کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: كُنَّا نَذْكُرُ شَهْرَ رَمَضَانَ فَقَالَ عُتْبَةُ بْنُ فَرْقَدٍ: مَا تَذْكُرُونَ؟ قُلْنَا: نَذْكُرُ شَهْرَ رَمَضَانَ، قَالَ: إنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تُفْتَحُ فِيه أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَتُغْلَقُ أَبْوَابُ النَّارِ، ويُغَلُّ فِيه الشَّيَاطِينُ وَيُنَادِي فِيه مُنَادٍ كُلَّ لَيْلَةٍ: يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ هَلُمَّ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ اقْتَصِرْ "
ترجمہ
عرفجہ بیان کرتے ہیں: ہم رمضان کے مہینے کا ذکر کر رہے تھے، عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کیا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: رمضان کے مہینے کا۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اس میں شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے، اور اس میں ہر رات ایک منادی ندا دیتا ہے: اے بھلائی چاہنے والے! آگے بڑھ، اور اے برائی چاہنے والے! رک جا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14397
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 132، حدیث 325
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثَنَا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَرْفَجَةَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا جَاءَ شَهْرُ رَمَضَانَ فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ وَنَادَى مُنَادٍ: يَا طَالِبَ الْخَيْرِ هَلُمَّ، وَيَا طَالِبَ الشَّرِّ اقْتَصِرْ حَتَّى يَنْسَلِخَ الشَّهْرُ "
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن فرقد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے، اور ایک منادی ندا دیتا ہے: اے بھلائی کے طلبگار! آگے بڑھ، اور اے برائی کے طلبگار! رک جا - یہاں تک کہ مہینہ ختم ہو جائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14398
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 132، حدیث 326
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ
ترجمہ
عرفجہ، عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ سے، اسی سابقہ سند سے اسی جیسی روایت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14399
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 132، حدیث 327
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَنَادَى فِيهِم: يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ "
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ میں سستی دیکھی تو انہیں پکارا: ”اے سورۃ البقرہ والو!“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14400
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 133، حدیث 328
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ حُصَيْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عَاصِمٍ، امْرَأَةُ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ قَالَتْ: كُنَّا عِنْدَ عُتْبَةَ نِسْوَةً نَتَطَيَّبُ ونَخْرُجُ وَهُو أطْيَبُنَا رِيحًا مَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَدَّهِنَ فَقُلْنَا لَه: مَا هَذِه الرِّيحُ؟ قَالَ: أَخَذَنِي الشَّرَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فَشَكَوْتُ ذَلِك إِلَيْه «فَأَمَرَنِي أَنْ أَلْبَسَ عَلَيَّ ثَوْبِي - يَعْنِي يُغَطِّي فَرْجَهُ - ثُمَّ تَفَلَ فِي يَدِهِ ثُمَّ مَسَحَ بِهَا ظَهْرِي وَبَطْنِي»
ترجمہ
…عتبہ رضی اللہ عنہ کی بیویوں میں سے ایک بیان کرتی ہیں: ہم کچھ عورتیں خوشبو لگا کر نکلتی تھیں، اور وہ (عتبہ) ہم سب سے زیادہ خوشبودار ہوتے، حالانکہ وہ صرف تیل ہی لگاتے تھے۔ ہم نے ان سے پوچھا: یہ خوشبو کیسی ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مجھے خارش (جلدی بیماری) لاحق ہوئی تھی، میں نے آپ ﷺ سے اس کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنا کپڑا لپیٹ لوں - یعنی اپنی شرمگاہ ڈھانپ لوں - پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ میں تھوکا اور اسے میری پیٹھ اور پیٹ پر پھیر دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14401
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 133، حدیث 329
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أُمِّ عَاصِمٍ، امْرَأَةِ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ قَالَتْ: كُنَّا عِنْدَ عُتْبَةَ نِسْوَةً، وَإنَّ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنَّا تُرِيدُ أَنْ تَكُونَ أَطْيَبَ رِيحًا مِن صَاحِبَتِهَا، وَكَانَ عُتْبَةُ أَطْيَبَ رِيحًا، وَكَان إِذَا خَرَجَ عُرِفَ مِن رِيحٍ طَيِّبََةٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِك فَقَالَتْ: اتَّخَذَهُ الشَّرَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فَشَكَا ذَلِك إِلَيْه «فَأَمَرَهُ فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ يَدَهُ عَلَى فَرْجِهِ، ثُمّ تَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ فَمَسَحَ ظَهْرَهُ وَبَطْنَهُ»
ترجمہ
…اور عتبہ سب سے زیادہ خوشبودار تھے، جب وہ نکلتے تو خوشبو سے پہچانے جاتے۔ میں نے ان (بیوی) سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: انہیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خارش لاحق ہوئی تھی، انہوں نے اس کی شکایت آپ ﷺ سے کی تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا، وہ آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے اور اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ پر رکھ لیا، پھر نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ میں تھوکا اور ان کی پیٹھ اور پیٹ پر پھیر دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14402
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 133، حدیث 330
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو رَبِيعَةَ وَهُو ابْنُ عَوْفٍ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أُمِّ عَاصِمٍ، امْرَأَةِ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ قَالَتْ: كُنَّا ثَلَاثَ نِسْوَةٍ لِعُتْبَةَ فَكُنَّا نَتَطَيَّبُ فَكَانَ أَطْيَبَنَا رِيحًا، وَكَانَ لَا يَزِيدَ عَلَى أَنْ يَدْهُنَ رَأْسَهُ وَلِحْيَتَهُ، فَيَقُولُ لَه الْقَائِلُ: يَا ابْنَ فَرْقَدٍ، مَا أَطْيَبَ رِيحَكَ؟ فَقَالَتْ لَهُ: إِنَّا نَتَطَيَّبُ وَمَا تَزِيدُ عَلَى أَنْ تَدْهُنَ رَأْسَكَ وَلِحْيَتَكَ وَأَنْتَ أطْيَبُنَا رِيحًا فَبِمَ ذَلِك؟ فَقَالَ: " أَصَابَنِي شَرَاءٌ فَقَالَ: ادْنُهْ فَدَنَوْتُ فَأَخَذَ إِزَارِي بِسُفْلِهِ فَوَضَعَهُ عَلَى فَرْجِي، ثُمّ بَسَطَ يَدَيْهِ فَنَفَثَ فِيهِمَا فَمَسَحَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، وَمَسَحَ إِحْدَاهُمَا عَلَى بَطْنِي وَالْأُخْرَى عَلَى ظَهْرِي فَهَذِهِ الرِّيحُ مِنْ ذَلِكَ "
ترجمہ
ام عاصم، عتبہ بن فرقد کی بیوی، بیان کرتی ہیں: ہم عتبہ کی تین بیویاں تھیں، ہم خوشبو لگاتی تھیں، مگر وہ ہم سب سے زیادہ خوشبودار ہوتے، حالانکہ وہ صرف اپنے سر اور داڑھی پر تیل لگانے سے زیادہ کچھ نہ کرتے۔ کوئی کہنے والا ان سے کہتا: اے ابن فرقد! تمہاری خوشبو کیسی عمدہ ہے! میں نے ان سے کہا: ہم خوشبو لگاتی ہیں اور تم صرف اپنے سر اور داڑھی پر تیل ہی لگاتے ہو، پھر بھی تم ہم سب سے زیادہ خوشبودار ہو، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا: ”مجھے خارش لاحق ہوئی تھی، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قریب آؤ۔ میں قریب گیا تو آپ ﷺ نے میرا تہبند اس کے نچلے حصے سے پکڑ کر میری شرمگاہ پر رکھ دیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور ان میں تھوکا، پھر ایک ہاتھ دوسرے پر ملا، پھر ایک ہاتھ میرے پیٹ پر اور دوسرا میری پیٹھ پر پھیرا، سو یہ خوشبو اسی وجہ سے ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14403
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 134، حدیث 331