حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحِ بْنِ صَفْوَانَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ بُكَيْرِ بْنِ يَحْيَى الْمَعَرِّيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالُوا: ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ طَالُوتَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ النُّدَّرِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى؟ قَالَ: «أَبَرَّهُمَا وَأَوْفَاهُمَا» ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: " إنَّ مُوسَى لَمَّا أَرَادَ فِرَاقَ شُعَيْبٍ عَلَيْه السَّلَامُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ أَنْ تَسْأَلَ أَبَاهَا أَنْ يُعْطِيَهَا غَنَمِهِ مَا تَعِيشُ بِهِ فَأَعْطَاهَا مَا نُتِجَتْ غَنَمُهُ فِي ذَلِك الْعَامِ مِن قالبِ لَوْنٍ وَاحِدٍ فَلَمَّا وَرَدَتْ الْغَنَمُ الْحَوْضَ وَقَفَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ بِإِزَاءِ الْحَوْضِ، فَلَمْ يَصْدُرْ مِنْهَا شَيْءٌ إِلَّا ضَرَبَ جَنْبَهَا فَحَمَلَتْ فَنُتِجَتْ كُلُّهُنُّ قالبَ لَوْنٍ وَاحِدٍ لَيْسَ فِيهِنَّ فَشُوشٌ وَلَا ضَبُوبٌ وَلَا نَعُولٌ وَلَا كَمْشَةٌ تَفُوتُهُ الْكَفُّ قَالَ: فَإِنِ افْتَتَحْتُمُ الشَّامَ وَجَدْتُمْ بَقَايَا مِنْهَا فَاتَّخِذُوها وَهِي السَّامِرِيَّةُ " قَالَ ابْنُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ: قَالَ أَبِي: «الْفَشُوشُ الَّتِي يَنْفُشُ لَبَنُهَا عِنْدَ الْحَلْبِ، والضَّبُوبُ الَّتِي يَضِبُّ ضَرْعُهَا عَلَى اللَّبَنِ عِنْدَ الْحَلْبِ، وَالْكَمْشَةُ الَّتِي تَعْتَاضُ عِنْدَ الْحَلْبِ»
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن الندر سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے دونوں مدتوں میں سے کون سی پوری کی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان دونوں میں سے زیادہ نیک اور زیادہ پوری کرنے والی۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب موسیٰ علیہ السلام نے شعیب علیہ السلام سے جدا ہونے کا ارادہ کیا تو اپنی بیوی سے کہا کہ وہ اپنے والد سے درخواست کرے کہ وہ انہیں اتنی بکریاں دے دیں جن سے وہ گزارہ کر سکیں۔ چنانچہ انہوں نے اس سال ان کی بکریوں میں جتنے بچے ایک ہی رنگ کے پیدا ہوں وہ اسے دے دیے۔ جب بکریاں حوض پر آئیں تو موسیٰ علیہ السلام حوض کے سامنے کھڑے ہو گئے، اور کوئی بکری ایسی نہ نکلی جس کے پہلو پر انہوں نے نہ مارا ہو، تو وہ حاملہ ہو گئیں اور سب نے ایک ہی رنگ کے بچے جنے، ان میں نہ کوئی 'فشوش' تھی، نہ 'ضبوب'، نہ 'نعول' اور نہ ایسی 'کمشہ' جس کا تھن ہاتھ میں نہ آئے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس اگر تم شام فتح کرو تو ان کی نسل میں سے باقیات پاؤ گے، انہیں اپنے پاس رکھو، وہی 'سامریہ' نسل ہے۔“ (ابن یحییٰ بن بکیر کہتے ہیں: میرے والد نے فرمایا: ”فشوش وہ بکری ہے جس کا دودھ دوہتے وقت تھن سے پھیل جائے، ضبوب وہ ہے جس کا تھن دودھ دوہتے وقت دودھ کو روک لے، اور کمشہ وہ ہے جو دودھ دوہتے وقت دودھ دینے سے بچنے کی کوشش کرے۔“)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ النُّدَّرِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ يَوْمًا، " فَقَرَأَ طس حَتَّى إِذَا بَلَغ قِصَّةَ مُوسَى صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ قَالَ: إنَّ مُوسَى أَجَّرَ نَفْسَهُ ثَمَانِ سِنِينَ أَو عَشْرًا عَلَى عِفَّةِ فَرْجِهِ وَطَعَامِ بَطْنِهِ "
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن الندر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے، آپ ﷺ نے سورۃ طٰسٓ پڑھی، یہاں تک کہ جب موسیٰ علیہ السلام کا قصہ آیا تو فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے اپنی شرمگاہ کی پاکدامنی اور اپنے پیٹ کے کھانے کے عوض آٹھ یا دس سال اپنے آپ کو اجرت پر رکھا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو وَهْبٍ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدٍ الْكَلَاعِيُّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ النُّدَّرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْه وَسَلَّمَ: «إِذَا انْتَاطَ غَزْوُكُمْ وَاسْتُحِلَّتِ الْغَنَائِمُ، وَكَثُرَتِ الْعَزَائِمُ فَخَيْرُ جِهادِكُمْ الرِّبَاطُ»
ترجمہ
سیدنا عتبہ بن الندر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہارے غزوات دور ہو جائیں، اور مالِ غنیمت کو حلال (آسانی سے حاصل ہونے والا) سمجھا جانے لگے، اور عزائم (جنگ کی خواہش) بڑھ جائیں، تو تمہارے بہترین جہاد میں رباط (سرحدوں کی نگرانی) ہو گا۔“