کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ابومالک اشجعی کی ربعی سے روایات
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ سَعِيدِ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَجُلًا، مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَمَرَ بِجِيفَتِهِ إِذَا مَاتَ أَنْ يُحْرَقَ، ثُمَّ يُطْحَنَ، ثُمَّ يُرْفَعَ، فَإِذَا كَانَتْ رِيحٌ عَاصِفٌ ذُرِيَ فِيهَا فَجُمِعَ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ مَاذَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا؟ فَقَالَ: يَا رَبِّ، لَمْ يَكُنْ عَبْدٌ أَجْرَأَ عَلَيْكَ مِنِّي، وَلَا أَعْصَى لَكَ مِنِّي، فَرَجَوْتُ أَنْ أَنْجُوَ، فَغَفَرَ لَهُ " فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: هَكَذَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تم سے پہلے ایک آدمی نے وصیت کی کہ جب وہ مر جائے تو اس کی لاش کو جلا دیا جائے، پھر پیس دیا جائے، پھر اٹھا لیا جائے، اور جب تیز ہوا چلے تو اسے اس میں بکھیر دیا جائے۔ چنانچہ اللہ نے اسے اپنے پاس جمع کر لیا اور فرمایا: تم پر افسوس! تمہیں یہ کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! تیرے کسی بندے نے تجھ پر مجھ سے زیادہ جرأت نہیں کی اور نہ مجھ سے زیادہ تیری نافرمانی کی، مگر مجھے امید تھی کہ میں اس طرح بچ جاؤں گا۔ چنانچہ اسے بخش دیا گیا۔ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14719
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 234، حدیث 647
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: " أَمَرَ رَجُلٌ أَهْلَهُ إِذَا مَاتَ أَنْ يُحْرِقُوهُ، ثُمَّ يَدُقُّوهُ، ثُمَّ يَذَرُوهُ فِي يَوْمٍ رَائِحٍ عَاصِفٍ، فَفَعَلُوا، فَجُمِعَ إِلَى رَبِّهِ جَلَّ وَعَزَّ فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ لَكَ يَا رَبِّ عَبْدٌ أَعْصَى لَكَ مِنِّي فَرَجَوْتُ أَنْ أَنْجُوَ فَقَالَ: تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي، فَغَفَرَ لَهُ " فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ هَكَذَا سَمِعْتُهُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ جب وہ مر جائے تو وہ اسے جلا دیں، پھر کوٹ ڈالیں، پھر ایک تیز ہوا والے دن اسے بکھیر دیں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، تو اللہ عزوجل نے اسے اپنے پاس جمع کر لیا اور فرمایا: تمہیں یہ کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! تیرا کوئی بندہ مجھ سے زیادہ تیرا نافرمان نہ تھا، مگر مجھے امید تھی کہ میں بچ جاؤں گا۔ اللہ نے فرمایا: میرے بندے سے درگزر کرو۔ چنانچہ اسے بخش دیا گیا۔ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی زبانی سنی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14720
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 234، حدیث 648
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى بِهِ رَبُّهُ جَلَّ وَعَزَّ فَقَالَ: «مَا عَمِلْتَ لِي فِي الدُّنْيَا؟» فَقَالَ: مَا عَمِلْتُ لَكَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَرْجُو بِهِ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ رَجُلًا قَدْ أَعْطَيْتَنِي مَالًا أُبَايِعُ النَّاسَ، وَكَانَ مِنْ خُلُقِي التَّجَاوُزَ، وَكُنْتُ أُيَسِّرُ عَلَى الْمُوسِرِ، وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ، فَتَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي، فَغَفَرَ لَهُ. فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو اس کے رب عزوجل کے سامنے لایا گیا، تو اللہ نے فرمایا: ”تم نے دنیا میں میرے لیے کیا عمل کیا؟“ اس نے کہا: میں نے تیرے لیے ایک ذرہ برابر بھی ایسا کوئی عمل نہیں کیا جس کی امید رکھوں، سوائے اس کے کہ تو نے مجھے مال عطا کیا تھا، میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا، اور میری فطرت میں درگزر کرنا تھا، میں خوش حال کے ساتھ نرمی کرتا اور تنگ دست کو مہلت دیتا تھا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ”ہم اس کے زیادہ حق دار ہیں، پس میرے بندے سے درگزر کرو۔“ چنانچہ اسے بخش دیا گیا۔ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14721
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 235، حدیث 649
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثَنَا مَرْوانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: أَتَى الله عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ فَقَالَ: «مَا عَمِلْتَ؟» فَيَقُولُ: مَا عَمِلْتُ شَيْئًا أَرْجُوكَ بِهِ كَثِيرًا مِنْ صَلَاةٍ وَصَوْمٍ غَيْرَ أَنَّكَ كُنْتَ أَتَيْتَنِي فَضْلًا مِنْ مَالٍ، فَكُنْتُ أُخَالِطُ النَّاسَ، وَأُيَسِّرُ عَلَى الْمُوسِرَ، وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، فَقَالَ: «نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ، فَتَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي» فَغَفَرَ اللهُ لَهُ
ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ عزوجل اپنے ایک بندے کو سامنے لائے گا اور فرمائے گا: ”تم نے کیا عمل کیا؟“ وہ کہے گا: میں نے نماز اور روزے میں سے کوئی ایسی چیز نہیں کی جس کی مجھے تجھ سے بڑی امید ہو، سوائے اس کے کہ تو نے مجھے مال کی فراوانی عطا کی تھی، تو میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا، خوش حال کے ساتھ نرمی کرتا اور تنگ دست کو مہلت دیتا تھا۔ اللہ فرمائے گا: ”ہم اس کے زیادہ حق دار ہیں، پس میرے بندے سے درگزر کرو۔“ چنانچہ اللہ نے اسے بخش دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14722
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 235، حدیث 650