المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة بن أبي جهل بن هشام بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم أمه أم مجالد امرأة من بني هلال، أسلم عام الفتح، واستشهد يوم اليرموك في خلافة عمر بن الخطاب رضي الله عنهما، وقيل: استشهد يوم أجنادين باب: سیدنا عکرمہ بن ابی جہل بن ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم رضی اللہ عنہ، ان کی والدہ اُم مجالد بنو ہلال کی ایک خاتون تھیں، فتحِ مکہ کے سال اسلام لائے، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں یومِ یرموک کو شہید ہوئے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ یومِ اجنادین کو شہید ہوئے
حدیث نمبر: 15091
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ فَهْمٍ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ وَلَيْسَ لَهُ عَقِبٌ، وَكَانَ قَدْ خَرَجَ هَارِبًا يَوْمَ الْفَتْحِ حَتَّى اسْتَأْذَنَتْ لَهُ زَوْجَتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُمُّ حَكِيمِ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَأَمَّنَهُ، فَأَدْرَكَتْهُ بِالْيَمَنِ فَرَدَّتْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَيْهِ فَاعْتَنَقَهُ وَقَالَ: «مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ»ترجمہ
مصعب بن عبداللہ زبیری کہتے ہیں: عکرمہ بن ابی جہل بن ہشام، ان کی نسل آگے نہیں چلی۔ وہ فتح مکہ کے دن بھاگ نکلے تھے، یہاں تک کہ ان کی بیوی ام حکیم بنت حارث بن ہشام نے نبی کریم ﷺ سے ان کے لیے امان مانگی تو آپ ﷺ نے انہیں امان دے دی۔ پھر سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے انہیں یمن میں جا لیا اور نبی کریم ﷺ کی طرف واپس لے آئیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھا تو کھڑے ہو کر ان سے بغلگیر ہوئے اور فرمایا: ”خوش آمدید، اے مہاجر سوار!“