حدیث نمبر: 15089
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمَ الْفَتْحِ هَرَبَ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَخَبَّ بِهِمُ الْبَحْرُ، فَجَعَلَتِ الصَّوَارِي وَمَنْ فِي الْبَحْرِ يَدْعُونَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْتَغِيثونَ بِهِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقِيلَ: مَكَانٌ لَا يَنْفَعُ فِيهِ إلَّا اللهُ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: «فَهَذَا إِلَهُ مُحَمَّدٍ الَّذِي يَدْعُونَا إِلَيْهِ، ارْجِعُوا بِنَا إِلَيْهِ» فَرَجَعَ وَأَسْلَمَ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ قَدْ أَسْلَمَتْ قَبْلَهُ فَكَانَا عَلَى نِكَاحِهِمَا
ترجمہ

ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ فرار ہو گئے اور سمندر میں سوار ہو گئے، سمندر میں طوفان آ گیا، تو جہاز کے مستول اور سمندر میں موجود لوگ اللہ عزوجل کو پکارنے اور اس سے فریاد کرنے لگے۔ انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہیں بتایا گیا: یہ ایسی جگہ ہے جہاں اللہ کے سوا کوئی کام نہیں آتا۔ عکرمہ نے کہا: یہی تو محمد کا وہ الٰہ ہے جس کی طرف وہ ہمیں بلاتے ہیں، ہمیں اس کی طرف واپس لے چلو۔ چنانچہ وہ واپس لوٹے اور اسلام لے آئے۔ ان کی بیوی پہلے ہی اسلام لا چکی تھیں، چنانچہ وہ دونوں اپنے نکاح پر برقرار رہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15089
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 372، حدیث 1019