المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة بن أبي جهل بن هشام بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم أمه أم مجالد امرأة من بني هلال، أسلم عام الفتح، واستشهد يوم اليرموك في خلافة عمر بن الخطاب رضي الله عنهما، وقيل: استشهد يوم أجنادين باب: سیدنا عکرمہ بن ابی جہل بن ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم رضی اللہ عنہ، ان کی والدہ اُم مجالد بنو ہلال کی ایک خاتون تھیں، فتحِ مکہ کے سال اسلام لائے، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں یومِ یرموک کو شہید ہوئے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ یومِ اجنادین کو شہید ہوئے
حدیث نمبر: 15089
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمَ الْفَتْحِ هَرَبَ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَخَبَّ بِهِمُ الْبَحْرُ، فَجَعَلَتِ الصَّوَارِي وَمَنْ فِي الْبَحْرِ يَدْعُونَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْتَغِيثونَ بِهِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقِيلَ: مَكَانٌ لَا يَنْفَعُ فِيهِ إلَّا اللهُ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: «فَهَذَا إِلَهُ مُحَمَّدٍ الَّذِي يَدْعُونَا إِلَيْهِ، ارْجِعُوا بِنَا إِلَيْهِ» فَرَجَعَ وَأَسْلَمَ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ قَدْ أَسْلَمَتْ قَبْلَهُ فَكَانَا عَلَى نِكَاحِهِمَاترجمہ
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ فرار ہو گئے اور سمندر میں سوار ہو گئے، سمندر میں طوفان آ گیا، تو جہاز کے مستول اور سمندر میں موجود لوگ اللہ عزوجل کو پکارنے اور اس سے فریاد کرنے لگے۔ انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہیں بتایا گیا: یہ ایسی جگہ ہے جہاں اللہ کے سوا کوئی کام نہیں آتا۔ عکرمہ نے کہا: یہی تو محمد کا وہ الٰہ ہے جس کی طرف وہ ہمیں بلاتے ہیں، ہمیں اس کی طرف واپس لے چلو۔ چنانچہ وہ واپس لوٹے اور اسلام لے آئے۔ ان کی بیوی پہلے ہی اسلام لا چکی تھیں، چنانچہ وہ دونوں اپنے نکاح پر برقرار رہے۔