حدیث نمبر: 15384
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو الْجَمَاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُّوخِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَرَأَيْتُمُ الزَّانِي وَالسَّارِقَ وَشَارِبَ الْخَمْرِ مَا تَقُولُونَ فِيهِمْ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «هُنَّ فَوَاحِشُ وَفِيهِنَّ عُقُوبَةٌ، أَلَا أُنَبِّئُكُمْ مَا أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ؟ الْإِشْرَاكُ بِاللهِ» ثُمَّ قَرَأَ: {وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا "} [النساء: ٤٨] ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: {اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ} [لقمان: ١٤] ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَاحْتَفَزَ فَقَالَ: «أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ» وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُلُّ مَا نَهَى الله عَنْهُ فَهُوَ كَبِيرَةٌ
ترجمہ

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا زانی، چور اور شراب پینے والے کے بارے میں کیا خیال ہے، تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بےحیائیاں ہیں اور ان میں سزا ہے، کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے، اس نے یقیناً بہت بڑا گناہ گھڑا“ [النساء: 48]، اور والدین کی نافرمانی، پھر فرمایا: ”میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو، میری ہی طرف لوٹنا ہے“ [لقمان: 14]۔ آپ ﷺ ٹیک لگائے بیٹھے تھے، پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ”خبردار! اور جھوٹی بات۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہر وہ چیز جس سے اللہ نے منع کیا ہے وہ کبیرہ گناہ ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15384
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 140، حدیث 293