حدیث نمبر: 15090
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، فِي قِصَّةِ الْفَتْحِ قَالَ: وَفَرَّ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ عَامِدًا إِلَى الْيَمَنِ وَأَقْبَلَتْ أُمُّ الْحَكِيمِ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مَسْلَمَةٌ وَهِيَ تَحْتَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِ زَوْجِهَا فَأَذِنَ لَهَا وَأَمَّنَهُ، فَخَرَجَتْ بِعَبْدٍ لَهَا رُومِيٍّ فَرَاوَدَهَا عَنْ نَفْسِهَا فَلَمْ تَزَلْ تُمَنِّيهِ وَتُقَرِّبُ لَهُ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَى أُنَاسٍ مِنْ عَكٍّ فَاسْتَعَانَتْهُمْ عَلَيْهِ فَأَوْقَفُوهُ، فَأَدْرَكَتْ زَوْجَهَا بِبَعْضِ تِهَامَةَ، وَقَدْ كَانَ رَكِبَ فِي سَفِينَةٍ فَلَمَّا جَلَسَ فِيهَا نَادَى بِاللَّاتِ، وَالْعُزَّى فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِينَةِ: لَا يَجُوزُ هَاهُنَا أَحَدٌ يَدْعُو شَيْئًا إلَّا اللهَ وَحْدَهُ مُخْلِصًا، فَقَالَ عِكْرِمَةُ: «وَاللهِ لَئِنْ كَانَ فِي الْبَحْرِ إِنَّهُ لَفِي الْبِرِّ وَحْدَهُ، فَأَقْسَمَ بِاللهِ لَأَرْجِعَنَّ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَرَجَعَ عِكْرِمَةُ مَعَ امْرَأَتِهِ فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُهُ وَقَبِلَ مِنْهُ، وَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ حِينَ هُزِمَتْ بَنُو بَكْرٍ عَلَى امْرَأَتِهِ فَارًّا فَلَامَتْهُ وَعَجَّزَتْهُ وَعَيَّرَتْهُ بِالْفِرَارِ فَقَالَ:
[البحر الرجز]
وَأَنْتِ لَوْ رَأَيْتِنَا بِالْخَنْدَمَهْ ... إِذْ فَرَّ صَفْوَانُ وَفَرَّ عِكْرِمَهْ
وَلَحِقَتْنَا بِالسُّيُوفِ الْمُسْلِمَهْ ... يَقْطَعْنَ كُلَّ سَاعِدٍ وَجُمْجُمَهْ
لَمْ تَنْطِقِي بِاللَّوْمِ أَدْنَى كَلِمَهْ
ترجمہ

اور وہ ایک کشتی میں سوار ہوئے تھے، جب اس میں بیٹھے تو لات اور عزیٰ کو پکارا۔ کشتی والوں نے کہا: یہاں کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو پکارے، صرف اسی کو خالص پکارا جائے۔ عکرمہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر وہ سمندر میں کچھ نہیں کر سکتے تو خشکی میں بھی اکیلے بے اختیار ہی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اللہ کی قسم کھائی کہ وہ محمد ﷺ کی طرف واپس لوٹیں گے۔ چنانچہ عکرمہ اپنی بیوی کے ساتھ واپس لوٹے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے بیعت کی، آپ ﷺ نے ان سے بیعت قبول فرمائی۔ اور جب بنو بکر کو شکست ہوئی تو ہذیل کا ایک آدمی بھاگ کر اپنی بیوی کے پاس آیا، اس نے اسے ملامت کی، نامرد ٹھہرایا اور فرار پر عار دلائی، تو اس نے کہا: ”اگر تم ہمیں خندمہ کے دن دیکھتیں، جب صفوان بھاگا اور عکرمہ بھی بھاگا، اور مسلمانوں کی تلواریں ہمارا پیچھا کرتی رہیں، ہر بازو اور کھوپڑی کاٹتی ہوئیں، تو تم ملامت کا ادنیٰ سا لفظ بھی زبان پر نہ لاتیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 15090
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 372، حدیث 1020