المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمير بن وهب الجمحي باب: سیدنا عمیر بن وہب جمحی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: وَلَمَّا رَجَعَ الْمُشْرِكُونَ إِلَى مَكَّةَ وَقَدْ قَتَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ قَتَلَ مِنْهُمْ، أَقْبَلَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجُمَحِيُّ حَتَّى جَلَسَ إِلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فِي الْحِجْرِ فَقَالَ: قَبَّحَ اللهُ الْعَيْشَ بَعْدَ قَتْلَى بَدْرٍ قَالَ: أَجَلْ وَاللهِ مَا فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ بَعْدَهُمْ وَلَوْلَا دَيْنٌ عَلَيَّ لَا أَجِدُ لَهُ قَضَاءً وَعِيَالًا لَا أَدَعُ لَهُمْ شَيْئًا لَرَحَلْتُ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقَتَلْتُهُ إنْ مَلَأْتُ عَيْنِي مِنْهُ، فَإِنَّ لِي عِنْدَهُ عِلَّةً أَعْتَلُّ بِهَا لَهُ، أَقُولُ قَدِمْتُ عَلَى ابْنِي هَذَا الْأَسِيرِ، فَفَرِحَ صَفْوَانُ بِقَوْلِهِ وَقَالَ: عَلَيَّ دَيْنُكَ وَعِيَالُكَ أُسْوَةُ عِيَالِي فِي النَّفَقَةِ لَا يَسَعُنِي شَيْءٌ وَأَعْجَزُ عَنْهُ، فَحَمَلَهُ صَفْوَانُ وَجَهَّزَهُ، وَأَمَرَ بِسَيْفِ عُمَيْرٍ فَصَقَلَهُ وَسُمَّ، وَقَالَ عُمَيْرٌ لِصَفْوَانَ: أَنِ اكْتُمْنِي أَيَّامًا، فَأَقْبَلَ عُمَيْرٌ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ بِبَابِ الْمَسْجِدِ وَعَقَلَ رَاحِلَتَهُ وَأَخَذَ السَّيْفَ فَعَمَدَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ وَقْعَةِ بَدْرٍ وَيَذْكُرُونَ نِعْمَةَ اللهِ فِيهَا، فَلَمَّا رَآهُ عُمَرُ مَعَهُ السَّيْفُ فَزِعَ وَقَالَ عُمَرُ: هَذَا الْكَلْبُ، هَذَا عَدُوُّ اللهِ الَّذِي حَرَّشَ بَيْنَنَا يَوْمَ بَدْرٍ وَحَزَرَنَا لِلْقَوْمِ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ وَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَذَا عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ قَدْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ مُتَقَلِّدًا سَيْفَهُ وَهُوَ الْغَادِرُ الْفَاجِرُ يَا نَبِيَّ اللهِ لَا تَأْمَنْهُ، قَالَ: «أَدْخِلْهُ» فَخَرَجَ عُمَرُ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَحْتَرِسُونَ مِنْ عُمَيْرٍ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ وَعُمَيْرٌ حَتَّى دَخَلَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ عُمَيْرٍ سَيْفُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: «تَأَخَّرْ عَنْهُ» فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ عُمَيْرٌ قَالَ: أنْعِمُوا صَبَاحًا - وَهِيَ تَحِيَّةُ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ - قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أكْرَمَنَا اللهُ عَنْ تَحِيَّتِكَ وَجَعَلَ تَحِيَّتَنَا تَحِيَّةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَهِيَ السَّلَامُ» فَقَالَ عُمَيْرٌ: إِنَّ عَهْدَكَ بِهَا لِحَدِيثٌ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَبْدَلَنَا اللهُ خَيْرًا مِنْهَا، فَمَا أَقْدَمَكَ يَا عُمَيْرُ» : قَالَ: قَدِمْتُ فِي أَسْرَانَا فَإِنَّكُمُ الْعَشِيرَةُ وَالْأَهْلُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا بَالُ السَّيْفِ فِي رَقَبَتِكَ؟» قَالَ عُمَيْرٌ: قَبَّحَها اللهُ مِنْ سُيُوفٍ وَهَلْ أَغْنَتْ عَنَّا مِنْ شَيْءٍ، إِنَّمَا نَسِيتُهُ فِي رَقَبَتِي حِينَ نَزَلْتُ، وَلَعَمْرِي إِنَّ لِي بِهَا غَيْرَةً، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْدُقْنِي مَا أَقْدَمَكَ؟» قَالَ: مَا قَدِمْتُ إِلَّا فِي أَسِيرِي قَالَ: «فَمَا الَّذِي شَرَطْتَ لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فِي الْحِجْرِ» فَفَزِعَ عُمَيْرٌ وَقَالَ: مَاذَا شَرَطْتُ لَهُ؟ قَالَ: «تَحَمَّلْتَ لَهُ بِقَتْلِي عَلَى أَنْ يَعُولَ بَنِيكَ وَيَقْضِي دَيْنَكَ، وَاللهُ حَائِلٌ بَيْنَكَ وَبَيْنَ ذَاكَ» ، قَالَ عُمَيْرٌ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، كُنَّا يَا رَسُولَ اللهِ، نُكَذِّبُكَ بِالْوَحْيِ وَبِمَا يَأْتِيكَ مِنَ السَّمَاءِ، وَإِنَّ هَذَا الْحَدِيثَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ صَفْوَانَ بِالْحِجْرِ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَطَّلِعْ عَلَيْهِ أَحَدٌ غَيْرُهُ وغَيْرِي، فَأَخْبَرَكَ اللهُ بِهِ فَآمَنْتُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَاقَنِي لِهَذَا الْمَسَاقِ فَفَرِحَ بِهِ الْمُسْلِمُونَ حِينَ هَدَاهُ اللهُ وَقَالَ عُمَرُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، الْخِنْزِيرُ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ عُمَيْرٍ حِينَ طَلَعَ، وَلَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ بَعْضِ بَنِيَّ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسْ يَا عُمَيْرُ نُوَاسِيكَ» وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «عَلِّمُوا أَخَاكُمْ الْقُرْآنَ وَأَطْلِقُوا لَهُ أَسِيرَهُ» ، فَقَالَ عُمَيْرٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ كُنْتُ جَاهِدًا فِيمَا اسْتَطَعْتُ عَلَى إِطْفَاءِ نُورِ اللهِ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَاقَنِي وَهَدَانِي، فَأْذَنْ لِي فَلَأَلْحَقَ بِقُرَيْشٍ فَأَدْعُوَهُمْ إِلَى اللهِ وَإلَى الْإِسْلَامِ لَعَلَّ اللهَ يَهْدِيهِمْ وَيَسْتَنْقِذُهُمْ مِنَ الْهَلَكَةِ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَحِقَ بِمَكَّةَ، وَجَعَلَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ يَقُولُ لِقُرَيْشٍ فِي مَجَالِسِهِمْ: أَبْشِرُوا بِفَتْحٍ يُنْسِيكُمْ وَقْعَةَ بَدْرٍ وَجَعَلَ يَسْأَلُ كُلَّ رَاكِبٍ قَدِمَ مِنَ الْمَدِينَةِ، هَلْ كَانَ بِهَا مِنْ حَدَثٍ؟ وَكَانَ يَرْجُو مَا قَالَ: حَتَّى قَدِمَ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَسَأَلَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْهُ فَقَالَ: قَدْ أَسْلَمَ فَلَعَنَهُ الْمُشْرِكُونَ وَقَالُوا: صَبَأَ وَقَالَ صَفْوَانُ: إِنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ أَنْ لَا أنْفَعَهُ بِنَفَقَةٍ أَبَدًا، وَلَا أُكَلِّمَهُ مِنْ رَأْسِي كَلَامًا أَبَدًا، وَقَدِمَ عَلَيْهِمْ عُمَيْرٌ فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَنَصَحَهُمْ جُهْدَهُمْ وَأَسْلَمَ بَشَرٌ كَثِيرٌامام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جب مشرکین مکہ واپس لوٹے، اور اللہ تعالیٰ ان میں سے جسے چاہا قتل کر چکا تھا، تو عمیر بن وہب جمحی آ کر صفوان بن امیہ کے پاس حجر میں بیٹھ گیا، (صفوان نے) کہا: اللہ بدر کے مقتولین کے بعد کی زندگی کو تباہ کرے۔ عمیر نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! ان کے بعد زندگی میں کوئی خیر نہیں، اور اگر میرے ذمے ایسا قرض نہ ہوتا جس کی ادائیگی کی مجھ میں طاقت نہیں اور اہل و عیال نہ ہوتے جن کے لیے میں کچھ نہ چھوڑ سکوں تو میں خود محمد کے پاس جا کر اسے قتل کر دیتا، اگر وہ میری آنکھوں کے سامنے آ جاتا، اور میرے پاس اس کا ایک بہانہ بھی ہے جس سے میں بہانہ بنا سکتا ہوں، میں کہوں گا کہ میں اپنے قیدی بیٹے کے پاس آیا ہوں۔ صفوان اس کی بات سن کر خوش ہو گیا اور کہا: تمہارا قرض میرے ذمے ہے اور تمہارے اہل و عیال خرچ میں میرے اہل و عیال کی طرح ہوں گے، کوئی چیز مجھ سے تنگ نہ ہو گی اور نہ میں اس سے عاجز آؤں گا۔ چنانچہ صفوان نے اسے سواری دی اور تیار کیا، اور عمیر کی تلوار کو صیقل کروا کر اس پر زہر لگوایا۔ عمیر نے صفوان سے کہا: چند دن میرا معاملہ پوشیدہ رکھنا۔ چنانچہ عمیر روانہ ہوا یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گیا، مسجد کے دروازے پر اترا، اپنی سواری باندھی اور تلوار لے کر رسول اللہ ﷺ کا رخ کیا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، جو انصار کے کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے بدر کے واقعے اور اس میں اللہ کی نعمت کا ذکر کر رہے تھے، نے اسے دیکھا۔ جب عمر نے دیکھا کہ اس کے ساتھ تلوار ہے تو گھبرا گئے اور کہا: یہ کتا، یہ اللہ کا دشمن ہے جس نے بدر کے دن ہمارے درمیان اشتعال پیدا کیا اور دشمن کے لیے ہماری تعداد کا اندازہ لگایا۔ پھر سیدنا عمر اٹھے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یہ عمیر بن وہب ہے، تلوار حمائل کیے مسجد میں داخل ہوا ہے، یہ دغاباز اور بدکار ہے اے اللہ کے نبی! اس پر اعتبار نہ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اندر لاؤ۔“ سیدنا عمر باہر نکلے اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر بیٹھ جائیں اور جب عمیر ان کے پاس آئے تو چوکنا رہیں۔ پھر سیدنا عمر اور عمیر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، عمیر کے پاس اس کی تلوار تھی، رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر سے فرمایا: ”اس سے پیچھے ہٹ جاؤ۔“ جب عمیر قریب آیا تو کہا: “انعموا صباحا” — اور یہ زمانہ جاہلیت کا سلام تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہارے سلام سے، اے عمیر، ہمیں بہتر سلام سے نوازا ہے، ہمارا سلام جنتیوں کا سلام السلام ہے۔“ عمیر نے کہا: تمہیں اس کا علم تو ابھی حال ہی کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے ہمیں اس سے بہتر بدل عطا کر دیا ہے، تو تمہیں یہاں کیا لایا ہے اے عمیر؟“ اس نے کہا: میں اپنے قیدی کے لیے آیا ہوں جو تمہارے پاس ہے، تم تو ہمارے کنبے اور اہل ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر یہ تلوار تمہاری گردن میں کیوں ہے؟“ عمیر نے کہا: اللہ ان تلواروں کو تباہ کرے، کیا انہوں نے ہمیں کچھ فائدہ دیا؟ میں تو اترتے وقت اسے اپنی گردن میں (لٹکا) بھول گیا تھا، اور میری عمر کی قسم! مجھے اس (تلوار) کے بارے میں غیرت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سچ بتاؤ، تمہیں یہاں کیا لایا؟“ اس نے کہا: میں تو صرف اپنے قیدی کے لیے آیا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تم نے حجر میں صفوان بن امیہ سے کیا شرط طے کی تھی؟“ عمیر گھبرا گیا اور کہا: میں نے کیا شرط طے کی تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس سے یہ ذمہ داری لی کہ اگر تم مجھے قتل کر دو تو وہ تمہارے بچوں کی کفالت اور تمہارا قرض ادا کرے گا، جبکہ اللہ تمہارے اور اس کے درمیان حائل ہے۔“ عمیر نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔ یا رسول اللہ! ہم آپ کو وحی اور آسمانی خبروں کے بارے میں جھٹلایا کرتے تھے، اور یہ بات جو میرے اور صفوان کے درمیان حجر میں ہوئی تھی، بالکل ویسی ہی ہے جیسی رسول اللہ ﷺ نے فرمائی، اس پر میرے اور اس کے سوا کوئی مطلع نہ تھا، پھر اللہ نے آپ کو اس کی خبر دی، سو میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اس راہ پر لگایا۔ مسلمان اس پر خوش ہوئے جب اللہ نے اسے ہدایت دی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جس وقت یہ نمودار ہوا تھا مجھے ایک سؤر عمیر سے زیادہ پسندیدہ تھا، اور آج یہ مجھے اپنے بعض بیٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ اے عمیر، ہم تمہارے ساتھ خیرخواہی کریں گے۔“ اور اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اپنے بھائی کو قرآن سکھاؤ اور اس کا قیدی اسے آزاد کر دو۔“ عمیر نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنی پوری طاقت سے اللہ کے نور کو بجھانے کی کوشش کرتا رہا، سو تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ راہ دکھائی اور ہدایت دی، اب مجھے اجازت دیں کہ میں قریش کے پاس جاؤں اور انہیں اللہ اور اسلام کی طرف بلاؤں، شاید اللہ انہیں ہدایت دے اور ہلاکت سے بچا لے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اجازت دے دی تو وہ مکہ چلا گیا۔ صفوان بن امیہ قریش کی مجلسوں میں کہنے لگا: ایسی فتح کی خوشخبری سنو جو بدر کے واقعے کو بھلا دے گی، اور وہ مدینہ سے آنے والے ہر سوار سے پوچھتا رہا کہ کیا وہاں کوئی نئی بات ہوئی ہے، اور اسے یہی امید تھی۔ یہاں تک کہ ان کے پاس مدینہ کا ایک شخص آیا، صفوان نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: وہ مسلمان ہو گیا ہے۔ مشرکین نے اس پر لعنت کی اور کہا: یہ بےدین ہو گیا۔ صفوان نے کہا: اللہ کے لیے مجھ پر یہ لازم ہے کہ میں کبھی اسے کسی خرچ سے فائدہ نہ پہنچاؤں اور نہ کبھی اس سے کوئی بات کروں۔ عمیر ان کے پاس آیا، انہیں اسلام کی دعوت دی اور پوری کوشش سے خیرخواہی کی تو بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے۔