المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة بن أبي جهل بن هشام بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم أمه أم مجالد امرأة من بني هلال، أسلم عام الفتح، واستشهد يوم اليرموك في خلافة عمر بن الخطاب رضي الله عنهما، وقيل: استشهد يوم أجنادين باب: سیدنا عکرمہ بن ابی جہل بن ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم رضی اللہ عنہ، ان کی والدہ اُم مجالد بنو ہلال کی ایک خاتون تھیں، فتحِ مکہ کے سال اسلام لائے، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں یومِ یرموک کو شہید ہوئے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ یومِ اجنادین کو شہید ہوئے
حدیث نمبر: 15088
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَانَ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ قَالَ: " وَالَّذِي نَجَّانِي يَوْمِ بَدْرٍ، وَكَانَ يَأْخُذُ الْمُصْحَفَ وَيَضَعُهُ عَلَى وَجْهِهِ وَيَقُولُ: «كَلَامُ رَبِّي كَلَامُ رَبِّي»ترجمہ
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ جب سخت قسم کھاتے تو کہتے: ”اس ذات کی قسم جس نے مجھے بدر کے دن نجات دی۔“ اور وہ مصحف اٹھا کر اپنے چہرے پر رکھتے اور کہتے: ”میرے رب کا کلام، میرے رب کا کلام۔“