
ترجمہ
… ”اور تم لوگوں کو نشے میں دیکھو گے حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے، لیکن اللہ کا عذاب سخت ہے“ [الحج: 2]، جب رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے یہ سنا تو انہوں نے اپنی سواریوں کو تیز کیا اور سمجھ گئے کہ آپ ﷺ کوئی خاص بات فرمانے والے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے وہ کون سا دن ہو گا؟“ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایسا دن ہو گا جب آدم علیہ السلام کو پکارا جائے گا، ان کا رب انہیں پکارے گا اور فرمائے گا: اے آدم! آگ کا حصہ نکالو۔ وہ عرض کریں گے: اے رب! کتنا؟ فرمائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے آگ کی طرف اور ایک جنت کی طرف۔“ اس پر صحابہ اتنے پریشان ہوئے کہ کوئی ہنسی سے نہ ہنس سکا، جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا: ”عمل کرو اور خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، تمہارے ساتھ دو مخلوقات ہیں جو کبھی کسی چیز میں شامل نہیں ہوئیں مگر اسے بڑھا دیا: یاجوج و ماجوج، اور بنی آدم میں سے جو ہلاک ہوئے۔“ تو صحابہ سے وہ گھبراہٹ کچھ دور ہو گئی جو انہیں محسوس ہو رہی تھی، پھر فرمایا: ”عمل کرو اور خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، تم لوگوں میں اس سے زیادہ نہیں ہو جتنا اونٹ کے پہلو میں ایک تل، یا جانور کی کلائی پر ایک نشان۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15397
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 144، حدیث 306
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَقَارَبَ مِنْ أَصْحَابِهِ السَّيْرَ، رَفَعَ صَوْتَهُ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے کسی سفر میں، جب آپ ﷺ کے صحابہ کی رفتار آپس میں قریب ہوئی، ان دونوں آیتوں کو بلند آواز سے پڑھا، پھر ابوعوانہ کی حدیث جیسی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15398
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 144، حدیث 307
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو الْجَمَاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُّوخِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَاتَانِ الْآيَتَانِ عَلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، وَقَدْ تَقَارَبَ الْمَسِيرَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَحَبَسْنَا الْمَطِيَّ وَعَرَفْنَا بِأَنَّ ذَلِكَ عِنْدَ قَوْلٍ يَقُولُهُ فَلَمَّا تَأَسَّيْنَا حَوْلَهُ، قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " هَذَا يَوْمٌ يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا آدَمُ ابْعَثْ بَعْثًا إِلَى النَّارِ قَالَ: يَقُولُ: يَا رَبِّ مِنْ كَمْ؟ قَالَ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُمِائةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعِينَ فِي النَّارِ " قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ أُبْلِسُوا، فَلَمْ يَفْتُرْ رَجُلٌ مِنْهُمْ عَنْ وَاضِحَةٍ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِأَصْحَابِهِ قَالَ: " اعْلَمُوا وَأَبْشِرُوا، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ مَعَكُمْ لَخَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا مَعَ قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ - أَحْسَبُهُ قَالَ: مَعَ مَا هَلَكَ مِنْ وَلَدِ إِبْلِيسَ، وَمَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ "
ترجمہ
… اور صحابہ کے درمیان سفر کی رفتار قریب ہو چکی تھی، تو ہم نے سواریاں روک لیں اور سمجھ گئے کہ آپ ﷺ کوئی بات فرمانے والے ہیں، جب ہم آپ ﷺ کے گرد جمع ہوئے تو فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے یہ کون سا دن ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایسا دن ہے جس میں اللہ عزوجل فرمائے گا: اے آدم! آگ کی طرف ایک بھیجا ہوا گروہ روانہ کرو۔ وہ عرض کریں گے: اے رب! کتنا؟ فرمائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے آگ میں۔“ راوی کہتے ہیں: جب صحابہ نے یہ سنا تو پریشان ہو گئے، ان میں سے کوئی بھی اپنے پریشان چہرے سے باز نہ آیا، جب آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا: ”جان لو اور خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، تمہارے ساتھ دو مخلوقات ہیں جو کبھی کسی قوم کے ساتھ نہیں ہوئیں مگر انہیں بڑھا دیا: یاجوج و ماجوج - میرا خیال ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ابلیس کی اولاد میں سے جو ہلاک ہوئے ان کے ساتھ - اور تم لوگوں میں اس سے زیادہ نہیں ہو جتنا اونٹ کے پہلو میں ایک تل، یا جانور کی کلائی پر ایک نشان۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15399
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 145، حدیث 308
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ قَالَا: ثنا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الرَّقَاشِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُمَيْلٍ الْخَلَّالُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ قَالَا: ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وُلِدَ لِنُوحٍ ثَلَاثٌ: فَسَامٌ أَبُو الْعَرَبِ، وَحَامٌ أَبُو الْحَبَشِ، وَيَافِثٌ أَبُو الرُّومِ "
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نوح علیہ السلام کے تین بیٹے پیدا ہوئے: سام، جو عربوں کا جد امجد ہے، حام، جو حبشیوں کا جد امجد ہے، اور یافث، جو رومیوں کا جد امجد ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15400
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 145، حدیث 309
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ وَعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ تَذَاكَرَا، فَحَدَّثَ سَمُرَةُ، أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَيْنِ: سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ، وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ {غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} [الفاتحة: ٧] " وَأَنْكَرَ عِمْرَانُ فَكَتَبُوا فِي ذَلِكَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَانَ فِي كِتَابِهِ إِلَيْهِمْ أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ
ترجمہ
سیدنا سمرہ بن جندب اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے آپس میں (اس بارے میں) تذکرہ کیا۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دو سکتے (خاموشی کے وقفے) یاد رکھے ہیں: ایک سکتہ جب آپ ﷺ تکبیر کہتے، اور ایک سکتہ جب آپ ﷺ ”نہ ان کا راستہ جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کا راستہ“ [الفاتحہ: 7] کی تلاوت سے فارغ ہوتے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار کیا، تو انہوں نے اس بارے میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، تو ان کے خط میں یہ جواب تھا کہ سمرہ نے صحیح یاد رکھا ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15401
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 146، حدیث 310
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ كَنِيزٍ السَّقَّاءُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «كَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَةٌ» قَالَ سَمُرَةُ: «سَكْتَتَانِ» فَكَتَبُوا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَتَبَ: أَنْ قَدْ حَفِظْتَ يَا سَمُرَةُ وَنَسِيَ النَّاسُ "
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کا ایک سکتہ تھا۔“ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”دو سکتے تھے۔“ تو انہوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، انہوں نے جواب لکھا: تم نے صحیح یاد رکھا ہے اے سمرہ، اور لوگ بھول گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15402
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 146، حدیث 311
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حَسَّانَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أَرْكَبُ الْأُرْجُوَانَ، وَلَا أَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ وَالْمُفَرَّحَ بِالْحَرِيرِ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں ارغوانی (سرخ) زین پر سوار نہیں ہوتا، اور نہ کسم کے رنگے ہوئے اور ریشم ملے ہوئے رنگین کپڑے پہنتا ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15403
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 146، حدیث 312
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ سَعْدٍ الْقَيْسِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُلْبَسُ الْمَكْفُوفُ بِالْحَرِيرِ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ریشم سے کنارہ لگا ہوا کپڑا نہ پہنا جائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15404
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 147، حدیث 313
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حَسَّانَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طِيْبُ الرِّجَالِ رِيحٌ، لَا لَوْنَ لَهُ، وَطِيبُ النِّسَاءِ لَوْنٌ لَا رِيحَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مردوں کی خوشبو وہ ہے جس میں مہک ہو رنگ نہ ہو، اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس میں رنگ ہو مہک نہ ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15405
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 147، حدیث 314
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ حُمْرَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ، وَلَا جَنَبَ وَلَا جَلَبَ» وَالشِّغَارُ: أَنْ يَتَزَوَّجَ الرَّجُلُ أُخْتَ هَذَا وَهَذَا أُخْتَ هَذَا بِغَيْرِ صَدَاقٍ، وَالْجَلَبَ وَالْجَنَبَ كَانَ هَذَا فِي الرِّهَانِ "
كَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّعْيَ وَنَهَى عَنْهُ وَقَدَّمَ فِيهِ وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں شغار نہیں، نہ جنب ہے اور نہ جلب۔“ (شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی بہن سے اس شرط پر نکاح کرے کہ وہ اس کی بہن سے نکاح کرے، بغیر مہر کے؛ اور جلب و جنب کا تعلق گھوڑ دوڑ کی شرط بندی سے تھا۔)
رسول اللہ ﷺ نعی (موت کا اعلان کرنا) کو ناپسند فرماتے اور اس سے منع کرتے، اور اس بارے میں سختی فرماتے تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے لوٹ مار کی وہ ہم میں سے نہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15406
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 147، حدیث 315
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ثنا يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ، ثنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں نہ جلب ہے، نہ جنب، اور نہ شغار۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15407
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 148، حدیث 316
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَتَوَيْهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نَجِيحٍ الْبَكْرِيُّ الْعَبْدِيُّ، ثنا سَعِيدُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكُمْ وَالْحُمْرَةَ، فَإِنَّهَا أَحَبُّ الزِّينَةِ إِلَى الشَّيْطَانِ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سرخ رنگ سے بچو، کیونکہ یہ شیطان کو سب سے زیادہ پسندیدہ زینت ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15408
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 148، حدیث 317
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ ثِيَابٌ حُمْرٌ فَقَالَ: «هَذِهِ زِينَةُ الشَّيْطَانِ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے سرخ کپڑے پہن رکھے تھے، تو فرمایا: ”یہ شیطان کی زینت ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15409
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 148، حدیث 318
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ أَخِيهِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی جھوٹی قسم پر قسم کھائے تاکہ اس کے ذریعے اپنے بھائی کا مال ہڑپ کرے، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15410
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 148، حدیث 319
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا الْخَلِيلُ بْنُ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15411
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 149، حدیث 320
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ أُمُّكَ وَأَبَاكَ فَأَدْنَاكَ أَدْنَاكَ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور خرچ کرنے میں پہلے ان سے شروع کرو جن کی کفالت تمہارے ذمہ ہے: تمہاری ماں اور تمہارا باپ، پھر جو تمہارے قریب تر ہو، پھر جو اس سے قریب تر ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15412
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 149، حدیث 321
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْجَارُودِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَيِّ فَاكْتَوَيْنَا فَلَا أَفْلَحْنَ وَلَا أَنْجَحْنَ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے داغنے سے منع فرمایا تھا، لیکن ہم نے داغ لیا، تو ہم کامیاب نہ ہوئے اور نہ فلاح پائی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15413
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 149، حدیث 322
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَيِّ فَاكْتَوَيْنَا فَمَا أَفْلَحْنَ وَلَا أَنْجَحْنَ»
ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں داغنے سے منع فرمایا تھا، لیکن ہم نے داغ لیا، تو ہم کامیاب نہ ہوئے اور نہ فلاح پائی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15414
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 150، حدیث 323