❮
❯
حدیث نمبر: 14190
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: جَلَسَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجُمَحِيُّ مَعَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ بَعْدَ مُصَابِ أَهْلِ بَدْرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِي الْحِجْرِ بِيَسِيرٍ، وَكَانَ مِمَّنْ يُؤْذِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَيَلْقَوْنَ مِنْهُمْ عَنَتًا إِذْ هُمْ بِمَكَّةَ، وَكَانَ ابْنُهُ وَهْبُ بْنُ عُمَيْرٍ فِي أُسَارَى أَصْحَابِ بَدْرٍ قَالَ: فَذَكَرُوا أَصْحَابَ الْقَلِيبِ بَمَصَائِبِهِمْ، فَقَالَ صَفْوَانُ: وَاللهِ إِنْ فِي الْعَيْشِ بَعْدَهُمْ، وَقَالَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ: صَدَقْتَ وَاللهِ لَوْلَا دَيْنٌ عَلَيَّ لَيْسَ عِنْدِي قَضَاؤُهُ وَعِيَالٌ أَخْشَى عَلَيْهِمُ الضَّيْعَةَ بَعْدِي لَرَكِبْتُ إِلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى أَقْتُلَهُ فَإِنَّ لِي فِيهِمْ عِلَّةً، ابْنِي عِنْدَهُمْ أَسِيرٌ فِي أَيْدِيهِمْ، فَاغْتَنَمَهَا صَفْوَانُ فَقَالَ: عَلَيَّ دَيْنُكَ أَنَا أَقْضِيهِ عَنْكَ وَعِيَالُكَ مَعَ عِيَالِي أُسْوَتُهُمْ مَا بَقُوا لَا يَسَعَهُمْ شَيْءٌ نَعْجِزُ عَنْهُمْ، قَالَ عُمَيْرٌ: اكْتُمْ عَلَيَّ شَأْنِي وَشَأْنَكَ، قَالَ: أَفْعَلُ، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ عُمَيْرٌ بِسَيْفِهِ فَشُحِذَ وَسُمَّ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَبَيْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْمَدِينَةِ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَتَذَاكَرُونَ يَوْمَ بَدْرٍ، وَمَا أَكْرَمَهُمُ اللهُ بِهِ، وَمَا أَرَاهُمْ مِنْ عَدُوِّهِمْ، إِذْ نَظَرَ إِلَى عُمَيْرِ بْنِ وَهْبٍ قَدْ أَنَاخَ بِبَابِ الْمَسْجِدِ مُتَوَشِّحَ السَّيْفِ فَقَالَ: هَذَا الْكَلْبُ عَدُوُّ اللهِ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ مَا جَاءَ إلَّا لِشَرٍّ، هَذَا الَّذِي حَرَّشَ بَيْنَنَا وَحَزَرَنَا لِلْقَوْمِ يَوْمَ بَدْرٍ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا عَدُوُّ اللهِ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ قَدْ جَاءَ مُتَوَشِّحًا السَّيْفَ قَالَ: «فَأَدْخِلْهُ» فَأَقْبَلَ عُمَرُ حَتَّى أَخَذَ بِحِمََالَةِ سَيْفِهِ فِي عُنُقِهِ فَلَبَّبَهُ بِهَا وَقَالَ عُمَرُ لِرِجَالٍ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ: ادْخُلُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فاجْلِسُوا عِنْدَهُ وَاحْذَرُوا هَذَا الْكَلْبَ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ غَيْرُ مَأْمُونٍ، ثُمَّ دَخَلَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرُ آخِذٌ بِحِمَالَةِ سَيْفِهِ فَقَالَ: «أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ، ادْنُ يَا عُمَيْرُ» ، فَدَنَا فَقَالَ: أَنْعِمُوا صَبَاحًا - وَكَانَتْ تَحِيَّةَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ بَيْنَهُمْ - فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أكْرَمَنَا اللهُ بِتَحِيَّةٍ خَيْرٍ مِنْ تَحِيَّتِكَ يَا عُمَيْرُ، السَّلَامُ تَحِيَّةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ يَا مُحَمَّدُ إِنْ كُنْتَ لَحَدِيثَ الْعَهْدِ بِهَا، قَالَ: فَمَا جَاءَ بِكَ قَالَ: جِئْتُ لِهَذَا الْأَسِيرِ الَّذِي فِي أَيْدِيكُمْ فَأَحْسِنُوا إِلَيْهِ قَالَ: «فَمَا بَالُ السَّيْفِ فِي عُنُقِكَ؟» قَالَ: قَبَّحَهَا اللهُ مِنْ سُيُوفٍ فَهَلْ أَغْنَتْ شَيْئًا، قَالَ: «اصْدُقْنِي مَا الَّذِي جِئْتَ لَهُ؟» قَالَ: مَا جِئْتُ إِلَّا لِهَذَا، قَالَ: " بَلْ قَعَدْتَ أَنْتَ وَصَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فِي الْحِجْرِ فَتَذَاكَرْتُما أَصْحَابَ الْقَلِيبِ مِنْ قُرَيْشٍ فَقُلْتَ: لَوْلَا دَيْنٌ عَلَيَّ وَعِيَالِي لَخَرَجْتُ حَتَّى أَقْتُلَ مُحَمَّدًا، فَتَحَمَّلَ صَفْوَانُ لَكَ بِدَيْنِكَ وَعِيَالِكَ عَلَى أَنْ تَقْتُلَنِي، وَاللهُ حَائِلٌ بَيْنَكَ وَبَيْنَ ذَلِكَ " قَالَ عُمَيْرٌ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ قَدْ كُنَّا يَا رَسُولَ اللهِ، نُكَذِّبُكَ بِمَا كُنْتَ تَأْتِينَا بِهِ مِنْ خَبَرِ السَّمَاءِ وَمَا يَنْزِلُ عَلَيْكَ مِنَ الْوَحْيِ وَهَذَا أَمْرٌ لَمْ يَحْضُرْهُ إِلَّا أَنَا وَصَفْوَانُ فَوَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَا أَنْبَأَكَ بِهِ إِلَّا اللهُ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانِي لِلْإِسْلَامِ وَسَاقَنِي هَذَا الْمَساقَ، ثُمَّ شَهِدَ شَهَادَةَ الْحَقِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَقِّهُوا أَخَاكُمْ فِي دِينِهِ وَأَقْرِئُوهُ الْقُرْآنَ وَأَطْلِقُوا لَهُ أسِيرَهُ» ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ جَاهِدًا عَلَى إِطْفَاءِ نُورِ اللهِ شَدِيدَ الْأَذَى عَلَى مَنْ كَانَ عَلَى دِينِ اللهِ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْذَنَ لِي فَأَقْدَمَ مَكَّةَ فَأَدْعُوَهُمْ إِلَى اللهِ وَإِلَى الْإِسْلَامِ لَعَلَّ اللهَ يَهْدِيهِمْ، وَإِلَّا آذَيْتُهُمْ كَمَا كُنْتُ أُؤْذِي أَصْحَابَكَ فِي دِينِهِمْ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَحِقَ بِمَكَّةَ، وَكَانَ صَفْوَانُ حِينَ خَرَجَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ لِقُرَيْشٍ: أَبْشِرُوا بِوَاقِعَةٍ تَأْتِيكُمُ الْآنَ تُنْسِيكُمْ وَقْعَةَ بَدْرٍ، وَكَانَ صَفْوَانُ يَسْأَلُ عَنْهُ الرُّكْبَانَ حَتَّى قَدِمَ رَاكِبٌ فَأَخْبَرَهُ عَنْ إِسْلَامِهِ، فَحَلَفَ أَنْ لَا يُكَلِّمَهُ أَبَدًا وَلَا يَنْفَعَهُ بِنَفْعٍ أَبَدًا، فَلَمَّا قَدِمَ عُمَيْرٌ مَكَّةَ أَقَامَ بِهَا يَدْعُو إِلَى الْإِسْلَامِ ويُؤْذِي مَنْ يُخَالِفُهُ أَذًى شَدِيدًا، فَأَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ نَاسٌ كَثِيرٌ
ترجمہ

محمد بن جعفر بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: بدر کے موقع پر قریش کے مقتولین کے کچھ ہی عرصہ بعد عمیر بن وہب جمحی، صفوان بن امیہ کے ساتھ حجر میں بیٹھے۔ عمیر ان لوگوں میں سے تھا جو مکہ میں رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو ایذا پہنچایا کرتے تھے اور صحابہ کو ان سے سخت تکلیف پہنچتی تھی، اور اس کا بیٹا وہب بن عمیر بدر کے قیدیوں میں شامل تھا۔ راوی کہتے ہیں: دونوں نے کنویں میں پھینکے گئے قریش کے مقتولین کا ذکر کیا تو صفوان نے کہا: اللہ کی قسم! ان کے بعد زندگی میں کوئی خیر نہیں۔ عمیر بن وہب نے کہا: تم نے سچ کہا، اللہ کی قسم! اگر مجھ پر ایسا قرض نہ ہوتا جس کی ادائیگی کی مجھ میں طاقت نہیں اور اہل و عیال نہ ہوتے جن کے ضائع ہو جانے کا مجھے خدشہ ہے تو میں خود محمد کے پاس جا کر اسے قتل کر دیتا، اور میرے پاس اس کا ایک بہانہ بھی ہے، میرا بیٹا ان کے ہاں قیدی ہے۔ صفوان نے اس موقع کو غنیمت جانا اور کہا: تمہارا قرض میرے ذمے ہے، میں اسے ادا کر دوں گا، اور تمہارے اہل و عیال میرے اہل و عیال کے ساتھ رہیں گے، جب تک وہ باقی رہیں گے انہیں کوئی چیز میرے اہل و عیال سے کم نہ ملے گی۔ عمیر نے کہا: میرا اور تمہارا معاملہ پوشیدہ رکھنا۔ صفوان نے کہا: ٹھیک ہے۔ پھر عمیر نے اپنی تلوار کو تیز کروایا اور اس پر زہر لگوایا، پھر مدینہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ ادھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مدینہ میں کچھ مسلمانوں کے ساتھ بیٹھے بدر کے دن اور اللہ کی اس نعمت کا، اور اپنے دشمن پر جو غلبہ اللہ نے انہیں دکھایا تھا، اس کا ذکر کر رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر عمیر بن وہب پر پڑی جو تلوار حمائل کیے مسجد کے دروازے پر اپنی سواری بٹھا رہا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کتا، اللہ کا دشمن عمیر بن وہب، یہ شر کے سوا کسی کام سے نہیں آیا، یہی وہ ہے جس نے بدر کے دن ہمارے درمیان اشتعال پیدا کیا اور دشمن کے لیے ہماری تعداد کا اندازہ لگایا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ اللہ کا دشمن عمیر بن وہب تلوار حمائل کیے آیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اندر لاؤ۔“ سیدنا عمر آگے بڑھے یہاں تک کہ اس کی تلوار کا پھندہ اس کی گردن میں پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے گئے، اور اپنے ساتھ موجود انصار کے کچھ لوگوں سے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر ان کے قریب بیٹھ جاؤ اور اس کتے سے چوکنا رہو، یہ قابلِ اعتماد نہیں۔ پھر وہ اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، سیدنا عمر اس کی تلوار کا پھندہ پکڑے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو اے عمر، قریب آؤ اے عمیر۔“ وہ قریب آیا اور کہا: “انعموا صباحا” — اور یہ زمانہ جاہلیت میں ان کا آپس میں سلام کرنے کا طریقہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہارے سلام سے بہتر سلام سے ہمیں نوازا ہے اے عمیر، السلام جنتیوں کا سلام ہے۔“ اس نے کہا: اللہ کی قسم اے محمد! تمہیں تو ابھی حال ہی میں یہ سلام معلوم ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: تمہیں یہاں کیا لایا ہے؟ اس نے کہا: میں اس قیدی کے لیے آیا ہوں جو تمہارے پاس ہے، اس سے اچھا سلوک کرو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر یہ تلوار تمہاری گردن میں کیوں ہے؟“ اس نے کہا: اللہ ان تلواروں کو تباہ کرے، کیا انہوں نے ہمیں کچھ فائدہ دیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سچ بتاؤ، تم کس لیے آئے ہو؟“ اس نے کہا: میں تو صرف اسی کے لیے آیا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ تم اور صفوان بن امیہ حجر میں بیٹھے، بدر کے کنویں میں پھینکے جانے والے مقتولینِ قریش کا ذکر کیا، تو تم نے کہا: اگر میرے ذمے قرض اور اہل و عیال کی ذمہ داری نہ ہوتی تو میں خود نکل کر محمد کو قتل کر دیتا، چنانچہ صفوان نے تمہارا قرض اور اہل و عیال کی ذمہ داری اس شرط پر اٹھا لی کہ تم مجھے قتل کر دو، جبکہ اللہ تمہارے اور اس کے درمیان حائل ہے۔“ عمیر نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، یا رسول اللہ! ہم آپ کو آسمانی خبروں اور وحی کے بارے میں جھٹلایا کرتے تھے، حالانکہ یہ ایسی بات تھی جس پر میرے اور صفوان کے سوا کوئی حاضر نہ تھا، اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ اللہ کے سوا کسی نے آپ کو اس کی خبر نہیں دی، سو تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اسلام کی ہدایت دی اور اس راہ پر لگایا۔ پھر اس نے حق کی گواہی دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے بھائی کو اس کے دین کی سمجھ دو اور اسے قرآن پڑھاؤ اور اس کا قیدی اسے آزاد کر دو۔“ پھر عمیر نے کہا: یا رسول اللہ! میں اللہ کے نور کو بجھانے کی پوری کوشش کرتا رہا اور اللہ کے دین پر رہنے والوں کو سخت تکلیف پہنچاتا رہا، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں مکہ جا کر انہیں اللہ اور اسلام کی طرف بلاؤں، شاید اللہ انہیں ہدایت دے، ورنہ میں انہیں اسی طرح تکلیف پہنچاؤں گا جیسے میں آپ کے ساتھیوں کو ان کے دین کے معاملے میں تکلیف پہنچاتا رہا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اجازت دے دی تو وہ مکہ چلا گیا۔ جب عمیر بن وہب نکلا تو صفوان قریش سے کہنے لگا: ایک ایسے واقعے کی خوشخبری سنو جو ابھی تمہارے پاس آنے والا ہے اور بدر کے واقعے کو بھلا دے گا، اور وہ سواروں سے اس کے بارے میں پوچھتا رہا یہاں تک کہ ایک سوار آیا اور اسے اس کے اسلام لانے کی خبر دی، تو اس نے قسم کھائی کہ وہ کبھی اس سے بات نہ کرے گا اور نہ کبھی اسے کسی طرح فائدہ پہنچائے گا۔ جب عمیر مکہ پہنچا تو وہاں ٹھہر کر اسلام کی دعوت دینے لگا اور جو اس کی مخالفت کرتا اسے سخت تکلیف پہنچاتا، تو اس کے ہاتھ پر بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14190
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 58، حدیث 118