المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو مالك الأشجعي، عن ربعي باب: ابومالک اشجعی کی ربعی سے روایات
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى بِهِ رَبُّهُ جَلَّ وَعَزَّ فَقَالَ: «مَا عَمِلْتَ لِي فِي الدُّنْيَا؟» فَقَالَ: مَا عَمِلْتُ لَكَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَرْجُو بِهِ إِلَّا أَنِّي كُنْتُ رَجُلًا قَدْ أَعْطَيْتَنِي مَالًا أُبَايِعُ النَّاسَ، وَكَانَ مِنْ خُلُقِي التَّجَاوُزَ، وَكُنْتُ أُيَسِّرُ عَلَى الْمُوسِرِ، وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: " نَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ، فَتَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي، فَغَفَرَ لَهُ. فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُسیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو اس کے رب عزوجل کے سامنے لایا گیا، تو اللہ نے فرمایا: ”تم نے دنیا میں میرے لیے کیا عمل کیا؟“ اس نے کہا: میں نے تیرے لیے ایک ذرہ برابر بھی ایسا کوئی عمل نہیں کیا جس کی امید رکھوں، سوائے اس کے کہ تو نے مجھے مال عطا کیا تھا، میں لوگوں سے لین دین کرتا تھا، اور میری فطرت میں درگزر کرنا تھا، میں خوش حال کے ساتھ نرمی کرتا اور تنگ دست کو مہلت دیتا تھا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ”ہم اس کے زیادہ حق دار ہیں، پس میرے بندے سے درگزر کرو۔“ چنانچہ اسے بخش دیا گیا۔ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔