المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة بن أبي جهل بن هشام بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم أمه أم مجالد امرأة من بني هلال، أسلم عام الفتح، واستشهد يوم اليرموك في خلافة عمر بن الخطاب رضي الله عنهما، وقيل: استشهد يوم أجنادين باب: سیدنا عکرمہ بن ابی جہل بن ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم رضی اللہ عنہ، ان کی والدہ اُم مجالد بنو ہلال کی ایک خاتون تھیں، فتحِ مکہ کے سال اسلام لائے، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں یومِ یرموک کو شہید ہوئے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ یومِ اجنادین کو شہید ہوئے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، فِي قِصَّةِ الْفَتْحِ قَالَ: وَفَرَّ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ عَامِدًا إِلَى الْيَمَنِ وَأَقْبَلَتْ أُمُّ الْحَكِيمِ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مَسْلَمَةٌ وَهِيَ تَحْتَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِ زَوْجِهَا فَأَذِنَ لَهَا وَأَمَّنَهُ، فَخَرَجَتْ بِعَبْدٍ لَهَا رُومِيٍّ فَرَاوَدَهَا عَنْ نَفْسِهَا فَلَمْ تَزَلْ تُمَنِّيهِ وَتُقَرِّبُ لَهُ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَى أُنَاسٍ مِنْ عَكٍّ فَاسْتَعَانَتْهُمْ عَلَيْهِ فَأَوْقَفُوهُ، فَأَدْرَكَتْ زَوْجَهَا بِبَعْضِ تِهَامَةَ، وَقَدْ كَانَ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ فَلَمَّا جَلَسَ فِيهَا نَادَى بِاللَّاتِ، وَالْعُزَّى فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِينَةِ: لَا يَجُوزُ هَاهُنَا أَحَدٌ يَدْعُو شَيْئًا إلَّا اللهَ وَحْدَهُ مُخْلِصًا، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: «وَاللهِ لَئِنْ كَانَ فِي الْبَحْرِ إِنَّهُ لَفِي الْبِرِّ وَحْدَهُ، فَأَقْسَمَ بِاللهِ لَأَرْجِعَنَّ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَرَجَعَ عِكْرِمَةُ مَعَ امْرَأَتِهِ فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُهُ وَقَبِلَ مِنْهُ، وَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ حِينَ هُزِمَتْ بَنُو بَكْرٍ عَلَى امْرَأَتِهِ فَارًّا فَلَامَتْهُ وَعَجَّزَتْهُ وَعَيَّرَتْهُ بِالْفِرَارِ فَقَالَ:
[البحر الرجز]
وَأَنْتِ لَوْ رَأَيْتِنَا بِالْخَنْدَمَهْ ... إِذْ فَرَّ صَفْوَانُ وَفَرَّ عِكْرِمَهْ
وَلَحِقَتْنَا بِالسُّيُوفِ الْمُسْلِمَهْ ... يَقْطَعْنَ كُلَّ سَاعِدٍ وَجُمْجُمَهْ
لَمْ تَنْطِقِي بِاللَّوْمِ أَدْنَى كَلِمَهْعروہ فتح مکہ کے قصے میں بیان کرتے ہیں: عکرمہ بن ابی جہل یمن کا رخ کر کے بھاگ نکلے، اور ام حکیم بنت حارث بن ہشام — جو اس وقت مسلمان ہو چکی تھیں اور عکرمہ بن ابی جہل کے نکاح میں تھیں — آئیں اور رسول اللہ ﷺ سے اپنے شوہر کو تلاش کرنے کی اجازت مانگی، آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی اور عکرمہ کو امان دے دی۔ وہ اپنے ایک رومی غلام کے ساتھ نکلیں، اس غلام نے ان سے برائی کا ارادہ کیا تو وہ اسے امیدیں دلاتی اور ٹالتی رہیں یہاں تک کہ قبیلہ عک کے کچھ لوگوں کے پاس پہنچیں اور اس کے خلاف ان سے مدد مانگی تو انہوں نے اسے روک کر باندھ لیا۔ پھر انہوں نے تہامہ کے کسی علاقے میں اپنے شوہر کو جا لیا، وہ ایک کشتی میں سوار ہو چکے تھے، جب اس میں بیٹھے تو لات اور عزیٰ کو پکارا۔ کشتی والوں نے کہا: یہاں کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو پکارے، صرف اسی کو خالص پکارا جائے۔ عکرمہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر سمندر میں وہی اکیلا (پکارے جانے کے لائق) ہے تو خشکی میں بھی وہی اکیلا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اللہ کی قسم کھائی کہ وہ محمد ﷺ کی طرف واپس لوٹیں گے۔ چنانچہ عکرمہ اپنی بیوی کے ساتھ واپس لوٹے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے بیعت کی، آپ ﷺ نے ان سے بیعت قبول فرمائی۔ اور جب بنو بکر کو شکست ہوئی تو ہذیل کا ایک آدمی بھاگ کر اپنی بیوی کے پاس آیا، اس نے اسے ملامت کی، بزدل ٹھہرایا اور فرار پر عار دلائی، تو اس نے کہا: ”اگر تم ہمیں خندمہ کے دن دیکھتیں، جب صفوان بھاگا اور عکرمہ بھی بھاگا، اور مسلمانوں کی تلواریں ہمارا پیچھا کرتی رہیں، ہر بازو اور کھوپڑی کاٹتی ہوئیں، تو تم ملامت کا ادنیٰ سا لفظ بھی زبان پر نہ لاتیں۔“