کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا عبداللہ بن انیس انصاری رضی اللہ عنہ کی مرویات؛ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کی سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ، وَحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَهُ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، فَخَشِيتُ أَنْ يَمُوتَ أَوْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعْهُ، فَابْتَعْتُ بَعِيرًا، فَشَدَدْتُ عَلَيْهِ رَحْلِي، ثُمَّ سِرْتُ عَلَيْهِ شَهْرًا، حَتَّى قَدِمْتُ الشَّامَ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُنَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّ، فَقُمْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، فَخَرَجَ إِلَيَّ فَعَانَقَنِي وَعَانَقْتُهُ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِيثًا بَلَغَنِي أَنَّكَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَظَالِمِ، خَشِيتُ أَنْ تَمُوتَ أَوْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يَحْشُرُ اللهُ الْعِبَادَ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ قِبَلَ الشَّامِ، عُرَاةً حُفَاةً غُرْلًا بُهْمًا» ، قَالَ: قُلْتُ: مَا بُهْمًا؟، قَالَ: «لَيْسَ مَعَهُمْ شَىءٌ وَيُنَادِي مُنَادٍ بِصَوْتٍ يَسْمَعْهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ، أَنَا الْمَلِكُ الدَّيَّانُ، لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، وَأَحَدٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَطْلُبُهُ بِمَظْلَمَةٍ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَدْخُلُ النَّارَ وَأَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَطْلُبُهُ بِمَظْلَمَةٍ، حَتَّى اللَّطْمَةِ» ، قَالَ: قُلْتُ: وَكَيْفَ وَإِنَّمَا نَأْتِي عُرَاةً غُرْلًا بُهْمًا؟، قَالَ: «الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ»
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (وہ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا:) مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے مظالم کے بارے میں ایک حدیث سنی ہے، مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں آپ وفات پا جائیں یا میں وفات پا جاؤں اس سے پہلے کہ میں اسے سن لوں۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ بندوں کو حشر میں جمع کرے گا“ -اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا- ”ننگے، ننگے پاؤں، غیر مختون اور خالی ہاتھ۔“ میں نے پوچھا: خالی ہاتھ کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”ان کے پاس کچھ نہیں ہوگا۔ اور ایک پکارنے والا اس آواز سے پکارے گا جسے دور والا بھی اسی طرح سنے گا جیسے قریب والا سنتا ہے: میں بادشاہ اور بدلہ دینے والا ہوں، کسی جنتی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ جنت میں داخل ہو جبکہ کسی جہنمی کا اس پر کوئی ظلم کا حق باقی ہو، اور کسی جہنمی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ جہنم میں داخل ہو جبکہ کسی جنتی کا اس پر کوئی ظلم کا حق باقی ہو، یہاں تک کہ ایک تھپڑ کا بدلہ بھی (لیا جائے گا)۔“ میں نے پوچھا: یہ کیسے ہوگا جبکہ ہم تو ننگے، غیر مختون اور خالی ہاتھ آئیں گے؟ فرمایا: ”نیکیوں اور برائیوں کے ذریعے (بدلہ لیا جائے گا)۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجِرَائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ، عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لِسُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ؟، يَهْجُونِي وَيَشْتُمُنِي وَيُؤْذِينِي» ، فَقُلْتُ لَهُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، ابْعَثْنِي لَهُ، فَبَعَثَهُ لَهُ، فَلَمَّا أَتَاهُ لَيْلًا دَخَلَ دَارَهُ، فَنَادَى: أَيْنَ سُفْيَانُ؟، فَاطَّلَعَ عَلَيْهِ مُطَّلِعًا مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالَ: مَا تُرِيدُ؟، قَالَ: أُرِيدُ سُفْيَانَ فَمُرُوهُ فَلْيَطَّلِعَ عَلَيَّ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِ سُفْيَانُ، فَقَالَ: مَا تُرِيدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ أَنْ تَهْبِطَ إِلَيَّ، فَإِنَّ عِنْدِي دِرْعًا أُرِيدُ أَنْ أُرِيكَهَا، قَالَ: فَأَيْنَ هِيَ؟، قَالَ: هَا هَذِهِ، فَاهْبِطْ إِلَيَّ بِقُبَابِكَ فَاخْرُجْ مَعِي أُرِيكَهَا فَخَرَجَ مَعَهُ، فَسَلَّ سَيْفَهُ فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ، فَأَخْبَرَهُ بِأَنَّهُ قَدْ قَتَلَهُ، وَمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَصًا يَتَخَصَّرُ بِهَا فَنَاوَلَهَا إِيَّاهُ، ثُمَّ قَالَ: «تَخَصَّرْ بِهَذِهِ، فَإِنَّ الْمُتَخَصِّرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَلِيلٌ» . فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَهُ حَتَّى مَاتَ، فَدُفِنَتْ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا: ”سفیان ہذلی کے بارے میں کون مجھے کافی ہے؟ وہ میری ہجو کرتا ہے، مجھے گالیاں دیتا ہے اور مجھے تکلیف پہنچاتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں، مجھے اس کے لیے بھیج دیجیے۔ آپ ﷺ نے مجھے اس کے لیے بھیج دیا۔ جب میں رات کو اس کے پاس پہنچا تو اس کے گھر میں داخل ہوا اور پکارا: سفیان کہاں ہے؟ اس کے گھر والوں میں سے کسی نے جھانک کر دیکھا اور پوچھا: کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: مجھے سفیان چاہیے، اسے کہو میرے پاس آئے۔ چنانچہ سفیان نکل کر میرے پاس آیا اور پوچھا: کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تم میرے ساتھ نیچے چلو، میرے پاس ایک زرہ ہے جو میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں۔ اس نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ میں نے کہا: یہ رہی، اپنے خیمے سے نیچے آؤ اور میرے ساتھ چلو تاکہ میں تمہیں دکھاؤں۔ چنانچہ وہ میرے ساتھ نکلا، میں نے تلوار کھینچی اور اس پر وار کیا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا (یعنی مردہ) ہو گیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ مجلس میں تشریف فرما تھے، تو میں نے آپ کو بتایا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک لاٹھی تھی جس کا سہارا لیتے تھے، آپ ﷺ نے وہ مجھے دے دی اور فرمایا: ”اس کا سہارا لو، کیونکہ قیامت کے دن لاٹھی کا سہارا لینے والے کم ہوں گے۔“ وہ لاٹھی ہمیشہ ان کے پاس رہی یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، پھر اسے (ان کے ساتھ) دفن کر دیا گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ: أَنَّ الرَّهْطَ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ لِيَقْتُلُوهُ، عَبْدُ اللهِ بْنُ عَتِيكٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيسٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ وَحَلِيفٌ لَهُمْ وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَنَّهُمْ قَدِمُوا خَيبرَ لَيْلًا: فَعَمَدْنَا إِلَى أَبْوَابِهِمْ نُغَلِّقُهَا مِنْ خَارِجٍ، قَالَتِ امْرَأَةُ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ: إِنَّ هَذَا لَصَوْتُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتِيكٍ، قَالَ: افْتَحِي، فَفَتَحَتْ، فَدَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَتِيكٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: دُونَكَ، فَذَهَبْتُ لِأَضْرِبَهَا بِالسَّيْفِ، فَأَذْكُرُ نَهْيَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ فَأَكُفُّ عَنْهَا. قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: هَذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ وَلَيْسَ بِالْجُهَنِيِّ، هَذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، الَّذِي رَوَى عَنْهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس جماعت کو رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن ابی الحقیق (یہودی) کو قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا، وہ عبداللہ بن عتیک، عبداللہ بن انیس، ابوقتادہ رضی اللہ عنہم اور ان کا ایک حلیف اور انصار میں سے ایک شخص تھے۔ وہ رات کو خیبر پہنچے۔ (عبداللہ بن انیس بیان کرتے ہیں:) ہم نے ان کے گھروں کے دروازوں کا رخ کیا اور باہر سے بند کر دیا۔ ابن ابی الحقیق کی بیوی نے کہا: یہ عبداللہ بن عتیک کی آواز ہے۔ اس نے کہا: دروازہ کھولو۔ چنانچہ اس نے دروازہ کھول دیا، تو میں اور عبداللہ بن عتیک اندر داخل ہوئے۔ عبداللہ نے کہا: اسے سنبھالو (روکے رکھو)۔ میں اسے تلوار سے مارنے ہی والا تھا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت یاد آ گئی، تو میں نے اس سے ہاتھ روک لیا۔
علی بن مدینی کہتے ہیں: یہ عبداللہ بن انیس انصاری ہیں، جہنی نہیں، یہی وہ عبداللہ بن انیس انصاری ہیں جن سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے روایت کی ہے۔
علی بن مدینی کہتے ہیں: یہ عبداللہ بن انیس انصاری ہیں، جہنی نہیں، یہی وہ عبداللہ بن انیس انصاری ہیں جن سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُقْبِلٍ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ الْعَلَّافُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُوَيِّصَةَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: «ضَرَبَ الْمُسْتَنِيرُ بْنُ رِزَامٍ الْيَهُودِيُّ وَجْهِي بِمِخْرَشٍ مِنْ شَوْحَطٍ، فَشَجَّنِي مُنَقِّلَةً، أَوْ مَأْمُومَةً، فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَشَفَ عَنْهَا وَتَفَلَ فِيهَا، فَمَا آذَانِي مِنْهَا شَىءٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن انیس انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مستنیر بن رزام یہودی نے شوحط کی لکڑی کی چھڑی سے میرے چہرے پر مارا، جس سے میرا سر پھٹ گیا، ہڈی ہلانے والا زخم یا دماغ کی جھلی تک پہنچنے والا زخم لگا۔ میں یہ زخم لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے اسے کھولا اور اس پر تھوکا، تو پھر اس سے مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔