المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمير بن وهب الجمحي باب: سیدنا عمیر بن وہب جمحی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ وَهْبُ بْنُ عُمَيْرٍ شَهِدَ أُحُدًا كَافِرًا فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ فَكَانَ فِي الْقَتْلَى، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَعَرَفَهَ فَوَضَعَ سَيْفَهُ فِي بَطْنِهِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ ظَهْرِهِ، ثُمَّ تَرَكَهُ فَلَمَّا دَخَلَ اللَّيْلُ وَأَصَابَهُ الْبَرْدُ لَحِقَ بِمَكَّةَ، فَبَرَأَ فَاجْتَمَعَ هُوَ وَصَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فِي الْحِجْرِ فَقَالَ وَهْبٌ: لَوْلَا عِيَالِي وَدَيْنٌ عَلَيَّ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا الَّذِي أقْتُلُ مُحَمَّدًا فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ؟ فَقَالَ: أَنَا رَجُلٌ جَوَّادٌ لَا أَلْحَقُ آتِيهِ فَأَغْتَرُّهُ ثُمَّ أَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَأَلْحَقُ بِالْخَيْلِ وَلَا يَلْحَقُني أَحَدٌ، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ: فَعِيالُكَ مَعَ عِيَالِي وَدَيْنُكَ عَلَيَّ فَخَرَجَ يَشْحَذُ سَيْفَهُ وَسَمَّهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ لَا يُرِيدُ إِلَّا قَتْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ رَآهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَهَانَهُ ذَلِكَ وَشَقَّ عَلَيْهِ فَقَالَ لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي رَأَيْتُ وَهْبًا فَرَابَنِي قُدُومُهُ، وَهُوَ رَجُلٌ غَادِرٌ فَأَطِيفُوا نَبِيَّكُمْ، فَأَطَافَ الْمُسْلِمُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ وَهْبٌ فَوَقَفَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَنْعِمْ صَبَاحًا يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: «قَدْ أَبْدَلَنَا اللهُ خَيْرًا مِنْهَا» قَالَ: عَهْدِي بِكَ تُحَدِّثُ بِهَا وَأَنْتَ مُعْجَبٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَقْدَمَكَ؟» قَالَ: جِئْتُ أَفْدِي أُسَارَاكُمْ، قَالَ: «مَا بَالُ السَّيْفِ؟» قَالَ: أَمَا إِنَّا قَدْ حَمَلْنَاهُ يَوْمَ بَدْرٍ فَلَمْ نُفْلِحْ وَلَمْ نَنَجَحْ، قَالَ: " فَمَا شَيْءٌ قُلْتَ لِصَفْوَانَ فِي الْحِجْرِ: لَوْلَا عِيَالِي وَدَيْنٌ عَلَيَّ لَكُنْتُ أَنَا الَّذِي أُقْتَلُ مُحَمَّدًا بِنَفْسِي " فَأَخْبَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَهُ، فَقَالَ وَهْبٌ هَاهْ، كَيْفَ قُلْتَ: فَأَعَادَ عَلَيْهِ، قَالَ وَهْبٌ: قَدْ كُنْتَ تُخْبِرُنَا خَبَرَ أَهْلِ الْأَرْضِ فَنُكَذِّبُكَ فَأَرَاكَ تُخْبِرُ خَبَرَ أَهْلِ السَّمَاءِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطِنِي عِمَامَتَكَ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِمَامَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ عُمَرُ: لَقَدْ قَدِمَ وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ إِلَيَّ مِنَ الْخِنْزِيرِ ثُمَّ رَجَعَ وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ بَعْضِ وَلَدِي
عُمَيْرُ بْنُ سَلَمَةَ الضَّمْرِيُّ وَهُوَ عُمَيْرُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ مُنْتَابِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ جُدَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةَ بْنِ كِنَانَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارِ بْنِ مَعْدِ بْنِ عَدْنَانَسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہب بن عمیر احد کے دن کفر کی حالت میں شریک ہوا تھا، اسے زخم لگا اور وہ مقتولین میں شمار ہونے لگا۔ انصار کا ایک شخص اس کے پاس سے گزرا، اسے پہچان لیا اور اپنی تلوار اس کے پیٹ میں گھونپ دی یہاں تک کہ وہ اس کی پیٹھ سے پار ہو گئی، پھر اسے چھوڑ دیا۔ جب رات ہوئی اور سردی نے اسے آ لیا تو وہ مکہ جا پہنچا اور صحت یاب ہو گیا۔ پھر وہ اور صفوان بن امیہ حجر میں اکٹھے بیٹھے تو وہب نے کہا: اگر میرے اہل و عیال اور مجھ پر قرض نہ ہوتا تو میں چاہتا کہ میں ہی وہ شخص بنوں جو محمد کو قتل کرے۔ صفوان نے اس سے کہا: تو پھر کیسے کرو گے؟ اس نے کہا: میں تیز رفتار آدمی ہوں، کوئی مجھے پکڑ نہیں سکتا، اس کے پاس جاؤں گا، اسے دھوکہ دوں گا، پھر تلوار سے وار کروں گا اور گھوڑوں کے ساتھ جا ملوں گا، کوئی مجھے نہیں پکڑ سکے گا۔ صفوان نے اس سے کہا: تمہارے اہل و عیال میرے اہل و عیال کے ساتھ رہیں گے اور تمہارا قرض میرے ذمے ہے۔ چنانچہ وہ نکلا، اپنی تلوار تیز کروائی اور اس پر زہر لگوایا، پھر مدینہ کی طرف روانہ ہوا، اس کا کوئی اور ارادہ نہ تھا سوائے نبی کریم ﷺ کو قتل کرنے کے۔ جب وہ مدینہ پہنچا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا، انہیں یہ بات ناگوار اور تکلیف دہ لگی، تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ سے کہا: میں نے وہب کو دیکھا ہے، اس کی آمد نے مجھے شک میں ڈال دیا ہے، یہ دغاباز آدمی ہے، اپنے نبی ﷺ کے ارد گرد گھیرا ڈال لو۔ چنانچہ مسلمان نبی کریم ﷺ کے ارد گرد جمع ہو گئے، پھر وہب آئے اور نبی کریم ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا: اے محمد! تمہاری صبح بخیر ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے ہمیں اس سے بہتر بدل دیا ہے۔“ اس نے کہا: مجھے یاد ہے تم اس پرانے سلام کی بات فخر سے کیا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تمہیں یہاں کیا لایا؟“ اس نے کہا: میں تمہارے قیدیوں کا فدیہ دینے آیا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تلوار کا کیا معاملہ ہے؟“ اس نے کہا: ہم نے اسے بدر کے دن اٹھایا تھا لیکن ہمیں کامیابی اور فلاح نصیب نہ ہوئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے حجر میں صفوان سے کیا کہا تھا: اگر میرے اہل و عیال اور مجھ پر قرض نہ ہوتا تو میں خود اپنے ہاتھوں محمد کو قتل کر دیتا؟“ نبی کریم ﷺ نے اسے اس کا پورا واقعہ بتا دیا، تو وہب نے کہا: ہاہ، آپ نے کیا کہا؟ آپ ﷺ نے دوبارہ بتایا۔ وہب نے کہا: تم ہمیں زمین کی خبریں بتاتے تھے تو ہم تمہیں جھٹلا دیتے تھے، لیکن اب میں دیکھ رہا ہوں کہ تم آسمان کی خبریں بتا رہے ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور تم اللہ کے رسول ہو۔ پھر اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اپنا عمامہ دے دیں۔ نبی کریم ﷺ نے اسے اپنا عمامہ دے دیا، پھر وہ مکہ کی طرف نکل گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب یہ مدینہ آیا تھا تو یہ مجھے سؤر سے بھی زیادہ ناپسندیدہ تھا، پھر اسلام لا کر واپس ہوا تو یہ مجھے اپنی بعض اولاد سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔