حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: وَلَمَّا رَجَعَ الْمُشْرِكُونَ إِلَى مَكَّةَ مِنْ بَدْرٍ وَقَدْ قَتَلَ اللهُ تَعَالَى مَنْ قَتَلَ مِنْهُمْ، أَقْبَلَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ حَتَّى جَاءَ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فِي الْحِِجْرِ فَقَالَ صَفْوَانُ: قَبَّحَ اللهُ الْعَيْشَ بَعْدَ قَتْلَى بَدْرٍ، فَقَالَ عُمَيْرٌ: أَجَلْ، وَاللهِ مَا فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ بَعْدُ، وَلَوْلَا دَيْنٌ عَلَيَّ لَا أَجِدُ لَهُ قَضَاءً وَعِيَالِي وَرَائِي لَا أَجِدُ لَهُمْ شَيْئًا لَدَخَلْتُ عَلَى مُحَمَّدِ فَلَقَتَلْتُهُ إِنْ مَلَأْتُ عَيْنِي مِنْهُ، فَإِنَّ لِي عِنْدَهُمْ عِلَّةً أَقُولُ: قَدِمْتُ عَلَى ابْنِي هَذَا الْأَسِيرِ فَفَرِحَ صَفْوَانُ بِقَوْلِهِ فَقَالَ: عَلَيَّ دَْينُكَ وَعِيَالُكَ أُسْوَةُ عِيَالِي فِي النَّفَقَةِ إِنْ يَسَعُنِي شَيْءٌ ونَعْجَزُ عَنْهُمْ، فَحَمَلَهُ صَفْوَانُ وجَهَّزَهُ بِسَيْفِ صَفْوَانَ فَصُقِلَ وَسُمَّ وَقَالَ عُمَيْرٌ لِصَفْوَانَ: اكْتُمْنِي لَيَالِيَ، فَأَقْبَلَ عُمَيْرٌ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ بَابَ الْمَسْجِِدِ، وَعَقَلَ رَاحِلَتَهُ وَأَخَذَ السَّيْفَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ وَقْعَةِ بَدْرٍ ويَشْكُرونَ نِعْمَةَ اللهِ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ عُمَيْرَ بْنَ وَهْبٍ مَعَهُ السَّيْفُ فَزِعَ مِنْهُ فَقَالَ: عِنْدَكُمُ الْكَلْبُ هَذَا عَدُوُّ اللهِ الَّذِي حَرَّشَ بَيْنَنَا وَحَزَرَنَا لِلْقَوْمِ، فَقَامَ عُمَرُ فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَذَا عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ قَدْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ مَعَهُ السِّلَاحُ وَهُوَ الْفَاجِرُ الْغَادِرُ يَا رَسُولَ اللهِ، لَا تَأْمَنْهُ قَالَ: «أَدْخِلْهُ عَلَيَّ» فَدَخَلَ عُمَرُ وَعُمَيْرٌ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَحْتَرِسُوا مِنْ عُمَيْرٍ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهِمْ، فَأَقْبَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ فَدَخَلَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ومَعَ عُمَرَ سَيْفُهُ فقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: «تَأَخَّرْ عَنْهُ» ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ حَيَّاهُ عُمَيْرٌ أَنْعِمْ صَبَاحًا - وَهِيَ تَحِيَّةُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ - فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أكْرَمَنَا اللهُ عَزَّ وجَلَّ عَنْ تَحِيَّتِكَ وَجَعَلَ تَحِيَّتَنَا السَّلَامَ وَهِيَ تَحِيَّةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، فَقَالَ عُمَيْرٌ: إِنَّ عَهْدَكَ بِهَا لَحَدِيثٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ بَدَّلَنَا اللهُ خَيْرًا مِنْهَا، فَمَا أَقْدَمَكَ يَا عُمَيْرُ؟» قَالَ: قَدِمْتُ فِي أَسِيرِي عِنْدَكُمْ فَقَارِبُونِي فِي أَسِيرِي فَإِنَّكُمُ الْعَشِيرَةُ وَالْأَهْلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا بَالُ السَّيْفِ فِي رَقَبَتِكَ؟» فَقَالَ عُمَيْرٌ: قَبَّحَهَا اللهُ مِنْ سُيُوفٍ فَهَلْ أَغْنَتْ عَنَّا مِنْ شَيْءٍ، أَنَا نَسِيتُهُ وَهُوَ فِي رَقَبَتِي حِينَ نَزَلْتُ وَلَعَمْرِي إِنَّ لِي غَيْرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْدُقْنِي مَا أَقْدَمَكَ؟» قَالَ: مَا قَدِمْتُ إِلَّا فِي أَسِيرِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا شَرَطْتَ لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ الْجُمَحِيِّ فِي الْحِجْرِ؟» فَفَزِعَ عُمَيْرٌ وَقَالَ: مَاذَا اشْتَرَطْتُ لَهُ قَالَ: تَحَمَّلْتَ لَهُ بِقَتْلَي عَلَى أَنْ يَعُولَ بَنِيكَ وَيَقْضِي دَيْنَكَ وَاللهُ حَائِلٌ بَيْنَكَ وَبَيْنَ ذَلِكَ، فَقَالَ عُمَيْرٌ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ وَأَشْهَدُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، كُنَّا يَا رَسُولَ اللهِ نُكَذِّبُكَ بِالْوَحْيِ، وَبِمَا يَأْتِيكَ مِنَ السَّمَاءِ، وَإِنَّ هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ صَفْوَانَ فِي الْحِجْرِ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَطَّلِعْ عَلَيْهِ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ، ثُمَّ أَخْبَرَكَ اللهُ بِهِ، فَآمَنْتُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَاقَنِي هَذَا الْمَقَامَ، فَفَرِحَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ هَدَاهُ اللهُ، وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَخَنْزِيرٌ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ حِينَ اطَّلَعَ، وَلَهْوَ الْيَوْمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ بَعْضِ بَنِيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسْ نُوَاسِكَ» وَقَالَ: «عَلِّمُوا أَخَاكُمُ الْقُرْآنَ، وَأَطْلَقَ لَهُ أَسِيرَهُ» وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ كُنْتُ جَاهِدًا مَا اسْتَطَعْتُ عَلَى إِطْفَاءِ نُورِ اللهِ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَاقَنِي هَذَا الْمَسَاقَ فَلْتَأْذَنْ لِي فَأَلْحَقَ بِقُرَيْشٍ فَاَدْعُوَهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ لَعَلََّ اللهَ يَهْدِيهِمْ ويَسْتَنْقِذُهُمْ مِنَ الْهَلَكَةِ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَحِقَ بِمَكَّةَ، وَجَعَلَ صَفْوَانُ يَقُولُ لِقُرَيْشٍ فِي مَجَالِسِهِمْ: أَبْشِرُوا بِفَتْحٍ يُنْسِيكُمْ وَقْعَةَ بَدْرٍ، وَجَعَلَ يَسْأَلُ كُلَّ رَاكِبٍ قَدِمَ مِنَ الْمَدِينَةِ هَلْ كَانَ بِهَا مِنْ حَدَثٍ وَكَانَ يَرْجُو مَا قَالَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ: حَتَّى قَدِمَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَسَأَلَ صَفْوَانُ عَنْهُ، فَقَالَ: قَدْ أَسْلَمَ، فَلَقِيَهُ الْمُشْرِكُونَ، فَقَالُوا: قَدْ صَبَأَ وَقَالَ صَفْوَانُ: إِنَّ عَلَيَّ أَنْ لَا أَنْفَعَهُ بِنَفَقَةٍ أَبَدًا وَلَا أُكَلِّمَهُ مِنْ رَأْسِ كَلِمَةٍ أَبَدًا، وَقَدِمَ عَلَيْهِمْ عُمَيْرٌ وَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَنَصَحَ لَهُمْ فَأَسْلَمَ بَشَرٌ كَثِيرٌ "
ترجمہ
عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جب مشرکین بدر سے مکہ لوٹے، اور اللہ تعالیٰ نے ان میں سے جنہیں قتل کرنا تھا قتل کر دیا تھا، تو عمیر بن وہب آیا یہاں تک کہ حجر میں صفوان بن امیہ کے پاس پہنچا۔ صفوان نے کہا: بدر کے مقتولین کے بعد اللہ اس زندگی کا برا کرے۔ عمیر نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! اب زندگی میں کوئی بھلائی نہیں، اور اگر مجھ پر ایسا قرض نہ ہوتا جس کی ادائیگی کا مجھے کوئی ذریعہ نہیں ملتا، اور میرے پیچھے میرے اہل و عیال نہ ہوتے جن کے لیے میرے پاس کچھ نہیں، تو میں محمد کے پاس جا کر اسے قتل کر دیتا اگر وہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا، کیونکہ ان کے ہاں میرے پاس ایک بہانہ ہے، میں کہوں گا: میں اپنے اس قیدی بیٹے کے لیے آیا ہوں۔ صفوان اس کی بات سے خوش ہوا اور کہا: تمہارا قرض میرے ذمے ہے، اور خرچ میں تمہارے اہل و عیال میرے اہل و عیال کے برابر ہوں گے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میرے پاس گنجائش ہو اور ہم ان سے عاجز رہیں۔ چنانچہ صفوان نے اسے سواری دی اور تیار کیا، اور صفوان کی تلوار سے اسے لیس کیا، جسے صیقل کر کے زہر آلود کیا گیا تھا۔ عمیر نے صفوان سے کہا: کچھ راتوں تک میرا معاملہ چھپائے رکھنا۔ پھر عمیر چلا یہاں تک کہ مدینہ پہنچا اور مسجد کے دروازے پر اترا، اپنی اونٹنی باندھی اور رسول اللہ ﷺ (کو نشانہ بنانے) کے لیے تلوار لی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا، وہ انصار کے چند لوگوں کے ساتھ بدر کے واقعے کے بارے میں باتیں کر رہے تھے اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کر رہے تھے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عمیر بن وہب کو تلوار کے ساتھ دیکھا تو گھبرا گئے اور کہا: کتا تمہارے پاس آ پہنچا ہے! یہ اللہ کا دشمن ہے جس نے ہمارے درمیان (جنگ کی) آگ بھڑکائی اور دشمن قوم کے لیے ہماری تعداد کا اندازہ لگایا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یہ عمیر بن وہب ہے، ہتھیار لے کر مسجد میں داخل ہوا ہے، یہ بدکار اور دغاباز ہے، یا رسول اللہ! اس پر اعتبار نہ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لے آؤ۔“ چنانچہ سیدنا عمر اور عمیر داخل ہوئے، اور (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جائیں اور جب عمیر ان کے پاس آئے تو اس سے چوکنا رہیں۔ چنانچہ سیدنا عمر بن خطاب اور عمیر بن وہب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، سیدنا عمر کے پاس اپنی تلوار تھی، رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر سے فرمایا: ”اس سے پیچھے ہٹ جاؤ۔“ جب عمیر قریب آیا تو اس نے آپ کو زمانہ جاہلیت کی طرزِ سلام میں ”انعم صباحا“ کہہ کر سلام کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے تمہارے سلام سے بہتر سلام سے ہمیں نوازا ہے، اور ہمارا سلام ’السلام‘ بنایا ہے، اور یہی جنتیوں کا سلام ہے۔“ عمیر نے کہا: تمہیں اس کا علم تو ابھی حال ہی کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے ہمیں اس سے بہتر بدل دیا ہے، تو اے عمیر! تمہیں یہاں کیا لایا ہے؟“ اس نے کہا: میں اپنے قیدی کے سلسلے میں آیا ہوں جو تمہارے پاس ہے، اس کے بارے میں مجھ سے نرمی کرو کیونکہ تم میرے رشتہ دار اور کنبے ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر یہ تلوار تمہاری گردن میں کیوں ہے؟“ عمیر نے کہا: اللہ ان تلواروں کو تباہ کرے، انہوں نے ہمیں کچھ فائدہ نہیں دیا، میں تو اسے بھول ہی گیا تھا کہ یہ میری گردن میں لٹکی ہوئی ہے جب میں اترا، اور میری عمر کی قسم! مجھ میں (بھی) غیرت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سچ سچ بتاؤ، تمہیں یہاں کیا لایا ہے؟“ اس نے کہا: میں تو صرف اپنے قیدی کے لیے آیا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تم نے حجر میں صفوان بن امیہ جمحی سے کیا شرط طے کی تھی؟“ عمیر گھبرا گیا اور کہا: میں نے اس سے کیا شرط طے کی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس سے یہ ذمہ داری لی تھی کہ اگر تم مجھے قتل کر دو تو وہ تمہارے بچوں کی کفالت کرے گا اور تمہارا قرض ادا کرے گا، جبکہ اللہ تمہارے اور اس کام کے درمیان حائل ہے۔“ عمیر نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ یا رسول اللہ! ہم آپ کو وحی کے بارے میں اور آسمان سے آنے والی خبروں کے بارے میں جھٹلایا کرتے تھے، اور یہ بات جو میرے اور صفوان کے درمیان حجر میں ہوئی تھی، بالکل ویسی ہی ہے جیسی رسول اللہ ﷺ نے فرمائی، اس پر میرے اور اس کے سوا کوئی مطلع نہ تھا، پھر اللہ نے آپ کو اس کی خبر دے دی، سو میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آیا، اور تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اس مقام تک پہنچایا۔ مسلمان اس پر بہت خوش ہوئے جب اللہ نے انہیں ہدایت دی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ (پہلی بار) نمودار ہوا تھا تو میرے نزدیک ایک سؤر بھی اس سے زیادہ پسندیدہ تھا، اور آج یہ مجھے اپنے بعض بیٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ، ہم تمہارے ساتھ خیرخواہی کریں گے“ اور فرمایا: ”اپنے بھائی کو قرآن سکھاؤ“ اور اس کا قیدی اسے آزاد کر دیا۔ عمیر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنی پوری طاقت سے اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا، سو تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اس راہ پر لگایا، اب آپ مجھے اجازت دیں کہ میں قریش کے پاس جا کر انہیں اسلام کی دعوت دوں، شاید اللہ انہیں ہدایت دے اور انہیں ہلاکت سے بچا لے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اجازت دے دی تو وہ مکہ چلا گیا۔ صفوان قریش کی مجلسوں میں کہنے لگا: بدر کے واقعے کو بھلا دینے والی فتح کی خوشخبری سنو۔ اور وہ مدینہ سے آنے والے ہر سوار سے پوچھتا رہا کہ کیا وہاں کوئی نئی بات ہوئی ہے، اور اسے یہی امید تھی جو عمیر بن وہب نے کہا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے پاس اہلِ مدینہ میں سے ایک شخص آیا، صفوان نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: وہ مسلمان ہو گیا ہے۔ مشرکین اس سے ملے تو کہنے لگے: یہ بےدین ہو گیا ہے۔ صفوان نے کہا: مجھ پر یہ لازم ہے کہ میں کبھی بھی اسے کسی خرچ سے فائدہ نہ پہنچاؤں اور نہ کبھی اس سے کوئی بات کروں۔ عمیر ان کے پاس آیا اور انہیں اسلام کی دعوت دی اور خیرخواہی کی تو بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: جَلَسَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجُمَحِيُّ مَعَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ بَعْدَ مُصَابِ أَهْلِ بَدْرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِي الْحِجْرِ بِيَسِيرٍ، وَكَانَ مِمَّنْ يُؤْذِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَيَلْقَوْنَ مِنْهُمْ عَنَتًا إِذْ هُمْ بِمَكَّةَ، وَكَانَ ابْنُهُ وَهْبُ بْنُ عُمَيْرٍ فِي أُسَارَى أَصْحَابِ بَدْرٍ قَالَ: فَذَكَرُوا أَصْحَابَ الْقَلِيبِ بَمَصَائِبِهِمْ، فَقَالَ صَفْوَانُ: وَاللهِ إِنْ فِي الْعَيْشِ بَعْدَهُمْ، وَقَالَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ: صَدَقْتَ وَاللهِ لَوْلَا دَيْنٌ عَلَيَّ لَيْسَ عِنْدِي قَضَاؤُهُ وَعِيَالٌ أَخْشَى عَلَيْهِمُ الضَّيْعَةَ بَعْدِي لَرَكِبْتُ إِلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى أَقْتُلَهُ فَإِنَّ لِي فِيهِمْ عِلَّةً، ابْنِي عِنْدَهُمْ أَسِيرٌ فِي أَيْدِيهِمْ، فَاغْتَنَمَهَا صَفْوَانُ فَقَالَ: عَلَيَّ دَيْنُكَ أَنَا أَقْضِيهِ عَنْكَ وَعِيَالُكَ مَعَ عِيَالِي أُسْوَتُهُمْ مَا بَقُوا لَا يَسَعَهُمْ شَيْءٌ نَعْجِزُ عَنْهُمْ، قَالَ عُمَيْرٌ: اكْتُمْ عَلَيَّ شَأْنِي وَشَأْنَكَ، قَالَ: أَفْعَلُ، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ عُمَيْرٌ بِسَيْفِهِ فَشُحِذَ وَسُمَّ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَبَيْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْمَدِينَةِ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَتَذَاكَرُونَ يَوْمَ بَدْرٍ، وَمَا أَكْرَمَهُمُ اللهُ بِهِ، وَمَا أَرَاهُمْ مِنْ عَدُوِّهِمْ، إِذْ نَظَرَ إِلَى عُمَيْرِ بْنِ وَهْبٍ قَدْ أَنَاخَ بِبَابِ الْمَسْجِدِ مُتَوَشِّحَ السَّيْفِ فَقَالَ: هَذَا الْكَلْبُ عَدُوُّ اللهِ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ مَا جَاءَ إلَّا لِشَرٍّ، هَذَا الَّذِي حَرَّشَ بَيْنَنَا وَحَزَرَنَا لِلْقَوْمِ يَوْمَ بَدْرٍ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا عَدُوُّ اللهِ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ قَدْ جَاءَ مُتَوَشِّحًا السَّيْفَ قَالَ: «فَأَدْخِلْهُ» فَأَقْبَلَ عُمَرُ حَتَّى أَخَذَ بِحِمََالَةِ سَيْفِهِ فِي عُنُقِهِ فَلَبَّبَهُ بِهَا وَقَالَ عُمَرُ لِرِجَالٍ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ: ادْخُلُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فاجْلِسُوا عِنْدَهُ وَاحْذَرُوا هَذَا الْكَلْبَ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ غَيْرُ مَأْمُونٍ، ثُمَّ دَخَلَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرُ آخِذٌ بِحِمَالَةِ سَيْفِهِ فَقَالَ: «أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ، ادْنُ يَا عُمَيْرُ» ، فَدَنَا فَقَالَ: أَنْعِمُوا صَبَاحًا - وَكَانَتْ تَحِيَّةَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ بَيْنَهُمْ - فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أكْرَمَنَا اللهُ بِتَحِيَّةٍ خَيْرٍ مِنْ تَحِيَّتِكَ يَا عُمَيْرُ، السَّلَامُ تَحِيَّةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ يَا مُحَمَّدُ إِنْ كُنْتَ لَحَدِيثَ الْعَهْدِ بِهَا، قَالَ: فَمَا جَاءَ بِكَ قَالَ: جِئْتُ لِهَذَا الْأَسِيرِ الَّذِي فِي أَيْدِيكُمْ فَأَحْسِنُوا إِلَيْهِ قَالَ: «فَمَا بَالُ السَّيْفِ فِي عُنُقِكَ؟» قَالَ: قَبَّحَهَا اللهُ مِنْ سُيُوفٍ فَهَلْ أَغْنَتْ شَيْئًا، قَالَ: «اصْدُقْنِي مَا الَّذِي جِئْتَ لَهُ؟» قَالَ: مَا جِئْتُ إِلَّا لِهَذَا، قَالَ: " بَلْ قَعَدْتَ أَنْتَ وَصَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فِي الْحِجْرِ فَتَذَاكَرْتُما أَصْحَابَ الْقَلِيبِ مِنْ قُرَيْشٍ فَقُلْتَ: لَوْلَا دَيْنٌ عَلَيَّ وَعِيَالِي لَخَرَجْتُ حَتَّى أَقْتُلَ مُحَمَّدًا، فَتَحَمَّلَ صَفْوَانُ لَكَ بِدَيْنِكَ وَعِيَالِكَ عَلَى أَنْ تَقْتُلَنِي، وَاللهُ حَائِلٌ بَيْنَكَ وَبَيْنَ ذَلِكَ " قَالَ عُمَيْرٌ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ قَدْ كُنَّا يَا رَسُولَ اللهِ، نُكَذِّبُكَ بِمَا كُنْتَ تَأْتِينَا بِهِ مِنْ خَبَرِ السَّمَاءِ وَمَا يَنْزِلُ عَلَيْكَ مِنَ الْوَحْيِ وَهَذَا أَمْرٌ لَمْ يَحْضُرْهُ إِلَّا أَنَا وَصَفْوَانُ فَوَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَا أَنْبَأَكَ بِهِ إِلَّا اللهُ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانِي لِلْإِسْلَامِ وَسَاقَنِي هَذَا الْمَساقَ، ثُمَّ شَهِدَ شَهَادَةَ الْحَقِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَقِّهُوا أَخَاكُمْ فِي دِينِهِ وَأَقْرِئُوهُ الْقُرْآنَ وَأَطْلِقُوا لَهُ أسِيرَهُ» ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ جَاهِدًا عَلَى إِطْفَاءِ نُورِ اللهِ شَدِيدَ الْأَذَى عَلَى مَنْ كَانَ عَلَى دِينِ اللهِ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْذَنَ لِي فَأَقْدَمَ مَكَّةَ فَأَدْعُوَهُمْ إِلَى اللهِ وَإِلَى الْإِسْلَامِ لَعَلَّ اللهَ يَهْدِيهِمْ، وَإِلَّا آذَيْتُهُمْ كَمَا كُنْتُ أُؤْذِي أَصْحَابَكَ فِي دِينِهِمْ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَحِقَ بِمَكَّةَ، وَكَانَ صَفْوَانُ حِينَ خَرَجَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ لِقُرَيْشٍ: أَبْشِرُوا بِوَاقِعَةٍ تَأْتِيكُمُ الْآنَ تُنْسِيكُمْ وَقْعَةَ بَدْرٍ، وَكَانَ صَفْوَانُ يَسْأَلُ عَنْهُ الرُّكْبَانَ حَتَّى قَدِمَ رَاكِبٌ فَأَخْبَرَهُ عَنْ إِسْلَامِهِ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يُكَلِّمَهُ أَبَدًا وَلَا يَنْفَعَهُ بِنَفْعٍ أَبَدًا، فَلَمَّا قَدِمَ عُمَيْرٌ مَكَّةَ أَقَامَ بِهَا يَدْعُو إِلَى الْإِسْلَامِ ويُؤْذِي مَنْ يُخَالِفُهُ أَذًى شَدِيدًا، فَأَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ نَاسٌ كَثِيرٌ
ترجمہ
محمد بن جعفر بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: بدر کے موقع پر قریش کے مقتولین کے کچھ ہی عرصہ بعد عمیر بن وہب جمحی، صفوان بن امیہ کے ساتھ حجر میں بیٹھے۔ عمیر ان لوگوں میں سے تھا جو مکہ میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو ایذا پہنچایا کرتے تھے اور صحابہ کو ان سے سخت تکلیف پہنچتی تھی، اور اس کا بیٹا وہب بن عمیر بدر کے قیدیوں میں شامل تھا۔ راوی کہتے ہیں: دونوں نے کنویں میں پھینکے گئے قریش کے مقتولین کا ذکر کیا تو صفوان نے کہا: اللہ کی قسم! ان کے بعد زندگی میں کوئی خیر نہیں۔ عمیر بن وہب نے کہا: تم نے سچ کہا، اللہ کی قسم! اگر مجھ پر ایسا قرض نہ ہوتا جس کی ادائیگی کی مجھ میں طاقت نہیں اور اہل و عیال نہ ہوتے جن کے ضائع ہو جانے کا مجھے خدشہ ہے تو میں خود محمد کے پاس جا کر اسے قتل کر دیتا، اور میرے پاس اس کا ایک بہانہ بھی ہے، میرا بیٹا ان کے ہاں قیدی ہے۔ صفوان نے اس موقع کو غنیمت جانا اور کہا: تمہارا قرض میرے ذمے ہے، میں اسے ادا کر دوں گا، اور تمہارے اہل و عیال میرے اہل و عیال کے ساتھ رہیں گے، جب تک وہ باقی رہیں گے انہیں کوئی چیز میرے اہل و عیال سے کم نہ ملے گی۔ عمیر نے کہا: میرا اور تمہارا معاملہ پوشیدہ رکھنا۔ صفوان نے کہا: ٹھیک ہے۔ پھر عمیر نے اپنی تلوار کو تیز کروایا اور اس پر زہر لگوایا، پھر مدینہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ ادھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدینہ میں کچھ مسلمانوں کے ساتھ بیٹھے بدر کے دن اور اللہ کی اس نعمت کا، اور اپنے دشمن پر جو غلبہ اللہ نے انہیں دکھایا تھا، اس کا ذکر کر رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر عمیر بن وہب پر پڑی جو تلوار حمائل کیے مسجد کے دروازے پر اپنی سواری بٹھا رہا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کتا، اللہ کا دشمن عمیر بن وہب، یہ شر کے سوا کسی کام سے نہیں آیا، یہی وہ ہے جس نے بدر کے دن ہمارے درمیان اشتعال پیدا کیا اور دشمن کے لیے ہماری تعداد کا اندازہ لگایا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ اللہ کا دشمن عمیر بن وہب تلوار حمائل کیے آیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اندر لاؤ۔“ سیدنا عمر آگے بڑھے یہاں تک کہ اس کی تلوار کا پھندہ اس کی گردن میں پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے گئے، اور اپنے ساتھ موجود انصار کے کچھ لوگوں سے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر ان کے قریب بیٹھ جاؤ اور اس کتے سے چوکنا رہو، یہ قابلِ اعتماد نہیں۔ پھر وہ اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، سیدنا عمر اس کی تلوار کا پھندہ پکڑے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو اے عمر، قریب آؤ اے عمیر۔“ وہ قریب آیا اور کہا: “انعموا صباحا” — اور یہ زمانہ جاہلیت میں ان کا آپس میں سلام کرنے کا طریقہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہارے سلام سے بہتر سلام سے ہمیں نوازا ہے اے عمیر، السلام جنتیوں کا سلام ہے۔“ اس نے کہا: اللہ کی قسم اے محمد! تمہیں تو ابھی حال ہی میں یہ سلام معلوم ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: تمہیں یہاں کیا لایا ہے؟ اس نے کہا: میں اس قیدی کے لیے آیا ہوں جو تمہارے پاس ہے، اس سے اچھا سلوک کرو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر یہ تلوار تمہاری گردن میں کیوں ہے؟“ اس نے کہا: اللہ ان تلواروں کو تباہ کرے، کیا انہوں نے ہمیں کچھ فائدہ دیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سچ بتاؤ، تم کس لیے آئے ہو؟“ اس نے کہا: میں تو صرف اسی کے لیے آیا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ تم اور صفوان بن امیہ حجر میں بیٹھے، بدر کے کنویں میں پھینکے جانے والے مقتولینِ قریش کا ذکر کیا، تو تم نے کہا: اگر میرے ذمے قرض اور اہل و عیال کی ذمہ داری نہ ہوتی تو میں خود نکل کر محمد کو قتل کر دیتا، چنانچہ صفوان نے تمہارا قرض اور اہل و عیال کی ذمہ داری اس شرط پر اٹھا لی کہ تم مجھے قتل کر دو، جبکہ اللہ تمہارے اور اس کے درمیان حائل ہے۔“ عمیر نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، یا رسول اللہ! ہم آپ کو آسمانی خبروں اور وحی کے بارے میں جھٹلایا کرتے تھے، حالانکہ یہ ایسی بات تھی جس پر میرے اور صفوان کے سوا کوئی حاضر نہ تھا، اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ اللہ کے سوا کسی نے آپ کو اس کی خبر نہیں دی، سو تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اسلام کی ہدایت دی اور اس راہ پر لگایا۔ پھر اس نے حق کی گواہی دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے بھائی کو اس کے دین کی سمجھ دو اور اسے قرآن پڑھاؤ اور اس کا قیدی اسے آزاد کر دو۔“ پھر عمیر نے کہا: یا رسول اللہ! میں اللہ کے نور کو بجھانے کی پوری کوشش کرتا رہا اور اللہ کے دین پر رہنے والوں کو سخت تکلیف پہنچاتا رہا، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں مکہ جا کر انہیں اللہ اور اسلام کی طرف بلاؤں، شاید اللہ انہیں ہدایت دے، ورنہ میں انہیں اسی طرح تکلیف پہنچاؤں گا جیسے میں آپ کے ساتھیوں کو ان کے دین کے معاملے میں تکلیف پہنچاتا رہا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اجازت دے دی تو وہ مکہ چلا گیا۔ جب عمیر بن وہب نکلا تو صفوان قریش سے کہنے لگا: ایک ایسے واقعے کی خوشخبری سنو جو ابھی تمہارے پاس آنے والا ہے اور بدر کے واقعے کو بھلا دے گا، اور وہ سواروں سے اس کے بارے میں پوچھتا رہا یہاں تک کہ ایک سوار آیا اور اسے اس کے اسلام لانے کی خبر دی، تو اس نے قسم کھائی کہ وہ کبھی اس سے بات نہ کرے گا اور نہ کبھی اسے کسی طرح فائدہ پہنچائے گا۔ جب عمیر مکہ پہنچا تو وہاں ٹھہر کر اسلام کی دعوت دینے لگا اور جو اس کی مخالفت کرتا اسے سخت تکلیف پہنچاتا، تو اس کے ہاتھ پر بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: وَلَمَّا رَجَعَ الْمُشْرِكُونَ إِلَى مَكَّةَ وَقَدْ قَتَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ قَتَلَ مِنْهُمْ، أَقْبَلَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجُمَحِيُّ حَتَّى جَلَسَ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فِي الْحِجْرِ فَقَالَ: قَبَّحَ اللهُ الْعَيْشَ بَعْدَ قَتْلَى بَدْرٍ قَالَ: أَجَلْ وَاللهِ مَا فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ بَعْدَهُمْ وَلَوْلَا دَيْنٌ عَلَيَّ لَا أَجِدُ لَهُ قَضَاءً وَعِيَالًا لَا أَدَعُ لَهُمْ شَيْئًا لَرَحَلْتُ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقَتَلْتُهُ إنْ مَلَأْتُ عَيْنِي مِنْهُ، فَإِنَّ لِي عِنْدَهُ عِلَّةً أَعْتَلُّ بِهَا لَهُ، أَقُولُ قَدِمْتُ عَلَى ابْنِي هَذَا الْأَسِيرِ، فَفَرِحَ صَفْوَانُ بِقَوْلِهِ وَقَالَ: عَلَيَّ دَيْنُكَ وَعِيَالُكَ أُسْوَةُ عِيَالِي فِي النَّفَقَةِ لَا يَسَعُنِي شَيْءٌ وَأَعْجَزُ عَنْهُ، فَحَمَلَهُ صَفْوَانُ وَجَهَّزَهُ، وَأَمَرَ بِسَيْفِ عُمَيْرٍ فَصَقَلَهُ وَسُمَّ، وَقَالَ عُمَيْرٌ لِصَفْوَانَ: أَنِ اكْتُمْنِي أَيَّامًا، فَأَقْبَلَ عُمَيْرٌ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ بِبَابِ الْمَسْجِدِ وَعَقَلَ رَاحِلَتَهُ وَأَخَذَ السَّيْفَ فَعَمَدَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ وَقْعَةِ بَدْرٍ وَيَذْكُرُونَ نِعْمَةَ اللهِ فِيهَا، فَلَمَّا رَآهُ عُمَرُ مَعَهُ السَّيْفُ فَزِعَ وَقَالَ عُمَرُ: هَذَا الْكَلْبُ، هَذَا عَدُوُّ اللهِ الَّذِي حَرَّشَ بَيْنَنَا يَوْمَ بَدْرٍ وَحَزَرَنَا لِلْقَوْمِ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ وَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَذَا عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ قَدْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ مُتَقَلِّدًا سَيْفَهُ وَهُوَ الْغَادِرُ الْفَاجِرُ يَا نَبِيَّ اللهِ لَا تَأْمَنْهُ، قَالَ: «أَدْخِلْهُ» فَخَرَجَ عُمَرُ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَحْتَرِسُونَ مِنْ عُمَيْرٍ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ وَعُمَيْرٌ حَتَّى دَخَلَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ عُمَيْرٍ سَيْفُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: «تَأَخَّرْ عَنْهُ» فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ عُمَيْرٌ قَالَ: أنْعِمُوا صَبَاحًا - وَهِيَ تَحِيَّةُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ - قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أكْرَمَنَا اللهُ عَنْ تَحِيَّتِكَ وَجَعَلَ تَحِيَّتَنَا تَحِيَّةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَهِيَ السَّلَامُ» فَقَالَ عُمَيْرٌ: إِنَّ عَهْدَكَ بِهَا لِحَدِيثٌ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَبْدَلَنَا اللهُ خَيْرًا مِنْهَا، فَمَا أَقْدَمَكَ يَا عُمَيْرُ» : قَالَ: قَدِمْتُ فِي أَسْرَانَا فَإِنَّكُمُ الْعَشِيرَةُ وَالْأَهْلُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا بَالُ السَّيْفِ فِي رَقَبَتِكَ؟» قَالَ عُمَيْرٌ: قَبَّحَها اللهُ مِنْ سُيُوفٍ وَهَلْ أَغْنَتْ عَنَّا مِنْ شَيْءٍ، إِنَّمَا نَسِيتُهُ فِي رَقَبَتِي حِينَ نَزَلْتُ، وَلَعَمْرِي إِنَّ لِي بِهَا غَيْرَةً، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْدُقْنِي مَا أَقْدَمَكَ؟» قَالَ: مَا قَدِمْتُ إِلَّا فِي أَسِيرِي قَالَ: «فَمَا الَّذِي شَرَطْتَ لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فِي الْحِجْرِ» فَفَزِعَ عُمَيْرٌ وَقَالَ: مَاذَا شَرَطْتُ لَهُ؟ قَالَ: «تَحَمَّلْتَ لَهُ بِقَتْلِي عَلَى أَنْ يَعُولَ بَنِيكَ وَيَقْضِي دَيْنَكَ، وَاللهُ حَائِلٌ بَيْنَكَ وَبَيْنَ ذَاكَ» ، قَالَ عُمَيْرٌ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، كُنَّا يَا رَسُولَ اللهِ، نُكَذِّبُكَ بِالْوَحْيِ وَبِمَا يَأْتِيكَ مِنَ السَّمَاءِ، وَإِنَّ هَذَا الْحَدِيثَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ صَفْوَانَ بِالْحِجْرِ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَطَّلِعْ عَلَيْهِ أَحَدٌ غَيْرُهُ وغَيْرِي، فَأَخْبَرَكَ اللهُ بِهِ فَآمَنْتُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَاقَنِي لِهَذَا الْمَسَاقِ فَفَرِحَ بِهِ الْمُسْلِمُونَ حِينَ هَدَاهُ اللهُ وَقَالَ عُمَرُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، الْخِنْزِيرُ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ عُمَيْرٍ حِينَ طَلَعَ، وَلَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ بَعْضِ بَنِيَّ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسْ يَا عُمَيْرُ نُوَاسِيكَ» وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «عَلِّمُوا أَخَاكُمْ الْقُرْآنَ وَأَطْلِقُوا لَهُ أَسِيرَهُ» ، فَقَالَ عُمَيْرٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ كُنْتُ جَاهِدًا فِيمَا اسْتَطَعْتُ عَلَى إِطْفَاءِ نُورِ اللهِ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَاقَنِي وَهَدَانِي، فَأْذَنْ لِي فَلَأَلْحَقَ بِقُرَيْشٍ فَأَدْعُوَهُمْ إِلَى اللهِ وَإلَى الْإِسْلَامِ لَعَلَّ اللهَ يَهْدِيهِمْ وَيَسْتَنْقِذُهُمْ مِنَ الْهَلَكَةِ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَحِقَ بِمَكَّةَ، وَجَعَلَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ يَقُولُ لِقُرَيْشٍ فِي مَجَالِسِهِمْ: أَبْشِرُوا بِفَتْحٍ يُنْسِيكُمْ وَقْعَةَ بَدْرٍ وَجَعَلَ يَسْأَلُ كُلَّ رَاكِبٍ قَدِمَ مِنَ الْمَدِينَةِ، هَلْ كَانَ بِهَا مِنْ حَدَثٍ؟ وَكَانَ يَرْجُو مَا قَالَ: حَتَّى قَدِمَ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَسَأَلَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْهُ فَقَالَ: قَدْ أَسْلَمَ فَلَعَنَهُ الْمُشْرِكُونَ وَقَالُوا: صَبَأَ وَقَالَ صَفْوَانُ: إِنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ أَنْ لَا أنْفَعَهُ بِنَفَقَةٍ أَبَدًا، وَلَا أُكَلِّمَهُ مِنْ رَأْسِي كَلَامًا أَبَدًا، وَقَدِمَ عَلَيْهِمْ عُمَيْرٌ فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَنَصَحَهُمْ جُهْدَهُمْ وَأَسْلَمَ بَشَرٌ كَثِيرٌ
ترجمہ
امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جب مشرکین مکہ واپس لوٹے، اور اللہ تعالیٰ ان میں سے جسے چاہا قتل کر چکا تھا، تو عمیر بن وہب جمحی آ کر صفوان بن امیہ کے پاس حجر میں بیٹھ گیا، (صفوان نے) کہا: اللہ بدر کے مقتولین کے بعد کی زندگی کو تباہ کرے۔ عمیر نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! ان کے بعد زندگی میں کوئی خیر نہیں، اور اگر میرے ذمے ایسا قرض نہ ہوتا جس کی ادائیگی کی مجھ میں طاقت نہیں اور اہل و عیال نہ ہوتے جن کے لیے میں کچھ نہ چھوڑ سکوں تو میں خود محمد کے پاس جا کر اسے قتل کر دیتا، اگر وہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا، اور میرے پاس اس کا ایک بہانہ بھی ہے جس سے میں بہانہ بنا سکتا ہوں، میں کہوں گا کہ میں اپنے قیدی بیٹے کے پاس آیا ہوں۔ صفوان اس کی بات سن کر خوش ہو گیا اور کہا: تمہارا قرض میرے ذمے ہے اور تمہارے اہل و عیال خرچ میں میرے اہل و عیال کی طرح ہوں گے، کوئی چیز مجھ سے تنگ نہ ہو گی اور نہ میں اس سے عاجز آؤں گا۔ چنانچہ صفوان نے اسے سواری دی اور تیار کیا، اور عمیر کی تلوار کو صیقل کروا کر اس پر زہر لگوایا۔ عمیر نے صفوان سے کہا: چند دن میرا معاملہ پوشیدہ رکھنا۔ چنانچہ عمیر روانہ ہوا یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گیا، مسجد کے دروازے پر اترا، اپنی سواری باندھی اور تلوار لے کر رسول اللہ ﷺ کا رخ کیا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، جو انصار کے کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے بدر کے واقعے اور اس میں اللہ کی نعمت کا ذکر کر رہے تھے، نے اسے دیکھا۔ جب عمر نے دیکھا کہ اس کے ساتھ تلوار ہے تو گھبرا گئے اور کہا: یہ کتا، یہ اللہ کا دشمن ہے جس نے بدر کے دن ہمارے درمیان اشتعال پیدا کیا اور دشمن کے لیے ہماری تعداد کا اندازہ لگایا۔ پھر سیدنا عمر اٹھے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یہ عمیر بن وہب ہے، تلوار حمائل کیے مسجد میں داخل ہوا ہے، یہ دغاباز اور بدکار ہے اے اللہ کے نبی! اس پر اعتبار نہ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اندر لاؤ۔“ سیدنا عمر باہر نکلے اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر بیٹھ جائیں اور جب عمیر ان کے پاس آئے تو چوکنا رہیں۔ پھر سیدنا عمر اور عمیر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، عمیر کے پاس اس کی تلوار تھی، رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر سے فرمایا: ”اس سے پیچھے ہٹ جاؤ۔“ جب عمیر قریب آیا تو کہا: “انعموا صباحا” — اور یہ زمانہ جاہلیت کا سلام تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہارے سلام سے، اے عمیر، ہمیں بہتر سلام سے نوازا ہے، ہمارا سلام جنتیوں کا سلام السلام ہے۔“ عمیر نے کہا: تمہیں اس کا علم تو ابھی حال ہی کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے ہمیں اس سے بہتر بدل عطا کر دیا ہے، تو تمہیں یہاں کیا لایا ہے اے عمیر؟“ اس نے کہا: میں اپنے قیدی کے لیے آیا ہوں جو تمہارے پاس ہے، تم تو ہمارے کنبے اور اہل ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر یہ تلوار تمہاری گردن میں کیوں ہے؟“ عمیر نے کہا: اللہ ان تلواروں کو تباہ کرے، کیا انہوں نے ہمیں کچھ فائدہ دیا؟ میں تو اترتے وقت اسے اپنی گردن میں (لٹکا) بھول گیا تھا، اور میری عمر کی قسم! مجھے اس (تلوار) کے بارے میں غیرت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سچ بتاؤ، تمہیں یہاں کیا لایا؟“ اس نے کہا: میں تو صرف اپنے قیدی کے لیے آیا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تم نے حجر میں صفوان بن امیہ سے کیا شرط طے کی تھی؟“ عمیر گھبرا گیا اور کہا: میں نے کیا شرط طے کی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس سے یہ ذمہ داری لی کہ اگر تم مجھے قتل کر دو تو وہ تمہارے بچوں کی کفالت اور تمہارا قرض ادا کرے گا، جبکہ اللہ تمہارے اور اس کے درمیان حائل ہے۔“ عمیر نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ یا رسول اللہ! ہم آپ کو وحی اور آسمانی خبروں کے بارے میں جھٹلایا کرتے تھے، اور یہ بات جو میرے اور صفوان کے درمیان حجر میں ہوئی تھی، بالکل ویسی ہی ہے جیسی رسول اللہ ﷺ نے فرمائی، اس پر میرے اور اس کے سوا کوئی مطلع نہ تھا، پھر اللہ نے آپ کو اس کی خبر دی، سو میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اس راہ پر لگایا۔ مسلمان اس پر خوش ہوئے جب اللہ نے اسے ہدایت دی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جس وقت یہ نمودار ہوا تھا مجھے ایک سؤر عمیر سے زیادہ پسندیدہ تھا، اور آج یہ مجھے اپنے بعض بیٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ اے عمیر، ہم تمہارے ساتھ خیرخواہی کریں گے۔“ اور اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اپنے بھائی کو قرآن سکھاؤ اور اس کا قیدی اسے آزاد کر دو۔“ عمیر نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنی پوری طاقت سے اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا، سو تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ راہ دکھائی اور ہدایت دی، اب مجھے اجازت دیں کہ میں قریش کے پاس جاؤں اور انہیں اللہ اور اسلام کی طرف بلاؤں، شاید اللہ انہیں ہدایت دے اور ہلاکت سے بچا لے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اجازت دے دی تو وہ مکہ چلا گیا۔ صفوان بن امیہ قریش کی مجلسوں میں کہنے لگا: ایسی فتح کی خوشخبری سنو جو بدر کے واقعے کو بھلا دے گی، اور وہ مدینہ سے آنے والے ہر سوار سے پوچھتا رہا کہ کیا وہاں کوئی نئی بات ہوئی ہے، اور اسے یہی امید تھی۔ یہاں تک کہ ان کے پاس مدینہ کا ایک شخص آیا، صفوان نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: وہ مسلمان ہو گیا ہے۔ مشرکین نے اس پر لعنت کی اور کہا: یہ بےدین ہو گیا۔ صفوان نے کہا: اللہ کے لیے مجھ پر یہ لازم ہے کہ میں کبھی اسے کسی خرچ سے فائدہ نہ پہنچاؤں اور نہ کبھی اس سے کوئی بات کروں۔ عمیر ان کے پاس آیا، انہیں اسلام کی دعوت دی اور پوری کوشش سے خیرخواہی کی تو بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ وَهْبُ بْنُ عُمَيْرٍ شَهِدَ أُحُدًا كَافِرًا فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ فَكَانَ فِي الْقَتْلَى، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَعَرَفَهَ فَوَضَعَ سَيْفَهُ فِي بَطْنِهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِهِ، ثُمَّ تَرَكَهُ فَلَمَّا دَخَلَ اللَّيْلُ وَأَصَابَهُ الْبَرْدُ لَحِقَ بِمَكَّةَ، فَبَرَأَ فَاجْتَمَعَ هُوَ وَصَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فِي الْحِجْرِ فَقَالَ وَهْبٌ: لَوْلَا عِيَالِي وَدَيْنٌ عَلَيَّ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا الَّذِي أقْتُلُ مُحَمَّدًا فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ؟ فَقَالَ: أَنَا رَجُلٌ جَوَّادٌ لَا أَلْحَقُ آتِيهِ فَأَغْتَرُّهُ ثُمَّ أَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَأَلْحَقُ بِالْخَيْلِ وَلَا يَلْحَقُني أَحَدٌ، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ: فَعِيالُكَ مَعَ عِيَالِي وَدَيْنُكَ عَلَيَّ فَخَرَجَ يَشْحَذُ سَيْفَهُ وَسَمَّهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ لَا يُرِيدُ إِلَّا قَتْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ رَآهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَهَانَهُ ذَلِكَ وَشَقَّ عَلَيْهِ فَقَالَ لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي رَأَيْتُ وَهْبًا فَرَابَنِي قُدُومُهُ، وَهُوَ رَجُلٌ غَادِرٌ فَأَطِيفُوا نَبِيَّكُمْ، فَأَطَافَ الْمُسْلِمُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ وَهْبٌ فَوَقَفَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَنْعِمْ صَبَاحًا يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: «قَدْ أَبْدَلَنَا اللهُ خَيْرًا مِنْهَا» قَالَ: عَهْدِي بِكَ تُحَدِّثُ بِهَا وَأَنْتَ مُعْجَبٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَقْدَمَكَ؟» قَالَ: جِئْتُ أَفْدِي أُسَارَاكُمْ، قَالَ: «مَا بَالُ السَّيْفِ؟» قَالَ: أَمَا إِنَّا قَدْ حَمَلْنَاهُ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَمْ نُفْلِحْ وَلَمْ نَنَجَحْ، قَالَ: " فَمَا شَيْءٌ قُلْتَ لِصَفْوَانَ فِي الْحِجْرِ: لَوْلَا عِيَالِي وَدَيْنٌ عَلَيَّ لَكُنْتُ أَنَا الَّذِي أُقْتَلُ مُحَمَّدًا بِنَفْسِي " فَأَخْبَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَهُ، فَقَالَ وَهْبٌ هَاهْ، كَيْفَ قُلْتَ: فَأَعَادَ عَلَيْهِ، قَالَ وَهْبٌ: قَدْ كُنْتَ تُخْبِرُنَا خَبَرَ أَهْلِ الْأَرْضِ فَنُكَذِّبُكَ فَأَرَاكَ تُخْبِرُ خَبَرَ أَهْلِ السَّمَاءِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطِنِي عِمَامَتَكَ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِمَامَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ عُمَرُ: لَقَدْ قَدِمَ وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ إِلَيَّ مِنَ الْخِنْزِيرِ ثُمَّ رَجَعَ وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ بَعْضِ وَلَدِي
عُمَيْرُ بْنُ سَلَمَةَ الضَّمْرِيُّ وَهُوَ عُمَيْرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ مُنْتَابِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ جُدَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةَ بْنِ كِنَانَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارِ بْنِ مَعْدِ بْنِ عَدْنَانَ
عُمَيْرُ بْنُ سَلَمَةَ الضَّمْرِيُّ وَهُوَ عُمَيْرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ مُنْتَابِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ جُدَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةَ بْنِ كِنَانَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارِ بْنِ مَعْدِ بْنِ عَدْنَانَ
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہب بن عمیر احد کے دن کفر کی حالت میں شریک ہوا تھا، اسے زخم لگا اور وہ مقتولین میں شمار ہونے لگا۔ انصار کا ایک شخص اس کے پاس سے گزرا، اسے پہچان لیا اور اپنی تلوار اس کے پیٹ میں گھونپ دی یہاں تک کہ وہ اس کی پیٹھ سے پار ہو گئی، پھر اسے چھوڑ دیا۔ جب رات ہوئی اور سردی نے اسے آ لیا تو وہ مکہ جا پہنچا اور صحت یاب ہو گیا۔ پھر وہ اور صفوان بن امیہ حجر میں اکٹھے بیٹھے تو وہب نے کہا: اگر میرے اہل و عیال اور مجھ پر قرض نہ ہوتا تو میں چاہتا کہ میں ہی وہ شخص بنوں جو محمد کو قتل کرے۔ صفوان نے اس سے کہا: تو پھر کیسے کرو گے؟ اس نے کہا: میں تیز رفتار آدمی ہوں، کوئی مجھے پکڑ نہیں سکتا، اس کے پاس جاؤں گا، اسے دھوکہ دوں گا، پھر تلوار سے وار کروں گا اور گھوڑوں کے ساتھ جا ملوں گا، کوئی مجھے نہیں پکڑ سکے گا۔ صفوان نے اس سے کہا: تمہارے اہل و عیال میرے اہل و عیال کے ساتھ رہیں گے اور تمہارا قرض میرے ذمے ہے۔ چنانچہ وہ نکلا، اپنی تلوار تیز کروائی اور اس پر زہر لگوایا، پھر مدینہ کی طرف روانہ ہوا، اس کا کوئی اور ارادہ نہ تھا سوائے نبی کریم ﷺ کو قتل کرنے کے۔ جب وہ مدینہ پہنچا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا، انہیں یہ بات ناگوار اور تکلیف دہ لگی، تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ سے کہا: میں نے وہب کو دیکھا ہے، اس کی آمد نے مجھے شک میں ڈال دیا ہے، یہ دغاباز آدمی ہے، اپنے نبی ﷺ کے ارد گرد گھیرا ڈال لو۔ چنانچہ مسلمان نبی کریم ﷺ کے ارد گرد جمع ہو گئے، پھر وہب آئے اور نبی کریم ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا: اے محمد! تمہاری صبح بخیر ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے ہمیں اس سے بہتر بدل دیا ہے۔“ اس نے کہا: مجھے یاد ہے تم اس پرانے سلام کی بات فخر سے کیا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تمہیں یہاں کیا لایا؟“ اس نے کہا: میں تمہارے قیدیوں کا فدیہ دینے آیا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تلوار کا کیا معاملہ ہے؟“ اس نے کہا: ہم نے اسے بدر کے دن اٹھایا تھا لیکن ہمیں کامیابی اور فلاح نصیب نہ ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے حجر میں صفوان سے کیا کہا تھا: اگر میرے اہل و عیال اور مجھ پر قرض نہ ہوتا تو میں خود اپنے ہاتھوں محمد کو قتل کر دیتا؟“ نبی کریم ﷺ نے اسے اس کا پورا واقعہ بتا دیا، تو وہب نے کہا: ہاہ، آپ نے کیا کہا؟ آپ ﷺ نے دوبارہ بتایا۔ وہب نے کہا: تم ہمیں زمین کی خبریں بتاتے تھے تو ہم تمہیں جھٹلا دیتے تھے، لیکن اب میں دیکھ رہا ہوں کہ تم آسمان کی خبریں بتا رہے ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور تم اللہ کے رسول ہو۔ پھر اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اپنا عمامہ دے دیں۔ نبی کریم ﷺ نے اسے اپنا عمامہ دے دیا، پھر وہ مکہ کی طرف نکل گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب یہ مدینہ آیا تھا تو یہ مجھے سؤر سے بھی زیادہ ناپسندیدہ تھا، پھر اسلام لا کر واپس ہوا تو یہ مجھے اپنی بعض اولاد سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔