❮
❯
حدیث نمبر: 13928
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ، وَحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَهُ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، فَخَشِيتُ أَنْ يَمُوتَ أَوْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعْهُ، فَابْتَعْتُ بَعِيرًا، فَشَدَدْتُ عَلَيْهِ رَحْلِي، ثُمَّ سِرْتُ عَلَيْهِ شَهْرًا، حَتَّى قَدِمْتُ الشَّامَ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُنَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّ، فَقُمْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، فَخَرَجَ إِلَيَّ فَعَانَقَنِي وَعَانَقْتُهُ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِيثًا بَلَغَنِي أَنَّكَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَظَالِمِ، خَشِيتُ أَنْ تَمُوتَ أَوْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يَحْشُرُ اللهُ الْعِبَادَ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ قِبَلَ الشَّامِ، عُرَاةً حُفَاةً غُرْلًا بُهْمًا» ، قَالَ: قُلْتُ: مَا بُهْمًا؟، قَالَ: «لَيْسَ مَعَهُمْ شَىءٌ وَيُنَادِي مُنَادٍ بِصَوْتٍ يَسْمَعْهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ، أَنَا الْمَلِكُ الدَّيَّانُ، لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ، وَأَحَدٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَطْلُبُهُ بِمَظْلَمَةٍ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَدْخُلُ النَّارَ وَأَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَطْلُبُهُ بِمَظْلَمَةٍ، حَتَّى اللَّطْمَةِ» ، قَالَ: قُلْتُ: وَكَيْفَ وَإِنَّمَا نَأْتِي عُرَاةً غُرْلًا بُهْمًا؟، قَالَ: «الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ»
ترجمہ

سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص کے بارے میں ایک حدیث پہنچی جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی اور میں نے وہ آپ ﷺ سے نہیں سنی تھی، تو مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں وہ وفات پا جائیں یا میں وفات پا جاؤں اس سے پہلے کہ میں اسے سنوں۔ چنانچہ میں نے ایک اونٹ خریدا، اس پر اپنا کجاوہ کسا، پھر ایک مہینہ اس پر سفر کرتا رہا یہاں تک کہ شام پہنچ گیا۔ میں سیدنا عبداللہ بن انیس انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، کھڑے ہو کر اجازت طلب کی اور کہا: جابر بن عبداللہ (آیا ہے)۔ وہ نکل کر میرے پاس آئے، مجھ سے گلے ملے اور میں ان سے گلے ملا۔ میں نے کہا: ایک حدیث ہے جس کے بارے میں مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے مظالم کے بارے میں سنا ہے، مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں آپ وفات پا جائیں یا میں وفات پا جاؤں اس سے پہلے کہ میں اسے سن لوں۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ بندوں کو حشر میں جمع کرے گا“ -اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا- ”ننگے، ننگے پاؤں، غیر مختون اور خالی ہاتھ۔“ میں نے پوچھا: خالی ہاتھ کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا: ”ان کے پاس کچھ نہیں ہوگا۔ اور ایک پکارنے والا اس آواز سے پکارے گا جسے دور والا بھی اسی طرح سنے گا جیسے قریب والا سنتا ہے: میں بادشاہ اور بدلہ دینے والا ہوں، کسی جنتی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ جنت میں داخل ہو جبکہ کسی جہنمی کا اس پر کوئی ظلم کا حق باقی ہو، اور کسی جہنمی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ جہنم میں داخل ہو جبکہ کسی جنتی کا اس پر کوئی ظلم کا حق باقی ہو، یہاں تک کہ ایک تھپڑ کا بدلہ بھی (لیا جائے گا)۔“ میں نے پوچھا: یہ کیسے ہوگا جبکہ ہم تو ننگے، غیر مختون اور خالی ہاتھ آئیں گے؟ فرمایا: ”نیکیوں اور برائیوں کے ذریعے (بدلہ لیا جائے گا)۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13928
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 132، حدیث 331