حدیث نمبر: 14722
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثَنَا مَرْوانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: أَتَى الله عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ فَقَالَ: «مَا عَمِلْتَ؟» فَيَقُولُ: مَا عَمِلْتُ شَيْئًا أَرْجُوكَ بِهِ كَثِيرًا مِنْ صَلَاةٍ وَصَوْمٍ غَيْرَ أَنَّكَ كُنْتَ أَتَيْتَنِي فَضْلًا مِنْ مَالٍ، فَكُنْتُ أُخَالِطُ النَّاسَ، وَأُيَسِّرُ عَلَى الْمُوسِرَ، وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، فَقَالَ: «نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ، فَتَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي» فَغَفَرَ اللهُ لَهُ
ترجمہ

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ عزوجل اپنے ایک بندے کو سامنے لائے گا اور فرمائے گا: ”تم نے کیا عمل کیا؟“ وہ کہے گا: میں نے نماز اور روزے میں سے کوئی ایسی چیز نہیں کی جس کی مجھے تجھ سے بڑی امید ہو، سوائے اس کے کہ تو نے مجھے مال کی فراوانی عطا کی تھی، تو میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا، خوش حال کے ساتھ نرمی کرتا اور تنگ دست کو مہلت دیتا تھا۔ اللہ فرمائے گا: ”ہم اس کے زیادہ حق دار ہیں، پس میرے بندے سے درگزر کرو۔“ چنانچہ اللہ نے اسے بخش دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14722
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 235، حدیث 650