کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا عکرمہ بن ابی جہل بن ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم رضی اللہ عنہ، ان کی والدہ اُم مجالد بنو ہلال کی ایک خاتون تھیں، فتحِ مکہ کے سال اسلام لائے، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں یومِ یرموک کو شہید ہوئے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ یومِ اجنادین کو شہید ہوئے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَانَ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ قَالَ: " وَالَّذِي نَجَّانِي يَوْمِ بَدْرٍ، وَكَانَ يَأْخُذُ الْمُصْحَفَ وَيَضَعُهُ عَلَى وَجْهِهِ وَيَقُولُ: «كَلَامُ رَبِّي كَلَامُ رَبِّي»
ترجمہ
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ جب سخت قسم کھاتے تو کہتے: ”اس ذات کی قسم جس نے مجھے بدر کے دن نجات دی۔“ اور وہ مصحف اٹھا کر اپنے چہرے پر رکھتے اور کہتے: ”میرے رب کا کلام، میرے رب کا کلام۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15088
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 371، حدیث 1018
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمَ الْفَتْحِ هَرَبَ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَخَبَّ بِهِمُ الْبَحْرُ، فَجَعَلَتِ الصَّوَارِي وَمَنْ فِي الْبَحْرِ يَدْعُونَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْتَغِيثونَ بِهِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقِيلَ: مَكَانٌ لَا يَنْفَعُ فِيهِ إلَّا اللهُ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: «فَهَذَا إِلَهُ مُحَمَّدٍ الَّذِي يَدْعُونَا إِلَيْهِ، ارْجِعُوا بِنَا إِلَيْهِ» فَرَجَعَ وَأَسْلَمَ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ قَدْ أَسْلَمَتْ قَبْلَهُ فَكَانَا عَلَى نِكَاحِهِمَا
ترجمہ
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ فرار ہو گئے اور سمندر میں سوار ہو گئے، سمندر میں طوفان آ گیا، تو جہاز کے مستول اور سمندر میں موجود لوگ اللہ عزوجل کو پکارنے اور اس سے فریاد کرنے لگے۔ انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہیں بتایا گیا: یہ ایسی جگہ ہے جہاں اللہ کے سوا کوئی کام نہیں آتا۔ عکرمہ نے کہا: یہی تو محمد کا وہ الٰہ ہے جس کی طرف وہ ہمیں بلاتے ہیں، ہمیں اس کی طرف واپس لے چلو۔ چنانچہ وہ واپس لوٹے اور اسلام لے آئے۔ ان کی بیوی پہلے ہی اسلام لا چکی تھیں، چنانچہ وہ دونوں اپنے نکاح پر برقرار رہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15089
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 372، حدیث 1019
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، فِي قِصَّةِ الْفَتْحِ قَالَ: وَفَرَّ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ عَامِدًا إِلَى الْيَمَنِ وَأَقْبَلَتْ أُمُّ الْحَكِيمِ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مَسْلَمَةٌ وَهِيَ تَحْتَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِ زَوْجِهَا فَأَذِنَ لَهَا وَأَمَّنَهُ، فَخَرَجَتْ بِعَبْدٍ لَهَا رُومِيٍّ فَرَاوَدَهَا عَنْ نَفْسِهَا فَلَمْ تَزَلْ تُمَنِّيهِ وَتُقَرِّبُ لَهُ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَى أُنَاسٍ مِنْ عَكٍّ فَاسْتَعَانَتْهُمْ عَلَيْهِ فَأَوْقَفُوهُ، فَأَدْرَكَتْ زَوْجَهَا بِبَعْضِ تِهَامَةَ، وَقَدْ كَانَ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ فَلَمَّا جَلَسَ فِيهَا نَادَى بِاللَّاتِ، وَالْعُزَّى فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِينَةِ: لَا يَجُوزُ هَاهُنَا أَحَدٌ يَدْعُو شَيْئًا إلَّا اللهَ وَحْدَهُ مُخْلِصًا، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: «وَاللهِ لَئِنْ كَانَ فِي الْبَحْرِ إِنَّهُ لَفِي الْبِرِّ وَحْدَهُ، فَأَقْسَمَ بِاللهِ لَأَرْجِعَنَّ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَرَجَعَ عِكْرِمَةُ مَعَ امْرَأَتِهِ فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُهُ وَقَبِلَ مِنْهُ، وَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ حِينَ هُزِمَتْ بَنُو بَكْرٍ عَلَى امْرَأَتِهِ فَارًّا فَلَامَتْهُ وَعَجَّزَتْهُ وَعَيَّرَتْهُ بِالْفِرَارِ فَقَالَ:
[البحر الرجز]
وَأَنْتِ لَوْ رَأَيْتِنَا بِالْخَنْدَمَهْ ... إِذْ فَرَّ صَفْوَانُ وَفَرَّ عِكْرِمَهْ
وَلَحِقَتْنَا بِالسُّيُوفِ الْمُسْلِمَهْ ... يَقْطَعْنَ كُلَّ سَاعِدٍ وَجُمْجُمَهْ
لَمْ تَنْطِقِي بِاللَّوْمِ أَدْنَى كَلِمَهْ
ترجمہ
اور وہ ایک کشتی میں سوار ہوئے تھے، جب اس میں بیٹھے تو لات اور عزیٰ کو پکارا۔ کشتی والوں نے کہا: یہاں کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو پکارے، صرف اسی کو خالص پکارا جائے۔ عکرمہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر وہ سمندر میں کچھ نہیں کر سکتے تو خشکی میں بھی اکیلے بے اختیار ہی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اللہ کی قسم کھائی کہ وہ محمد ﷺ کی طرف واپس لوٹیں گے۔ چنانچہ عکرمہ اپنی بیوی کے ساتھ واپس لوٹے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے بیعت کی، آپ ﷺ نے ان سے بیعت قبول فرمائی۔ اور جب بنو بکر کو شکست ہوئی تو ہذیل کا ایک آدمی بھاگ کر اپنی بیوی کے پاس آیا، اس نے اسے ملامت کی، نامرد ٹھہرایا اور فرار پر عار دلائی، تو اس نے کہا:
”اگر تم ہمیں خندمہ کے دن دیکھتیں، جب صفوان بھاگا اور عکرمہ بھی بھاگا،
اور مسلمانوں کی تلواریں ہمارا پیچھا کرتی رہیں، ہر بازو اور کھوپڑی کاٹتی ہوئیں،
تو تم ملامت کا ادنیٰ سا لفظ بھی زبان پر نہ لاتیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15090
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 372، حدیث 1020
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ فَهْمٍ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ وَلَيْسَ لَهُ عَقِبٌ، وَكَانَ قَدْ خَرَجَ هَارِبًا يَوْمَ الْفَتْحِ حَتَّى اسْتَأْذَنَتْ لَهُ زَوْجَتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُمُّ حَكِيمِ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَأَمَّنَهُ، فَأَدْرَكَتْهُ بِالْيَمَنِ فَرَدَّتْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَيْهِ فَاعْتَنَقَهُ وَقَالَ: «مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ»
ترجمہ
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے انہیں یمن میں جا لیا اور نبی کریم ﷺ کی طرف واپس لے آئیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھا تو کھڑے ہو کر ان سے بغلگیر ہوئے اور فرمایا: ”خوش آمدید، اے مہاجر سوار!“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15091
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 373، حدیث 1021