حدیث نمبر: 14402
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أُمِّ عَاصِمٍ، امْرَأَةِ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ قَالَتْ: كُنَّا عِنْدَ عُتْبَةَ نِسْوَةً، وَإنَّ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنَّا تُرِيدُ أَنْ تَكُونَ أَطْيَبَ رِيحًا مِن صَاحِبَتِهَا، وَكَانَ عُتْبَةُ أَطْيَبَ رِيحًا، وَكَان إِذَا خَرَجَ عُرِفَ مِن رِيحٍ طَيِّبََةٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِك فَقَالَتْ: اتَّخَذَهُ الشَّرَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فَشَكَا ذَلِك إِلَيْه «فَأَمَرَهُ فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ يَدَهُ عَلَى فَرْجِهِ، ثُمّ تَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ فَمَسَحَ ظَهْرَهُ وَبَطْنَهُ»
ترجمہ

…اور عتبہ سب سے زیادہ خوشبودار تھے، جب وہ نکلتے تو خوشبو سے پہچانے جاتے۔ میں نے ان (بیوی) سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: انہیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں خارش لاحق ہوئی تھی، انہوں نے اس کی شکایت آپ ﷺ سے کی تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا، وہ آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے اور اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ پر رکھ لیا، پھر نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ میں تھوکا اور ان کی پیٹھ اور پیٹ پر پھیر دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14402
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 133، حدیث 330