حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، ثَنَا سَلَمَةُ الْعَوْصِيُّ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، ح، وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ الرَّازِيُّ، ثَنَا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ مَغْرَاءَ، ح، وَحَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ فُورَكٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْمَسْرُوقِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ، وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: حَدِّثْ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْآخَرُ: بَلْ حَدِّثْ أَنْتَ وَأُصَدِّقُكَ أَنَا، فَحَدَّثَ أَحَدُهُمَا وَصَدَّقَهُ الْآخَرُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُؤْتَى بِرَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: انْظُرُوا فِي عَمَلِهِ، فَيَقُولُ: رَبِّ مَا كُنْتُ أعْمَلُ خَيْرًا غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لِي مَالٌ وَكُنْتُ أُخَالِطُ النَّاسَ، فَمَنْ كَانَ مُوسِرًا يَسَّرْتُ عَلَيْهِ، وَمَنْ كَانَ مُعْسِرًا أَنْظَرْتُهُ إِلَى مَيْسَرَتِهِ، فَقَالَ اللهُ تَعَالَى: «أَنَا أَحَقُّ مَنْ يَسَّرَ فَغَفَرَ لَهُ» وَقَالَ: صَدَقْتَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ
ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُؤْتَى بِرَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَقَدْ قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَاَحْرِقُونِي، ثُمَّ اطْحَنُونِي، ثُمَّ اسْتَقْبَلُوا بِي رِيحًا عَاصِفًا فَذَرُونِي، فَجَمَعَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ: لَمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ خَشْيَتِكَ، فَغَفَرَ لَهُ " قَالَ: صَدَقْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ. وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَغْرَاءَ
ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُؤْتَى بِرَجُلٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَقَدْ قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَاَحْرِقُونِي، ثُمَّ اطْحَنُونِي، ثُمَّ اسْتَقْبَلُوا بِي رِيحًا عَاصِفًا فَذَرُونِي، فَجَمَعَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ: لَمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ خَشْيَتِكَ، فَغَفَرَ لَهُ " قَالَ: صَدَقْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ. وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَغْرَاءَ
ترجمہ
ربعی بن حراش رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا حذیفہ اور سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: آپ نے رسول اللہ ﷺ سے جو سنا ہے وہ بیان کیجیے۔ دوسرے نے کہا: بلکہ آپ بیان کیجیے اور میں آپ کی تصدیق کروں گا۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے بیان کیا اور دوسرے نے اس کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا: اس کے عمل کو دیکھو۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے کوئی نیکی نہیں کی سوائے اس کے کہ میرے پاس مال تھا اور میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا، جو خوش حال ہوتا اسے نرمی سے پیش آتا اور جو تنگ دست ہوتا اسے اس کی خوش حالی تک مہلت دیتا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں اس سے زیادہ حق دار ہوں کہ نرمی کروں، چنانچہ اسے بخش دیا جائے گا۔“ (دوسرے نے) کہا: آپ نے سچ کہا، میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کو یہی فرماتے سنا ہے۔
پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بھی فرماتے سنا: ”قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا، اس نے اپنے گھر والوں سے کہا تھا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر پیس ڈالنا، پھر تیز ہوا کے رخ پر مجھے بکھیر دینا۔ چنانچہ اللہ نے قیامت کے دن اسے جمع کر لیا اور فرمایا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: تیرے خوف سے۔ چنانچہ اسے بخش دیا گیا۔“ (دوسرے نے) کہا: آپ نے سچ کہا، میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کو یہی فرماتے سنا ہے۔
یہ الفاظ عبدالرحمن بن مغراء کی روایت کے ہیں۔
پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بھی فرماتے سنا: ”قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا، اس نے اپنے گھر والوں سے کہا تھا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر پیس ڈالنا، پھر تیز ہوا کے رخ پر مجھے بکھیر دینا۔ چنانچہ اللہ نے قیامت کے دن اسے جمع کر لیا اور فرمایا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: تیرے خوف سے۔ چنانچہ اسے بخش دیا گیا۔“ (دوسرے نے) کہا: آپ نے سچ کہا، میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کو یہی فرماتے سنا ہے۔
یہ الفاظ عبدالرحمن بن مغراء کی روایت کے ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ: اجْتَمَعَ حُذَيْفَةُ، وَأَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا أَعْلَمُ بِمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنْهُ، «إِنَّ مَعَهُ نَهَرًا مِنْ نَارٍ وَنَهَرًا مِنْ مَاءٍ، وَالَّذِي يَرَوْنَ أَنَّهُ نَارٌ مَاءٌ، وَالَّذِي يَرَوْنَ أَنَّهُ مَاءٌ نَارٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَيَشْرَبُ مِنَ الَّذِي يَرَى أَنَّهُ نَارٌ فَإِنَّهُ يَجِدَهَا مَاءً» فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: وَهَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
ترجمہ
ربعی بن حراش رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا حذیفہ اور سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہما اکٹھے ہوئے تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے دجال کے پاس جو کچھ ہے اس کا زیادہ علم ہے، اس کے پاس آگ کی ایک نہر اور پانی کی ایک نہر ہوگی، جسے وہ آگ سمجھیں گے وہ پانی ہوگی، اور جسے وہ پانی سمجھیں گے وہ آگ ہوگی، پس تم میں سے جو کوئی یہ زمانہ پائے وہ اس نہر سے پیے جسے وہ آگ سمجھتا ہے، کیونکہ وہ اسے پانی پائے گا۔ اس پر سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح فرماتے سنا ہے۔